نواز شریف کا خطاب روکنے کی کوشش کیوں ناکام ہوئی؟

کپتان حکومت نے عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے دوران نواز شریف کی تقریر سوشل میڈیا پر نشر ہونے سے روکنے کے لیے انٹرنیٹ کنکشن تو منقطع کر دیا لیکن اسکے باوجود یہ تقریر اس وقت سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ کر رہی ہے، یوں یہ بچگانہ حکومتی کوشش مکمل طور پر ناکام رہی۔ یاد رہے کہ حکومت نے سابق وزیراعظم کی تقریر مین سٹریم میڈیا پر نشر کرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ کڑی سینسرشپ کے اس دور میں پاکستانی عوام کی اکثریت مین سٹریم میڈیا سے سوشل میڈیا پر منتقل ہوگئی ہے۔ دوسری جانب عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے منتظمین نے نواز شریف کی تقریر کے دوران انٹرنیٹ کنکشن منقطع کرنے کے حکومتی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے آزادی اظہار رائے پر ایک بزدلانہ اور فاشسٹ حملہ قرار دیا ہے۔
لاہور میں منعقدہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے دوران نواز شریف نے ویڈیو لنک کے ذریعے اپنی تقریر کا آغاز کیا ہی تھا کہ اس دوران انٹرنیٹ سروسز منقطع ہونے کے سبب ان کے خطاب کا سلسلہ اچانک منقطع ہو گیا۔ عاصمہ جہانگیر کی بیٹی اور منتظمین میں سے ایک منیزے جہانگیر نے تصدیق کی کہ نواز شریف کا خطاب شروع ہونے کے فوراً بعد براڈ بینڈ انٹرنیٹ سروسز اور موبائل انٹرنیٹ معطل کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے نواز شریف کی تقریر روکنے کے لیے ریاست کی جانب سے اختیار کیے گئے رویے پر افسوس کا اظہار کیا اور بتایا کہ آواری ہوٹل لاہور میں منعقدہ تقریب میں انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والوں کو کانفرنس کے اختتام سے دو گھنٹے قبل اور نواز شریف کی تقریر کے آغاز سے چند لمحے قبل انٹرنیٹ سروسز کی فراہمی سے روک دیا گیا تھا۔تاہم ویڈیو کال منقطع ہونے کے بعد منتظمین نے نواز شریف کے ٹیلی فونک خطاب کا متبادل انتظام کیا اور انہوں نے دوبارہ سے تقریر شروع کی۔ نواز شریف کی یہ تقریر اس وقت سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ کر رہی ہے۔
اپنے خطاب کے دوران نواز شریف نے بھی تقریر روکنے کے لیے اپنائے گئے ہتھکندوں کی مذمت کی۔ نواز شریف کا کہنا تھا اگر سوالات کرنے والوں کی زبان کھینچ لی جائے گی تو اس سے ملک کے مسئلے حل نہیں ہوں گے، آج بھی تاریں کاٹ کر زبان بندی کی بھونڈی کوشش کی گئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا سوال کرنے والوں کو اٹھا لینے اور غائب کر دینے سے کیا سوالات ختم ہو جائیں گے۔ نواز شریف نے کہا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سب سر جوڑ کر بیٹھیں، کیونکہ ہم مزید تاخیر کے متحمل نہیں ہو سکتے، پوری قوم اس پر عمل کا مطالبہ کر رہی ہے تاکہ قوم کو اس گہری کھائی سے نکالا جا سکے۔
نواز شریف نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر تمام عمر عدل و انصاف اور حق و سچ کی جنگ لڑتی رہیں، یہ کہنا غلط نہیں ہو گا، وہ بلاخوف سچ کہنے والی بہادر خاتون تھیں۔انہوں وکلا برادری کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، عدلیہ کی آزادی کی جدوجہد ہو یا آزادی اظہار رائے خطرے میں ہو، وکلا برادری ہراول دستہ بن کر میدان میں موجود رہی ہے اور آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں وہ بدقسمتی سے تاریخ کا فیصلہ کن موڑ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ قوم میں گہری ہوتی مایوسی اور بے بسی اس وقت سب سے خطرناک پہلو ہے، تاریخ گواہ ہے جب قومیں مایوسی کے دلدل میں دھنستی ہیں تو پھر اس قوم کی بقا کے سوالات جنم لینا شروع ہو جاتے ہیں.
مسلم لیگ(ن) کے قائد نے کہا کہ آج 74 سالوں کے بعد قوم پھر سے سوالات اٹھا رہی ہے اور آج پاکستان کے 22 کروڑ عوام کو یہ جوابات درکار ہیں، اگر عوام کو ان کے بنیادی سوالات کے جواب نہیں ملے گا تو مسائل حل نہیں ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا اگر سوالات کرنے والوں کی زبان کھینچ لی جائے گی تو اس سے ملک کے مسئلے حل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور آزادی اظہار رائے اور انسانی حقوق کے حوالے سے سیاہ ترین دور ثابت ہوا ہے، سیاسی مخالفین، سیاسی کالم نگار یا سچ بولنے والی کوئی بھی آواز ہو تو اس کو اپنے سوال کی پاداش میں غائب یا قید کردیا جاتا ہے، گولیاں ماری جاتی ہیں، پروگرام یا کالم کی اشاعت بند ہو جاتی ہے یا پھر نوکری سے نکلوا دیا جاتا ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ ایسے سیاہ قوانین تیار کیے گئے، جن کا مقصد سچ بولنے کی زبان بند کرنا ہے اور یہ ہم نے اپنی آنکھوں سے حال ہی میں دیکھا ہے، یہاں آئین ٹوٹتے ہیں، قانون یہاں ٹوٹتے ہیں، عدالتیں یہاں ٹوٹتی ہیں اور من پسند ججوں سے اپنی مرضی کے فیصلے یہاں لیے جاتے ہیں، آمروں کو قانونی حیثیت یہاں ملتی ہے اور ریاست کے اوپر ریاست یہاں چلائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں سیاسی انجینئرنگ کی فیکٹریاں لگائی جاتی ہیں، ووٹ کو یہاں عزت نہیں ملتی، آر ٹی ایس یہاں بند ہوتا ہے، ووٹ چوری ہوتا ہے، منتخب حکومتوں کے خلاف دھرنے کیے بھی جاتے ہیں اور کروائے جاتے ہیں، حکومتیں بنائی اور گرائی جاتی ہیں اور پارلیمنٹ کی خودمختاری کا حال یہ ہے کہ چند منٹوں میں درجنوں قوانین بلڈوز کیے جاتے ہیں جیسے دو دن پہلے ہوا ہے۔
نواز شریف نے کہا کہ یہ اسباب ہمارے زوال کا باعث بنے ہیں اور پھر کہا جاتا ہے کہ دنیا ہم پر پابندیاں کیوں لگاتی ہے، کٹہرے میں کیوں کھڑا کرتی ہے، دنیا میں ہمارے کردار پر سوال کیوں اٹھائے جاتے ہیں، سیاستدان یا میڈیا نہیں، بلکہ آج جج بھی سچ بولے تو نوکری سے ہاتھ دھونے پڑتے ہیں، کیا یہ ہم سب کے لیے فکر کا مقام نہیں کہ آج جج بھی سچ کے متلاشی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ججوں پر دباؤ اور بلیک میلنگ سے اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف فیصلے لیے جاتے ہیں، اخباروں میں شہ سرخیاں شائع ہو رہی ہیں کہ کیسے اعلیٰ عدلیہ کے جج ٹیلیفون کال کے ذریعے سزائیں دلوانے اور پھر ضمانت نہ دینے کے حکم صادر کرتے ہیں، اگر انصاف کی کرسی پر بیٹھنے والے منصف ہی ناانصافی کریں گے تو پھر معاشرہ اور ملک کیونکر تباہ و برباد نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ کیا انصاف کی کرسی پر بیٹھنے والوں کو یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ پاکستان کی عدلیہ بین الاقوامی انصاف کے انڈیکس میں کہاں کھڑی ہے، کیا ہم نے مارشل لا کو قانونی حیثیت نہیں دی، کیا ہم نے فوجی آمروں پر پارلیمنٹ کو توڑنے کے بعد اسے کبھی بحال کیا، کیا ہماری عدالتوں نے فوجی آمروں کو آئین میں ترمیم کی اجازت نہیں دی، یہ سب کچھ ہمارے سامنے ہوتا رہا ہے۔
مسلم لیگ(ن) کے قائد نے کہا کہ آئین ہماری حدود کا تعین کرتا ہے اور ہمارے مسائل کے حل کی یہی چابی ہے، آئین نے لکیر کھینچ دی ہے کہ ذمے داری کیا ہے اور اسے کسے نبھانا ہے، اس سے بڑی بدنصیبی کیا ہو گی کہ اس ملک میں آمروں نے سرعام یہاں تک کہہ دیا کہ آئین کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے جسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنا محاسبہ کر کے کہیں نہ کہیں سے شروعات کرنا ہو گی، اب یہ پاکستان کی بقا اور سلامتی کا معاملہ ہے اور آئین دوٹوک بات کرتا ہے کہ مقدس وہی ہے جو آئین کی پاسداری کرے اور آئین کی دیواریں پھلانگے وہ مقدس نہیں آئین کا مجرم ہے، ملک اور آئین کا غدار ہے، اگر ہم نے اپنی اصلاح نہ کی تو ہمارا مستقبل بہت تاریک ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ہم سب کو مل کر ایک قومی بیانیے پر متفق ہونے کی ضرورت ہے، آئین کی پاسداری، اس کے ساتھ وفاداری اور اس کی روشنی میں اپنی حدود میں رہ کر فرائض کی بجا آوری ہی ہمارے مسائل کا حل ہے اور اس کے لیے وکلا برادری، دانشور، جمہوریت پسند، میڈیا، سول سوسائٹی، انسانی حقوق کی تنظیمیں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کے 22 کروڑ عوام کا حق ہے کہ ان کو مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی تباہی سے نجات ملے، انہیں صحت، انصاف اور تعلیم کے بنیادی حقوق میسر آئیں اور یہ کسی بھیک یا احسان کی صورت میں نہیں بلکہ اپنے حق کے طور پر ملیں۔
مسلم لیگ(ن) کے رہنما نے کہاکہ دنیا میں وقوع پذیر حالات پکار پکار کر دہائیں دے رہے ہیں کہ ہم اپنی اصلاح کریں، اسی لیے میں نے بار بار کہا کہ ہمیں اپنے گھر کو درست کرنا چاہیے، اپنی آنکھیں کھولنی چاہئیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے خلاف ڈان لیکس کا ڈرامہ رچایا گیا، جھوٹے مقدمات بنا کر سزائیں دلوائی گئیں اور پھر آپ نے دیکھا کہ کس طرح سے رسوا کیا گیا، اب ہمیں پاکستان اور آئین و قانون اور جمہوریت کی حکمرانی کی خاطر ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا ہو گا، ایک قومی ایجنڈا بنانا ہو گا اور اسے قومی تحریک کی شکل دینی ہو گی۔ انہوں نے تجویز دی کہ اس کانفرنس میں دی گئی تجاویز کی روشنی میں فوری حکمت عملی مرتب کی جائے، سب لوگ سر جوڑ کر بیٹھیں اور حکمت عملی اپنائیں تاکہ ایک عملی جدوجہد کی راہ اپنائی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم مزید تاخیر کے متحمل نہیں ہو سکتے، اس کام کو آج ہی بیٹھ کر کیا جائے تاکہ جو کچھ پوری قوم کہہ رہی ہے اس پر عمل شروع کیا جائے اور قوم کو اس گہری کھائی سے نکالا جا سکے، اگر ایسا نہ ہو سکا تو ملک کو اس کھائی سے نکالنا ناممکن ہو جائے گا اور تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔
