نواز شریف مفاہمت چھوڑکرمزاحمتی سیاستدان کیسے بنے؟

پاناما کے فیصلے کے بعد نواز شریف کی سیاست بہت تبدیل ہو گئی ہے، یہ ملک بہت تبدیل ہو چکا ہے۔ وہ باتیں جو لوگ دبی آواز میں بھی کہنے کی جرات نہیں رکھتے تھے اب ببانگ دہل ہونے لگی ہیں ، وہ نعرے جو خواب میں بھی نہ لگتے تھے وہ اب گلی گلی لگنا شروع ہو گئے ہیں۔ یہ نواز شریف کی کامیابی کی پہلی قسط ہے۔ نواز شریف نے جو سفر اختیار کیا ہے وہ رستہ کٹھن ہے مگر اس پر سفر کا آغاز ہو چکا ہے، یہ ملک تبدیل ہو چکا ہے۔ یہ سماج تبدیل ہو چکا ہے، نواز شریف تبدیل ہو چکا ہے۔ ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی اور کالم نگار عمار مسعود نے اپنے تازہ سیاسی تجزیہ میں کیا ہے۔
انکا کہنا یے کہ نواز شریف بہت بدل گیا ہے اور اس کے ساتھ ہی یہ سیاست، یہ پنجاب، یہ ملک اور یہ سماج بھی بدل گیا ہے۔ پاناما سے پہلے ہم کسی اور نواز شریف کو جانتے تھے جو آخری لمحے تک مفاہمت کی بات کرتا تھا، درمیانی حل نکالنے کی کوشش کرتا تھا، سب کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کرتا تھا، جلتی پر ٹھنڈے پانی کا چھڑکاؤ کرتا تھا، احتجاج نہیں اتفاق کی طرف مائل رہتا تھا، وہ اپنے فیصلوں میں اس وقت بھی اٹل اور حتمی تھا مگر ٹکراؤ کی راہ اختیار نہیں کرتا تھا، وہ اس وقت بھی ہٹ کا پکا تھا۔ اگر ہٹ کا پکا نہ ہوتا تو میثاق جمہوریت نہ کرتا، دنیا بھر کے دباؤ کے باوجود ایٹمی دھماکے نہ کرتا، 1999 میں فوراً استعفیٰ دے دیتا لیکن اس زمانے میں نواز شریف اس بدتر سلوک کے باوجود ٹکرائو سے اجتناب کرتا رہا۔
اب نواز شریف بہت بدل گیا ہے۔ تیسری بار وزارت عظمی سے برخاست کیے جانے کے بعد نواز شریف کی سیاست میں بڑی تبدیلی آئی ہے، وہ اب مفاہمت نہیں مزاحمت کی بات کرتا ہے، اب وہ فیصلہ کن ٹکراؤ چاہتا ہے، اب وہ درمیانی راہ کی تلاش میں نہیں بلکہ آر یا پار والی سوچ رکھتا ہے، اب اس سے یہ طعنہ نہیں سہا جاتا کہ پنجاب سے مزاحمت کی آواز نہیں اٹھتی، اب وہ یہ بہتان نہیں سن سکتا کہ پنجاب کے لیڈر قربانی نہیں دیتے، اب وہ کسی ڈیل، کسی آفر کی تلاش میں نہیں، اب وہ کسی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہتا، اب اس کو وہی عزیز ہے جو ظلم کے خلاف اپنی آواز بلند کرے، اب وہ اسی کو دوست جانتا ہے جو جبر کے خلاف سینہ سپر ہو، اب اس کے قریب وہی ہے جو تاریخ کی درست سمت دیکھے، جو اس نظام سے اختلاف کی بات کرے، انقلاب کی بات کرے۔
عمار مسعود کہتے ہیں کہ نواز شریف کے قریبی احباب کے مطابق اگر میاں صاحب چاہتے تو بہت آسانی سے چوتھی دفعہ وزیر اعظم بن سکتے تھے، بس کچھ سمجھوتے کرنے تھے، کہیں سر جھکانا تھا اور کہیں نگاہیں چرانی تھیں۔ لیکن نواز شریف نے ان احباب کا مشورہ رد۔کر دیا۔ انہوں نے خود کو کلیئر کروانے کے لیے عدالتوں کا رُخ کیا۔ وہ بہت پر امید تھے کہ جب جرم ہی کوئی نہیں کیا تو ثابت کیا ہو گا، لیکن انصاف کے در پر میاں صاحب کا گمان ایک خوش گمانی ثابت ہوا۔ اسکے بعد کا۔نواز شریف ایک اصولی موقف پر ڈٹ گیا۔ وہ چاہتا تو موٹر وے سے بھی لاہور آ سکتا تھا مگر اس نے جی ٹی روڈ کا سفر اختیار کیا۔ ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کا نعرہ بلند اور تاریخ کا پردہ چاک کیا، ستر سالوں کی کہانی لوگوں کو سنانا شروع کی، اس نے ہر وزیر اعظم کا نوحہ پڑھا، اور ہر سیاسی جماعت کی بات کی۔
عمار مسعود کے مطابق اس وقت نواز شریف کو اچھی طرح علم تھا کہ آگے کیا ہونے والا ہے، اسے ملک بدر بھی کیا جا سکتا ہے، قید تنہائی میں ڈالا جا سکتا ہے، پھانسی بھی دی جا سکتی ہے، اس کے خاندان پر آفتیں آ سکتی ہیں۔ اس کے احباب زیر عتاب آسکتے ہیں، مگر اب وہ ہر قربانی کے لیے تیار ہو چکا تھا، ہر خوف کی سرحد عبور کر چکا تھا۔ اب انصاف پر سے اس کا اعتماد اٹھ چکا تھا، وہ نیب کے انتقام سے آگاہ ہو چکا تھا۔ اس کو میڈیا ٹرائل کی وجوہات معلوم ہو چکی تھیں، پاناما کے بعد وہ سب خوش گمانیوں سے نکل چکا تھا۔ وہ اب ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کے بیانیے پر مصر ہو چکا تھا۔
نواز شریف نے اس بیانیے کا خمیازہ بھی بہت بھگتا اور قربانیاں بھی بہت دیں۔ جانتے بوجھتے بستر مرگ پر اپنی اہلیہ کو چھوڑ کر مریم نواز کا ہاتھ پکڑ کر، قید میں جانے کے لیے تیار ہو گیا۔ اسکی بیمار اہلیہ دیار ِغیر میں انتقال کر گئیں، تین دفعہ کا وزیر اعظم جیل کے سپرنٹنڈنٹ سے درخواستیں کرتا رہا کہ ایک منٹ کی بات ہی کروا دو۔ نواز شریف اہلیہ کو آخری سفر پر خدا حافظ کہنا چاہتا تھا مگر جیل سپرنٹنڈنٹ نے اعلیٰ حکام کے احکام کی تعمیل کی اور بات نہ کروائی۔ نواز شریف قید تنہائی میں رہا۔ بیٹی کو اپنے سامنے گرفتار ہوتے دیکھا، رانا ثنا ﷲ کو جھوٹے کیس میں زیرعتاب دیکھا، شاہد خاقان عباسی کو قید میں جاتے دیکھا، خواجہ آصف اور احسن اقبال کو جرم جمہوریت میں سزا بھگتتے دیکھا، والدہ کی موت کا غم سہا، مگر نا سب کے باوجود نواز شریف کے موقف میں رتی بھر تبدیلی نہیں آئی، وہ اب بھی پوری شدت کے ساتھ اپنے مطالبے پر ڈٹا ہوا ہے۔
عمار مسعود کے مطابق نواز شریف کو اب نہ تو اقتدار کی کوئی ہوس ہے، نہ چوتھی بار وزیر اعظم بننے کا شوق، وہ ڈیل چاہتا ہے نہ ڈھیل، اب نہ اسے پنجاب کی حکومت چاہیے، نہ کسی اور عہدے کا شوق ہے، وہ صرف تاریخ کا دھارا موڑنا چاہتا ہے، جبر و استبداد کے خلاف مزاحمت کی علامت بننا چاہتا ہے۔ اب وہ 74 سال کا قرض اتارنا چاہتا ہے، عوام کے مصائب کا حتمی حل چاہتا ہے۔ عمار مسعود یاد دلاتے ہیں کہ مسلم لیگ ن کبھی مزاحمت کی جماعت نہیں رہی، لیکن نواز شریف نے اس جماعت کو اب تبدیل کر دیا ہے، سر جھکا کر چلنے والے پارٹی کارکنوں کو زبان دے دی ہے، اب اختلاف کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی یے اور مزاحمت کرنے والوں کو تھپکی ملتی ہے۔ اب نواز شریف پاکستان میں صرف جمہوریت دیکھنا چاہتا ہے، ایسی جمہوریت جس میں صرف عوام کا عمل دخل ہو۔ اب وہ غیر جمہوری اداروں کی مداخلت برداشت نہیں کرتا، وہ پارلیمنٹ کی بالادستی کا تقاضا کرتا ہے، عوام کی حاکمیت کا مطالبہ کرتا ہے۔ نواز شریف نے جو سفر اختیار کیا ہے وہ رستہ کٹھن ہے مگر اس پر سفر کا آغاز ہو چکا ہے، یہ ملک تبدیل ہو چکا ہے۔ یہ سماج تبدیل ہو چکا ہے، نواز شریف تبدیل ہو چکا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button