کامران خان اور مبشر لقمان کو اسرائیل کا وکیل کس نے بنایا ہے؟


اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی مبینہ ملاقات کی خبریں پاکستانی سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث کا محور بنی ہوئی ہیں اور کامران خان اور مبشر لقمان جیسے اسٹیبلشمنٹ نواز صحافی اب یہ چورن پیش کر رہے ہیں کہ وقت آگیا ہے کہ پاکستان بھی اپنی اسرائیل مخالف پالیسی پر نظر ثانی کرے اور اسے تسلیم کرنے کے بارے میں سوچے۔
گذشتہ روز اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو حال ہی میں خفیہ طور پر سعودی عرب گئے جہاں انھوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔ اس سے پہلے پاکستان کی اسرائیل سے متعلق پالیسی بارے وزیرِاعظم عمران خان کا ایک بیان بھی گردش کر رہا تھا جس میں انھوں نے کچھ ممالک کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے پاکستان پر پڑنے والے دباؤ سے متعلق بات کی تھی۔ پاکستان کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے افواہوں کو تب تقویت ملی جب اسٹیبلشمنٹ کا ماوتھ پیس سمجھے جانے والے نام نہاد صحافی مبشر لقمان نے ایک اسرائیلی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’اسرائیل ایک خواب نہیں، ایک حقیقت ہے۔ یہ ایک انتہائی اہم ملک ہے اور اسرائیلی قوم ایک عظیم قوم ہے، مجھے اس میں کوئی شکوک و شبہات نہیں ہیں، یہ مقابلہ کرنے والے لوگ ہیں اور پاکستان قوم بھی ایک عظیم قوم ہے اس لیے جب وقت آئے گا تو یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ خود ہی ہاتھ ملا لیں گے، ہمیں سعودی عرب یا امریکہ کی ضرورت نہیں ہو گی۔‘ مبشر لقمان کے علاوہ ایک اور اسٹیبلشمینٹ نواز صحافی کامران خان کی جانب سے بھی حال ہی میں ایک ٹویٹ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان کو اپنی اسرائیل مخالف پالیسی پر نظرِثانی کرنے کی ضرورت ہے۔کامران خان نے مذید کیا کہ پاکستانیوں کے لیے حرمین شریفین کے رکھوالوں یعنی سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک کی جانب سے دیا جانے والا پیغام یہ ہے کہ ’قوموں کے مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتے صرف مفادات ہوتے ہیں۔‘ لہذا پاکستان یہ فیصلے کرنے سے کیوں کترا رہا ہے؟‘لیکن پاکستانی عوام اسرائیل کو تسلیم کرنے کا چورن خریدنے پر تیار نظر نہیں آتے اور اسی وجہ سے پاکستانی سوشل میڈیا پر سعودی عرب کے علاوہ اسرائیل نامنظور کا ٹرینڈ بھی چل پڑا ہے۔ اکثر صارفین پاکستان کی اسرائیل سے متعلق پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھنا چاہتے۔
یاد رہے کہ رواں سال اگست میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے اعلان کیا تھا کہ ان کے درمیان امن معاہدے اور سفارتی تعلقات کے قیام پر اتفاق ہو گیا ہے۔ اس کے بعد امارات کے سرکاری حکم نامے کے تحت اسرائیل کے بائیکاٹ کا قانون ختم کر دیا گیا تھا جس کے بعد اماراتی باشندے اور کمپنیاں اسرائیلی باشندوں اور کمپنیوں کے ساتھ مالی لین دین، روابط اور معاہدے قائم کر سکیں گی۔ اس کے بعد اکتوبر میں پہلے بحرین اور بعد میں سوڈان نے بھی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کے قیام کا اعلان کر دیا۔ یہ تینوں معاہدے امریکہ کی زیرِ سرپرستی طے پائے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ انھیں اپنی خارجہ پالیسی کی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے میر مرتضی بھٹو کی لکھاری بیٹی فاطمہ بھٹو کا کہنا ہے کہ پاکستان نے آج تک صرف دو ممالک کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔ ایک جنوبی افریقہ کو اس وقت جب وہ ریاست نسلی عصیبت کی بنیاد پر چل رہی تھی، اور دوسرا اسرائیل جو غیرمعذرت خواہانہ طور پر نسلی عصیبت پر یقین رکھنے والی ریاست ہے۔تاہم اسٹیبلشمنٹ نواز پاکستانی صحافی جو چورن بیچ رہے ہیں اس کے مطابق پاکستان کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ اس ’غیرمنطقی تناؤ‘ کو ختم کرنے سے پاکستان کا ہی فائدہ ہو گا۔ اس سے یہ معلوم ہو گا کہ پاکستان میں دنیا کو اسی طرح دیکھنے کی قابلیت موجود ہے جیسے کہ وہ ہے، نہ کہ جیسے اسے نظریاتی افراد دیکھتے ہیں۔‘
اس موضوع پر بات کرتے ہوئے متعدد صارفین اور صحافیوں کی جانب سے زور دیا گیا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کے فیصلے سے قبل اس پر بحث ہونی چاہیے۔ ان ہی خیالات کا اظہار صحافی رضا رومی نے بھی کیا جن کا کہنا تھا کہ ’ہمارا مظلوم فلسطینیوں کے حوالے سے ایک طویل المدتی مؤقف رہا ہے اس لیے ہمیں اس پر بحث کرنے کی ضرورت ہے۔ اور ریاست رائے عامہ کو کیسے تبدیل کرے گی جب گذشتہ 73 برسوں سے اس ملک میں ہونے والے ہر غلط عمل کو یہودی یا ہندو سازش گردانا جاتا رہا ہے۔‘ یوسف نظر نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کو اسرائیل کو تسلیم کر لینا چاہیے اور اس کے ساتھ تجارتی روابط قائم کرنے چاہییں جیسے ترکی جیسے دیگر مسلمان ممالک کر چکے ہیں۔ انھوں نے لکھا کہ پاکستان کو اس دوسری دنیا سے باہر آنا ہو گا اگر یہ دنیا میں اپنا اکیلا پن اور خود کو تباہ کرنے والے تنازعات کا خاتمہ چاہتا ہے۔‘
اسی طرح عزیر یونس نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’پاکستان کے لیے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا ایک راستہ یہ ہے کہ اگر فلسطین خود یہ کہے کہ پاکستان اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں بہتری اس کے لیے اہم ہے۔ ایسے میں پاکستان میں اس حوالے سے تناؤ میں کمی لائی جا سکے گی۔ اس ضمن میں سعودی عرب پاکستان اور فلسطین کے رہنماؤں کے درمیان ملاقات پہلا قدم ہو گا۔‘تاہم اس ساری بحث سے دو بڑے سوالات جنم لیتے ہیں۔ پہلا یہ کہ کیا پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا ذہن بنا چکی ہے اور دوسرا یہ کہ کیا ایسا کرنے کامقصد صرف امریکہ کو خوش کرنا ہے یا اس سے واقعی پاکستان کو بھی کوئی فائدہ ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button