نوازشریف کی طلبی کا اشتہار ایون فیلڈ اپارٹمنٹس پر لگانے کا فیصلہ

توشہ خانہ ریفرنس میں نیب نے نواز شریف کی طلبی کا اشتہار لندن میں ایون فیلڈ اپارٹمنٹس پر لگانے کا فیصلہ کر لیا۔
نیب نے ایون فیلڈ اپارٹمنٹ میں نوازشریف طلبی کا اشتہار لگانے کے لیے وزارت خارجہ سے رابطہ کر لیا جس میں نواز کی طلبی کا اشتہار برطانوی رہائشگاہ کے باہر بھی لگانے کی ہدایت کر دی۔
وزارت خارجہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر یورپ نے پاکستانی سفارت خانے سے رابطہ کر کے عدالتی احکامات پر عمدارآمد کرانے کی ہدایت کی ہے، نیب ذرائع کے مطابق پاکستانی ہائی کمیشن یوکے کے اہلکار آج ایون فیلڈ جائیں گے اور 16،16A اور 17,17A ایون فیلڈ میں اشتہار لگائیں گے۔ 7 جولائی کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے توشہ خانہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی طلبی کا اشتہار جاری کیا تھا۔عدالت نے وزارت خارجہ کو ہدایت کی تھی کہ لندن میں موجود پاکستانی ہائی کمیشن کے ذریعے نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری پر عمل کیا جائے۔ نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا تھا کہ نواز شریف برطانیہ کے ایون فیلڈ اپارٹمنٹ میں رہائش پذیر ہیں انہوں نے عدالت کو برطانیہ کے اخبارات میں نوٹس شائع کروانے کی تجویز دی تھی۔خیال رہے کہ نواز شریف گزشتہ برس نومبر سے علاج کی غرض سے لندن میں مقیم ہیں وہ چوہدری شوگر ملز کیس اور العزیزیہ ریفرنس میں ضمانت کے بعد عدالت کی جانب سے 4 ہفتوں کی اجازت پر لندن گئے تھے۔
واضح رہے کہ 13 جولائی کو جاتی امراء میں لگایا جانے والا عدالتی اشتہارن لیگ کے ورکروں نے پھاڑ دیا تھا۔لاہور میں ان کی رہائش گاہ کے باہر لگائے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ’نواز شریف نے قومی احتساب آرڈیننس1999 کی دفعہ 9 کے اور 10 کے تحت قبل سزا جرم کیا اور اس پر وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے. اشتہار میں لکھا گیا کہ نامزد ملزم نواز شرہف کو گرفتار نہیں کیا جاسکا لہذا عدالت اس بات پر مطمئن ہے کہ ملزم اس کیس میں مفرور ہے۔
خیال رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے گزشتہ ماہ توشہ خانہ ریفرنس میں نواز شریف کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔مذکورہ ریفرنس میں سابق صدر آصف علی زرداری، سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی بھی ملزم نامزد ہیں جن پر توشہ خانہ سے لگژری گاڑیوں کے تحفے حاصل کرنے کا الزام ہے۔نیب کے ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ نواز شریف اور آصف زرداری نے کاروں کی محض 15 فیصد رقم ادا کرکے تحفے میں ملنے والی کاریں حاصل کیں اور یوسف رضا گیلانی نے ان کی اس کام میں معاونت کی۔
خیال رہے کہ احتساب عدالت میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے دائر کردہ ریفرنس کے مطابق یوسف رضا گیلانی پر پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو غیر قانونی طور پر گاڑیاں الاٹ کرنے کا الزام ہے۔اس ریفرنس میں اومنی گروپ کے سربراہ خواجہ انور مجید اور خواجہ عبدالغنی مجید کو بھی ملزم نامزد کیا گیا ہے۔ریفرنس میں کہا گیا کہ آصف زرداری اور نواز شریف نے کاروں کی صرف 15 فیصد قیمت ادا کر کے توشہ خانہ سے گاڑیاں حاصل کیں۔
بیورو نے الزام عائد کیا کہ یوسف رضا گیلانی نے اس سلسلے میں نواز شریف اور آصف زرداری کو سہولت فراہم کی اور تحائف کو قبول کرنے اور ضائع کرنے کے طریقہ کار کو غیر قانونی طور پر نرم کیا۔ریفرنس میں کہا گیا کہ آصف زرداری نے ستمبر، اکتوبر 2008 میں متحدہ عرب امارات سے مسلح گاڑیاں (بی ایم ڈبلیو 750 لی ماڈل 2005، لیکسز جیپ ماڈل (2007) اور لیبیا سے (بی ایم ڈبلیو 760 لی ماڈل 2008) حاصل کی۔مذکورہ ریفرنس کے مطابق وہ فوری طور پر اس کی اطلاع دینے اور کابینہ ٖڈویژن کے توشہ خانہ میں جمع کروانے کے پابند تھے لیکن انہوں نے نہ تو گاڑیوں کے بارے میں مطلع کیا نہ ہی انہیں نکالا گیا۔نیب ریفرنس میں الزام لگایا گیا کہ سال 2008 میں نواز شریف کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں تھا اس کے باوجود اپریل تا دسمبر 2008 میں انہوں نے اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو کوئی درخواست دیے بغیر اپنے فائدے کے لیے کابینہ ڈویژن کے تحت طریقہ کار میں بے ایمانی اور غیر قانونی طور پر نرمی حاصل کی۔
ریفرنس کے مطابق خواجہ انور مجید نے ایم ایس انصاری شوگر ملز لمیٹڈ کے اکاؤنٹس استعمال کرتے ہوئے آواری ٹاور کے نیشنل بینک کے ایک اکاؤنٹ سے 92 لاکھ روپے آصف زرداری کے اکاؤنٹ میں منتقل کیے۔اس کے علاوہ انہوں نے ایک اکاؤنٹ کے ذریعے آصف زرداری کی جانب سے ایک کروڑ 11 لاکھ 17 ہزار 557 روپے کی ادائیگی کی، ملزم نے اپنی غیر قانونی اسکیم کے سلسلے میں آصف زرداری کے ناجائز فوائد کے لیے مجموی طور پر 2 کروڑ 3 لاکھ 17 ہزار 557 روپے ادا کیے۔
دوسری جانب خواجہ عبدالغنی مجید نے آصف زرداری کو ناجائز فائدہ پہنچانے کے لیے 3 ہزار 716 ملین (371 کروڑ 60 لاکھ) روپے کی خطیر ادائیگیاں کیں۔نیب نے ان افراد پر بدعنوانی کا جرم کرنے اور نیب قوانین کے تحت واضح کی گئیں کرپٹ پریکٹسز میں ملوث رہنے کا الزام لگایا۔نیب نے عدالت سے درخواست کی کہ ان ملزمان پر مقدمہ چلا کر سخت ترین جیل کی سزا دی جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button