نسلہ ٹاور کو بم دھماکے سے گرانا ممکن کیوں نہیں ہے؟

سپریم کورٹ نے نسلہ ٹاور گرانے کا حکم جاری کرکے اسکے مکینوں کو تو مشکل میں ڈالا ہی لیکن کراچی انتظامیہ کے لئے اس سے بھی بڑی مشکل پیدا ہوگئی ہے جس سے ابھی تک یہ عمارت گرانے کے لئے کوئی بندوبست نہیں ہو پایا۔ کراچی انتظامیہ کیلئے سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کرتے ہوئے غیر قانونی عمارت قرار دیئے گئے نسلہ ٹاور کو بارودی دھماکوں سے گرانا درد سر بن گیا ہے کیونکہ پورے ملک میں اس مہارت کی حامل کوئی قابل قدر اور تجربہ کار کمپنی ہی موجود نہیں اور نہ ہی ماضی میں کبھی دوسرے ممالک کی طرح پاکستان میں کسی عمارت کو بم دھماکے سے گرایا گیا ہے۔
عدالتی احکامات پر شاہراہ فیصل پر واقع 15 منزلہ نسلہ ٹاور کے تمام یوٹیلٹی کنکشن منقطع کیا جانے کے بعد اس کے بیشتر مکین روتے پیٹتی عمارت خالی کر کے جا چکے ہیں، اب اس ٹاور کو سرکاری انتظامیہ نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم پر عمارت کو فوری طور پر کنٹرولڈ ایمیونیشن بلاسٹ سے مسمار کرنے کے لیے کمشنر کراچی اقبال میمن نے مختلف اخباروں میں اشتہار دیئے تھے جس کے مطابق پروپوزل جمع کروانے کی آخری تاریخ 29 اکتوبر تھی۔اشتہار میں کہا گیا کہ اس کام کے لیے ان کمپنیوں کو ترجیح دی جائے گی جو کنٹرولڈ ایمیونیشن بلاسٹ یا ڈیٹونیشن میں مہارت رکھتی ہیں۔اس کے علاوہ ان کمپنیوں میں بھی دلچسپی ظاہر کی جائے گی جو باحفاظت سائنسی طریقوں سے جلد از جلد اس عمارت کو گرا سکیں۔ البتہ ابھی تک نسلہ ٹاور کو بارود کے ذریعے مسمار کرنے کے لیے کوئی کمپنی سامنے نہیں آئی۔ ویسے بھی کراچی کی شہری انتظامیہ کا یہ موقف ہے کہ نسلہ ٹاور جس مقام پر واقع ہے وہاں اطراف کی عمارتوں، زیر زمین پانی کی لائنوں اور عمارت کے ساتھ گزرنے والے نرسری روڈ کے اہم پل کو دھماکے سے نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے ایک تحریری حکم میں نسلہ ٹاور کو گرانے کا حکم دے رکھا ہے۔ حکم میں لکھا گیا تھا کہ تمام متعلقہ اداروں کی دستاویزات کا جائزہ لینے اور ریکارڈ دیکھ کر ثابت ہو گیا کہ نسلہ ٹاور کا ایک حصہ قبضے کی زمین پر بنا ہوا ہے۔ عمارت کے مکینوں کو 27 اکتوبر تک عمارت خالی کرنے کی مہلت دی گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں بھارت سمیت دنیا بھر میں استعمال ہونے والے جدید ڈیٹونیشن کے طریقوں کو استعمال کرنے کی ہدایت کی تھی۔ البتہ یہ بھی کہا گیا کہ نسلہ ٹاور کو گرانے کے عمل میں کسی بھی قسم کا نقصان نہ ہو۔ یاد رہے کہ پڑوسی ملک بھارت میں کئی مقامی کمپنیاں کنٹرولڈ ایمیونیشن بلاسٹ کی تکنیک استعمال کر رہی ہیں۔ گذشتہ سال کیرالہ میں چار غیر قانونی سکائے سکریپرز کو بھارتی سپریم کورٹ کے حکم پر گرایا گیا۔ان عمارتوں کو گرانے میں تین مہینے کا وقت لگا جس میں 750 کلوگرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔ انہدام کے کام میں تقریباً چار سے پانچ کروڑ روپے کا خرچہ آیا تھا۔ تاہم پاکستان میں اب تک کنٹرولڈ دھماکوں کے ذریعے کسی عمارت کو گرانے کا تجربہ نہیں کیا گیا۔
واضح رہے کہ دنیا بھر میں کسی بھی اونچی عمارت کو گرانے سے قبل اس کے اطراف کا سروے کیا جاتا ہے تاکہ طے کیا جا سکے کہ عمارت کو باحفاظت کس جانب گرانا ہے۔ عمارت کس جانب گرے گی اس کا فیصلہ ہونے کے بعد عمارت کا تفصیلی جائزہ لیا جاتا ہے کہ اس میں کہاں کہاں بارودی مواد نصب کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مطلوبہ نتیجہ حاصل کیا جا سکے، یہ سب کرنے کے بعد عمارت کے پلرز میں سوراخ کر کے بارودی مواد بھرا جاتا ہے۔اب مرحلہ آتا ہے ایک بٹن دبا کر عمارت کو زمین بوس کرنے کا۔ کراچی انتظامیہ کے مطابق پاکستان میں کئی کمپنیوں کے پاس پلوں اور پہاڑوں پر بارود سے دھماکے کرنے کی صلاحیت ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ کسی اونچی عمارت اور کسی روڈ یا پل کو گرانے میں کافی فرق ہوتا ہے۔ان کا کہنا تھا اس لیےعمارتوں کا بلڈنگ کوڈ کے مطابق تعمیر ہونا ضروری ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ عمارت میں کتنے ستون اور کتنا سریا ہے۔ اس کے حساب سے طے کیا جاتا ہے کہ بلاسٹ کی صورت میں کتنے ملی سیکنڈز میں کتنے دھماکے ہوں گے۔ مگر یہ اہم معلومات نہ ہونے کے باعث نسلہ ٹاور کو بارود سے گرانا اطراف کی سڑکوں یا آبادیوں کے لیے خطرناک ہوسکتا ہے۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے مقامی انتظامیہ کو تاحال نسلہ ٹاور کا کمپلیشن سرٹیفکیٹ دیا ہے اور نہ ہی اس کا بلڈنگ کوڈ جس کے بغیر اس کو دھماکے سے مسمار کرنے کا پلان بنانا انتہائی مشکل ہوگا۔
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے انجینئر اور خطرناک عمارتوں کی کمیٹی کے رکن فرحان قیصر کے مطابق عین ممکن ہے کہ آخر میں تمام صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹاور کو بارود سے نہیں بلکہ دستی مزدوری اور ایس بی سی اے کے پاس موجود مشینوں کی مدد سے مسمار کیا جائے۔ اس عمل میں تین سے چار ہفتوں کا وقت درکار ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ اونچی عمارتوں کی بلاسٹنگ یا ڈائینامائٹ پروفنگ دنیا کے صرف 11 ملکوں میں ہوتی ہے۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی یا پاکستان کے کسی اور سرکاری ادارے کے پاس بارود سے اونچی عمارتیں گرانے کی ٹیکنالوجی موجود نہیں۔ کمشنر کراچی نے مختلف نجی کمپنیوں سے پروپوزل مانگے ہیں مگر ممکن ہے کہ آخر میں یہ کام دستی مزدوری اور موجودہ مشینری کی مدد سے کیا جائے کیوںکہ یہی سب سے محفوظ طریقہ کار ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ جج حضرات اس معاملے میں ضد دکھا رہے ہیں ورنہ اس کے مالکان کو جرمانہ کرکے نہ صرف عمارت کو بچایا جا سکتا ہے بلکہ اس کے مکینوں کو بھی بے گھر ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے ٹاور گرانے کا حکم تو دے دیا ہے لیکن اس کے مکینوں کو وی رقم کون واپس لوٹائے گا جو انہوں نے اس بلڈنگ میں فلیٹ خریدنے کے لئے دی تھی۔
تاہم اس معاملے پر کئی لوگ سپریم کورٹ کی تائید کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ نسلہ ٹاور بارے سپریم کورٹ کا حکم قانونی اعتبار سے ٹھیک ہے البتہ کچھ سوالات قانون سے ہٹ کر بھی ہیں۔ یہ سوال سماجیات اور عمرانیات سے متعلق ہیں جو معاشرے اور پارلیمان کی توجہ چاہتے ہیں۔ نسلہ ٹاور ناجائز تھا، گرا دیا جائے گا۔ یہ قانونی پہلو ہے۔ لیکن اس معا۔کے کا سماجی اور عمرانی پہلو یہ ہے کہ اس ٹاور میں کچھ ہنستے بستے خاندان بھی رہ رہے ہیں جنہوں نے اپنی جائز کمائی سے جائز طریقے سے ادائیگی کرکے یہاں اپنے لیے رہائش خریدی۔ اب ان کے گھر زمین بوس ہو جائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ ان خاندانوں پر کیا بیتے گی اور انہیں یہ سزا کس جرم میں ملے گی؟ کیا ریاست ایک ماں کی طرح اپنے شہریوں کے جائز مفادات کا تحفظ نہیں کرسکتی؟ کیا نسلہ ٹاور ایک دن میں بن گیا تھا۔ جب یہ عمارت بن رہی ہوتی ہے اس وقت ریاست کے تمام متعلقہ ادارے موجود ہوتے ہیں اور کام کر رہے ہوتے ہیں۔ عدالتیں بھی موجود ہوتی ہیں۔ پولیس بھی موجود ہوتی ہے۔ نقشے بھی منظور کیے جاتے ہیں۔ واپڈا والے بجلی کا کنکشن بھی دے دیتے ہیں اور سوئی گیس کا محکمہ گیس بھی پہنچا دیتا ہے۔ علی الاعلان سب کے سامنے ان فلیٹس کو فروخت کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔ لوگوں نے جمع پونجی اور گھر کا سونا بیچ کر یہاں فلیٹس لیے ہوں گے۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ ٹاور ناجائز تھا تو یہ بن کیسے گیا؟ بن گیا تو یہاں فلیٹس کیسے فروخت ہو گئے۔ فلیٹس فروخت ہو گئے تو وہاں بجلی اور گیس کیسے آگئے؟ اور پھر یہ نسلہ ٹاور ہی کی بات نہیں پورے پاکستان میں سب کچھ اسی ڈگر پر چل رہا ہے۔ لہذا ایسا ہوہی نہیں سکتا کہ جب نسلہ ٹاور تعمیر کیا گیا ہو تو کسی نے پیسے نہ کھائے ہوں، یقینا اوپر سے لے کر نیچے تک پوری چین نے مال بنایا ہوگا، لہٰذایا تو عدالت ایسے ”ٹاورز“ بننے سے روکے، اور اگر وہ ایسا نہیں کر سکتی تو اُسے گرانے کے بجائے نیشنلائز کردے۔ ایسا کرتے ہوئے بطور جرمانہ مالکان سے دوگنا پیسے وصول کیے جا سکتے ہیں۔ ویسے بھی سپریم کورٹ کا کام عوام کو انصاف دلانا ہوتا ہے، نہ کہ اُن پر ظلم کرنا۔
