نواز شریف 24 نومبر کے بعد کن مسائل میں گھرنے والے ہیں؟

اپنی والدہ کی اچانک وفات کے صدمے سے دوچار سابق وزیراعظم نواز شریف کے لئے آنے والے دنوں میں نئی پریشانیاں کھڑی ہونے جا رہی ہیں کیونکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے انہیں عدالت میں پیش ہونے کے لیے دی گئی آخری مہلت 24 نومبر کو ختم ہو رہی ہے۔ اگر نواز شریف 24 نومبر تک عدالت میں پیش نہ ہوئے تو انہیں اشتہاری قرار دیا جائے گا جس کے بعد وہ عدالت میں اپنا موقف پیش کرنے کے حق سے محروم ہو جایئں گے۔
یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم نوازشریف کو پانامہ ریفرنسز میں سزا کے خلاف دائر اپیلوں میں اشتہاری قرار دینے کا کاروائی شروع کر رکھی ہے۔ اس سے قبل اسلام آباد کی احتساب عدالت نے توشہ خانہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم کو اشتہاری قرار دیا تھا۔ بیشتر قانونی ماہرین کا خیال یے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے نوازشریف کو اشتہاری قرار دیے جانے کے بعد وہ عدالت میں سماعت کا حق کھو دیں گے جس کا ان کو نقصان ہی نقصان ہے چونکہ ان کی خود کو نااہل قرار دینے کی سزا کے خلاف کی گئی اپیل بھی عدالتوں میں زیر التوا ہے۔ ہے۔
سابق وزیر قانون اور سینیئر قانون دان خالد رانجھا کا کہنا ہے کہ کسی بھی شخص کو اشتہاری قرار دینے کا سب سے بڑا نقصان یہی ہے کہ وہ عدالت میں اپنا موقف پیش کرنے کا حق کھو دیتا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ نواز شریف کی غیر موجودگی میں بھی ان کے خلاف شواہد اور گواہ ریکارڈ ہوسکتے ہیں لیکن اس پر نوازشریف کے وکیل جرح نہیں کر سکتے اور عدالتی کارروائی یک طرفہ معاملہ ہوگا۔ خالد رانجھا سمجھتے ہیں کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے پانامہ ریفرنسز میں سزاؤں کے خلاف اپیلوں پر بھی سماعت اس وقت تک ممکن نہیں جب تک درخواست گزار خود کو عدالت کے سامنے سرینڈر نہ کردیں۔
تاہم سابق اٹارنی جنرل انور منصور ان سے متفق نظر نہیں آتے۔ ان کے مطابق نوازشریف کی جانب سے دائر سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے۔ انور منصور خان نے بتایا کہ تکنیکی طور پر نیب کیسز میں عدم موجودگی کی صورت میں بھی سماعت ممکن ہے تاہم اپیلوں پر سماعت جاری رکھنے یا جب نواز شریف خود کو عدالت کے سامنے پیش کر دیں اس وقت اپیلوں پر سماعت کی جائے یہ فیصلہ عدالت نے کرنا ہے۔
نیب کے سابق سپیشل پراسیکیوٹر عمران شفیق کہتے ہیں کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی اپیلوں پر سماعت جاری رہے گی لیکن نواز شریف کے وکیل عدالت میں پیش نہیں ہوسکیں گے اور عدالت میرٹ پر اپیل کو دیکھ کر فیصلہ کر سکتی ہے۔ عمران شفیق کے مطابق اشتہاری قرار دیے جانے کے بعد سابق وزیراعظم عدالت میں اپنا موقف پیش کرنے کے حق سے محروم ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ‘نواز شریف کی اپیلوں پر عدالت اپنی معاونت کے لیے کسی وکیل کی خدمات تو لے سکتی ہے لیکن نوازشریف اب سماعت کا حق کھو چکے ہیں عدالت ان کے وکیل کو نہیں سنے گی اپنی معاونت کے لیے اگر کسی وکیل کی خدمات لینا چاہے تو عدالت لے سکتی ہے۔‘
انور منصور خان کے مطابق سابق وزیراعظم کے پاس خود کو عدالت کے سامنے ‘سرینڈر’ کرنے کے علاوہ کوئی قانونی راستہ موجود نہیں۔ ان کے خیال میں ’سابق وزیر اعظم کے پاس قانونی آپشن اب یہی ہے کہ وہ پاکستان آکر اپنے آپ کو سرینڈر کریں اور اشتہاری قرار دینے کے فیصلہ کو چیلنج کریں اس کے علاوہ تو ان کے پاس کوئی آپشن موجود نہیں ہے۔‘ انور منصور کے مطابق ’سابق وزیراعظم نواز شریف کو عدالت کی جانب سے اشتہاری قرار دینے کے بعد پاکستان کے پاس اب آپشن موجود ہے کہ عدالتی فیصلے کو برطانوی حکومت کے سامنے رکھا جائے اور ان کو واپس لانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ’پاکستان اگر یہ ثابت کر دیتا ہے کہ نوازشریف ایک مجرم ہیں اور یہ معاملہ سیاسی نہیں بلکہ وہ عدالت سے مجرم قرار دیے گئے ہیں، تو اسی بنیاد پر پاکستان برطانیہ کی عدالت میں بھی درخواست دے سکتا ہے۔‘
عمران شفیق کا کہنا ہے کہ نواز شریف کو وطن واپس آنے کے لیے عدالت سے راہداری ضمانت کے لیے رجوع کرنا ہوگا۔ انکا۔کہنا یے کہ نواز شریف اگر پاکستان واپس آنے پر فوری طور پر گرفتاری سے بچنا چاہتے ہیں تو وہ راہداری ضمانت کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں، اور وہ عدالت میں پیش ہو کر اپنی میڈیکل رپورٹس کے ذریعے عدالت کو مطمئن کر سکتے ہیں کہ میرے لیے پاکستان واپس آنا ممکن نہیں تھا۔‘ تاہم سابق اٹارنی جنرل انور منصور کے خیال میں نوازشریف کو راہداری ضمانت کی درخواست دینے کا آپشن بھی موجود نہیں رہا کیونکہ نوازشریف کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جاچکے ہیں اور وہ عدالت سے سزا یافتہ ہیں۔ انکا کہنا یے کہ نواز شریف کے خلاف عدالت کا فیصلہ آچکا ہے اور وہ مجرم ہیں۔ کہیں بھی ان کے خلاف فیصلے کو کالعدم قرار نہیں دیا گیا اس لیے وہ سزا یافتہ ہیں اس لیے راہداری ضمانت کا آپشن بھی ان کے پاس ختم ہو چکا ہے۔
خالد رانجھا کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف کو ہر صورت میں خود کو عدالت کے سامنے پیش کرنا ہوگا ورنہ انہیں عدالت سے کسی قسم کا کوئی ریلیف نہیں مل سکتا۔ راہداری ضمانت لینے کا حق اس وقت تک موجود تھا جب تک ان کے وارنٹ گرفتاری جاری نہیں ہوئے تھے اب وہ پاکستان آمد پر پہلے گرفتاری دیں گے اور پھر عدالت سے کسی قسم کی ضمانت کے لیے رجوع کر سکتے ہیں۔
