نواز شریف کو ان کی اپنی جماعت میں غیر فعال کرنے کی سازش

معروف لکھاری اور کالم نگار عطاء الحق قاسمی نے کہا ہے کہ نواز لیگ کے متوالے صرف اور صرف نواز شریف کو اپنا پارٹی قائد مانتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں غیر فعال کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ ایسے میں نواز شریف کے پیروکار چاہتے ہیں کہ وہ سازش کرنے والے عناصر کی ابھی سے چھانٹی کر دیں تا کہ آگے چل کر زیادہ مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اگلے الیکشن اب قریب ہیں جن میں کھوٹے اور کھرے کا فرق خودبخود پتہ چل جائے گا۔
عطا الحق قاسمی اپنی تازہ تحریر میں کہتے ہیں کہ میرا ایک دوست 32 سال سے پٹواری ہے، وہ نواز شریف کو مرشد اور میاں شہباز شریف کو زبردست منتظم مانتا ہے، بلکہ شہباز شریف سے اسکی دوستی زیادہ تھی، دونوں جب اکیلے ملتے تو گپ شپ کے دوران ایک دوسرے کے ہاتھ پہ ہاتھ مار کر ہنستے بھی تھے۔ چند روز قبل موصوف مجھے ملے تو میں نے انہیں بہت مایوس پایا، وجہ پوچھی تو کہنے لگےکہ میں نے ہردور میں پی ایم ایل این کی سپورٹ کی وجہ سے گالیاں بھی سنیں اور بہت سزائیں بھی بھگتیں، لیکن اب جب سے مسلم لیگ دوبارہ اقتدار میں آئی ہے نواز شریف سے ملنے کو بہت جی چاہتا ہے مگر مجھ ’’پٹواری‘‘کے پاس لندن کا کرایہ نہیں۔ البتہ انہیں دیکھنے اور ان سے باتیں کرنے کو ترستا ہوں،مگر ان کی پاکستانی قیادت مجھے پہچانتی ہی نہیں، جو لوگ اقتدار سے محرومی کے دوران مجھے ’’استادِ محترم‘‘ کہتے تھے وہ اب میرا فون بھی نہیں سنتے۔ میرے پاس روزانہ کئی لوگ جو عمرانی دور میں سخت دن گزار چکے تھے، اپنے چھوٹے موٹے سو فیصد جائز کام کروانے کے لئے آتے ہیں مگر میں شرمندگی کی وجہ سے انہیں اصلی بات بتانے کی بجائے کوئی کمزور سا بہانہ بنا کر ان سے معذرت کرلیتا ہوں۔
بقول قاسمی، انکے دوست نے انہیں بتایا کہ اس حکومت کے قیام کے بعد میری شہباز شریف سے دو تقاریب میں ملاقاتیں ہوئیں، لیکن نہ تو انہوں نے مجھ سے ملنے کی شکایت کی اور نہ ہی میں نے ان سے کوئی گلہ کیا۔ حالانکہ مجھ پر جو مقدمے قائم ہوئے تھے وہ ابھی تک قائم ہیں۔
عطاالحق قاسمی بتاتے ہیں کہ میں اس دوست کی باتیں سن کر بہت حیران ہوا بلکہ پریشان ہوا کیونکہ میرے ساتھ تو ان کے روابط ویسے ہی ہیں، شہباز صاحب لاہور آتے ہیں تو ہمیشہ کی طرح فون کرتے ہیں، کھانے پر بلاتے ہیں، ان کے وزراء بھی ابھی تک میرے ساتھ ویسی ہی محبت کرتے ہیں جیسی وہ اپوزیشن کے دوران کیا کرتے تھے۔ کل خواجہ سعد رفیق سے ملاقات ہوئی جو ایم اے او کالج میں میری پروفیسری کے دوران وہاں طالب علم تھے۔ وہ اس وقت بھی بہت بہادر تھے، آج بھی بہت بہادر ہیں، پہلے بھی دل کی بات اپنی قیادت کے ساتھ کھل کر کرتے تھے آج بھی کرتے ہیں۔ آخر خواجہ رفیق شہید کے بیٹے ہیں۔ چنانچہ مجھے کوئی حیرت نہ ہوئی جب ملنےپر انہوں نے مجھ سے اتنی ’’گھٹ‘‘ کے ’’جپھی‘‘ ڈالی کہ میں نے ہنستے ہوئے انہیں خود سے جدا کیا۔ خواجہ آصف پڑھے لکھے آدمی ہیں مجھے حیرت ہوئی کہ انہیں اردو ادب سے گہرا شغف ہے۔ایک بار دوبئی میں ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بڑی دیر تک فراز کی شاعری اور زندگی پر گفتگو کی۔ میرے خیال میں ’’کچھ شرم کرو، کچھ حیا کرو‘‘ والی بات انہوں نے یوتھیوں سے کچھ اس انداز میں کہی تھی کہ خود یوتھیے بھی اس کا مزہ لیتے ہیں۔
عطاء الحق قاسمی کہتے ہیں کہ ایک شخص ہے جس کا نام پرویز رشید ہے۔ کیا کمال کا آدمی ہے، سزائیں تو میرے تقریباً سب دوستوں نے عمرانی دور میں کم یا زیادہ سہی ہوں گی مگر جو ظلم وستم پرویز رشید کیساتھ ہوئے وہ خدا کسی دشمن کے نصیب میں بھی نہ کرے۔ اس وقت ان کے پاس پارٹی کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے، یقیناً ان سے کوئی غلطی ہوئی ہو گی جسکے باعث انہیں اب تک معافی نہیں ملی مگر وہ آج بھی دل وجان سے مسلم لیگ (ن) کے یک طرفہ دست و بازو ہیں، ان سے مہینے میں ایک آدھ بار ضرور ملاقات ہوتی ہے جس کی خوشی برسوں تک دل میں رہتی ہے۔
قاسمی کہتے ہیں کہ جب میں نے یہ سب باتیں اپنے اس دوست کو بتائیں جس کا کہنا ہے کہ پارٹی اسے بھول چکی ہےتو وہ بولا کہ ’’یار مگر میں نے تمہیں جو کچھ بتایا ہے وہ اگرچہ بالکل صحیح ہے مگر میں اس سب کے باوجود نواز شریف کا عاشق تھا، ہوں اور آئندہ بھی رہوں گا۔ مجھے کسی کے لفٹ کروانے یا نہ کروانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ پارٹی کے قائد صرف اور صرف نواز شریف ہیں۔ باقی کچھ ایسے لوگ ہیں جو اس وقت مصلحت کے سبب ان کے ساتھ ہوں گے مگر نواز شریف کو چاہئے کہ جو لوگ انہیں انکی اپنی جماعت میں غیر فعال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کی چھانٹی ابھی سے کر دیں تا کہ آگے چل کر مزید مشکلات نہ کھڑی ہوں۔ لیکن قاسمی کا کہنا ہے کہ اگلے الیکشن قریب ہیں، جن میں کھوٹے اور کھرے کا فرق خودبخود پتہ چل جائے گا۔
