نعیم بخاری میرٹ کی دھجیاں اڑا کر چیئرمین PTV تعینات

پاناما پیپرز لیک کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی قانونی ٹیم کی سربراہی کرنے والے نامور وکیل نعیم بخاری کو بھرتی کے قواعدوضوبط کے بر خلاف زائدالعمر ہونے کے باوجود سرکاری نشریاتی ادارے پاکستان ٹیلی ویژن کا چیئرمین بنائے جانے کا فیصلہ شدید تنقید کی زد میں آ گیا ہے۔
بظاہر عمران خان سے قربت کا دعوی کرنے والے نعیم بخاری کی تقرری جلد بازی میں کی گئی ہے کیونکہ وفاقی کابینہ نے گزشتہ ہفتے اپنے اجلاس میں ان کی تقرری کے لئے ایک سمری پر غور کیا تھا لیکن ان کی پی ٹی وی چیئرمین کی حیثیت سے تقرری کی توثیق نہیں کی تھی کیونکہ ان کی عمر 65 سال سے زائد ہے اور پی ٹی وی کا چیئرمین 65 سال سے کم عمر کا ہونا چاہیے۔ کابینہ نے وزارت اطلاعات کو ہدایت کی تھی کہ چیئرمین پی ٹی وی کی تقرری کے لیے تین ناموں پر مبنی سمری دوبارہ پیش کریں اور تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں تاکہ کل کو اس تقرری کے حوالے سے ویسے قانونی مسائل پیدا نہ ہوں جیسا کہ پچھلے چیئرمین پی ٹی وی ارشد خان کی تقرری کے معاملے میں ہوئے تھے۔ یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے 11 اپریل 2019 کو پاکستان ٹیلی ویژن کے چیئرمین ارشد خان اور بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل 6 انڈیپینڈنٹ ڈائریکٹرز کی تعیناتیاں غیر قانونی قرار دے دی تھیں۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے پی ٹی وی میں غیر قانونی تعیناتیوں کے خلاف فیصلہ سنایا تھا اور وفاقی حکومت کو قانون کے مطابق تعیناتیاں کرنے کی ہدایت کی تھی۔
فارغ ہونے والے ڈائریکٹرز میں عمران خان کے قریبی دوست میاں یوسف صلاح الدین بھی شامل تھے۔ عدالت نے ارشد خان کو آئندہ کسی عہدے پر تعینات نہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے ریماکس دیے تھے کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کے فیصلوں کو قانونی تحفظ حاصل ہو گا۔ تاہم ارشد خان نے اپنی برطرفی کے خلاف عدالت میں اپیل دائر کر رکھی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پچھلے ہفتے ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں نعیم بخاری کی بطور چیئرمین پی ٹی وی تقرری کی سمری مسترد کرتے ہوئے وزارت اطلاعات کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ارشد خان اور پی ٹی وی کے دیگر ڈائریکٹرز کو برطرف کرنے کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف اپیل کی بھرپور پیروی ہو اور پچھلے بورڈ کے برطرف شدہ ڈائریکٹرز کو نئے بورڈ میں دوبارہ شامل کیا جاسکے۔ تاہم اب وزارت اطلاعات نے اچانک وزیر اعظم کے قریبی ساتھی شہزادہ نعیم بخاری کو پی ٹی وی کا چیئرمین تعینات کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جبکہ اصولا ان کی اس عہدے پر تقرری پینسٹھ برس سے زائد کا ہونے کی وجہ سے ممکن نہیں تھی۔ نعیم بخاری کو بطور چیئرمین پی ٹی وی تعینات کرنے سے پہلے اس عہدے کے لیے بھرتی کے موجودہ قواعد و ضوابط میں عمر کے معاملے پر ترمیم ضروری تھی۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ میرٹ کا جھوٹا پرچار کرنے والے عمران خان نے بھی اسی طرح سرکاری ٹی وی میں من پسند بھرتیوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس طرح کے ماضی کی حکومتیں کیا کرتی تھیں اور وہ بھی اپنے دوستوں کو اسی طرح نوازنے میں مصروف ہیں۔ چیئرمین پی ٹی وی کے عہدے کے لیے نعیم بخاری سے زیادہ اہل افراد بھی شارٹ لسٹ کیے گئے تھے لیکن بالآخر قرعہ فال عمران کے دوست کے نام نکلا۔ یاد رہے کہ وزارت اطلاعات نے چیئرمین پی ٹی وی کی تقرری کے لیے جو سمری پیش کی تھی اس میں نعیم بخاری، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ سید وسیم رضا اور ممتاز لکھاری اصغر ندیم سید کو اصولی امیدوار نامزد کیا گیا تھا۔ تاہم ڈائریکٹرز اور پی ٹی وی کے چیئرمین کی تقرری کے لیے سمری دوبارہ جاری کرنے سے متعلق وفاقی کابینہ کے مشاہدات کے برخلاف وزارت اطلاعات نے 23 نومبر کو بذات خود نعیم بخاری کی بطور چیئرمین نامزدگی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جس میں لکھا گیا ہے کہ وفاقی حکومت شہزادہ نعیم بخاری کو پاکستان ٹیلی وژن کارپوریشن کا چیئرمین مقرر کرنے پر خوش ہے، اس نوتی فکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے بطور چیئرمین شہزادہ نعیم بخاری کی نامزدگی کی بھی منظوری دے دی ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ چیئرمین 3 سال کی مدت کے لیے اپنے عہدے پر فائز ہوگا، اور بورڈ آف ڈائریکٹرز، پی ٹی وی کارپوریشن کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ بطور چیئرمین نامزدگی کی توثیق کریں۔
