نواز لیگ میں مفاہمتی اور مزاحمتی بیانیے کی جنگ تیز

پیپلز پارٹی کی قیادت پر اسٹیبلشمینٹ کے ساتھ ڈیل کی کوششوں کا الزام لگانے والی مسلم لیگ نواز اسوقت خود اس کشمکش میں مبتلا ہے کہ وہ بدلتے ہوئے سیاسی حالات میں نواز شریف اور مریم نواز کا مزاحمتی بیانیہ ہی آگے بڑھائے یا شہباز شریف اور حمزہ شہباز والا مفاہمتی بیانیہ اپنا لے جیسا کہ آصف زرداری نے کیا ہے۔
نون لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ حمزہ شہباز کے جیل سے باہر آ جانے کے بعد اب شہباز شریف کے بھی ضمانت پر رہائی کے واضح امکانات ہیں جسکے بعد مسلم لیگ نواز میں مزاحمتی اور مفاہمتی بیانیے لیکر چلنے والوں کی باہمی کشمکش عروج میں تیزی آنے کا خدشہ ہے۔ ذرائع کے مطابق مفاہمتی بیانیہ لے کر چلنے والوں کا موقف ہے کہ شہباز شریف کی نیب کے ہاتھوں دوبارہ گرفتاری کی بنیادی وجہ نواز شریف اور مریم نواز کا سخت ترین فوجی قیادت مخالف بیانیہ تھا جس کے کوئی مثبت نتائج سامنے نہیں آئے بلکہ اس کا الٹا نقصان ہوا ہے اور نواز لیگ کی سیاسی آپشنز مزید محدود ہو گئی ہیں جسکا فائدہ اب پیپلزپارٹی اٹھا رہی ہے۔ مفاہمتی دھڑے کا یہ بھی گلہ ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز کے فوجی قیادت مخالف بیانیے کی ہی وجہ سے فوجی اسٹیبلشمنٹ بھی ڈٹ کر عمران خان کے ساتھ کھڑی ہوگئی چونکہ دونوں کا مفاد مشترک ہو گیا تھا۔ تاہم دوسری جانب نواز لیگ میں مزاحمتی دھڑے کا موقف یہ ہے کہ دراصل شہباز شریف کی گرفتاری ان کے مفاہمتی بیانیے کی ناکامی تھی اور انہیں یہ بات سمجھ لینی چاہیئے کہ انکا سیاسی مستقبل اب مزاحمتی بیانیے سے وابستہ ہے۔

تاہم پیپلز پارٹی والوں کا موقف ہے کہ نواز شریف3 کی بھی اسٹبلشمنٹ سے کوئی لڑائی نہیں اور وہ بھی شہباز شریف والی ہی سیاست کے امین ہیں، مسئلہ صرف اتنا ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کو اپنے ساتھ ڈیل پر مجبور کرنے کے لیے فوجی قیادت مخالف بیانیہ لے کر چلے تھے جس کے نتائج ابھی تک سامنے نہیں آئے حالانکہ اس بیانیے کا مقصد فوج کو مذاکرات پر مجبور کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں۔
پیپلز پارٹی والوں کا کہنا ہے کہ نواز شریف یا مریم نواز کی جانب سے ان کی جماعت پر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ چلنے کا الزام لگا کر تنقید کرنا جائز نہیں کیوں کہ خود نواز لیگ بھی پس پردہ اسٹیبلیشمنٹ سے سیاسی معاملات طے کرنے کی کوشش میں مصروف یے۔ آصف زرداری کے قریبی حلقے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ میاں صاحب عدالت سے سزا سنائے جانے کے باوجود جیل سے نکل کر لندن بھی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ایک ڈیل کے نتیجے میں پہنچے تھے لہذا پیپلز پارٹی پر ڈیل کا الزام لگانے والوں کو پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔

دوسری جانب سیاسی تجربہ کاروں کا کہنا ہے کہ
مسلم لیگ نون کے ساتھ جو کچھ پیپلز پارٹی نے کیا وہ یقینی تھا۔ جو لوگ بھی سیاست کا سمجھ بوجھ یاسیاسی ادراک رکھتے ہیں ان کو اندازہ تھا کہ یہ دونوں سیاسی قوتیں ایک دوسرے کو سیاسی طور پر استعمال کر کے اقتدار کی سیاست میں حصہ داری چاہتی ہیں۔ اس لیے اب مسلم لیگ نون پیپلز پارٹی کے خلاف جو سیاسی ماتم کر رہی ہے وہ اس کی سیاسی ناتجربہ کاری اور جذباتیت پر مبنی سیاست کا نتیجہ ہے۔ نواز لیگ کی ناکامی یہ ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کے سیاسی کارڈ اور اسکی سیاسی چالوں کو سمجھنے سے قاصر رہی ہے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ مسلم لیگ نون کو پی پی پی سے جو سیاسی دھچکہ لگا ہے اس پر اسکا ردعمل جائز ہے لیکن مستقبل میں کچھ ایسا ہی دھچکا ان کو مولانا فضل الرحمن سے بھی مل سکتا ہے، کیونکہ اگر پیپلز پارٹی پی ڈی ایم کو اپنے سیاسی حق میں استعمال کر سکتی ہے تو یہ ہی کام مولانا فضل الرحمن بھی کر سکتے ہیں۔

اتحادی سیاست کا عملی تجربہ یہ ہی بتاتا ہے کہ سیاسی جماعتیں اتحاد کے مقاصد سے زیادہ اپنے جماعتی یا ذاتی مفادکو اہمیت دیتے ہیں۔ بہرحال پیپلز پارٹی کے سیاسی کارڈ کھیلنے کے بعد اب کافی حد تک مسلم لیگ نون جوابی سیاسی حکمت عملی کے تحت خود کو حقیقی حزب اختلاف اور سیاسی سول بالادستی کی جنگ کے بیانیہ سے جوڑ رہی ہے۔ نواز لیگ کے بقول وہ پیپلز پارٹی کے بغیر بھی یہ سیاسی جنگ لڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ مسلم لیگ نون کا مسئلہ یہ ہے کہ اگر وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ پی ڈی ایم میں رہتی ہے یا اس کے ساتھ چلتی ہے تو اسے یقینی طور پر اپنی مزاحمت کی سیاست کو مفاہمت کے انداز میں تبدیل کرنا ہوگا کیونکہ ایسی صورت میں پیپلز پارٹی کا مفاہمتی کارڈ زیادہ غالب ہوگا۔ لیکن اگر مسلم لیگ نون کو پیپلز پارٹی کے بغیر پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے اپنی حکومت مخالف تحریک چلانی ہے تو اس حوالے سے ان کا بڑا انحصار مولانا فضل الرحمن پر ہوگا۔ لیکن اس کے نتیجے میں خدشہ یہ بھی ہے کہ پیپلز پارٹی خود کو حقیقی حزب اختلاف کے طور پر پیش کرنے کے لیے کچھ چھوٹی جماعتوں کو ساتھ ملا کر متبادل حزب اختلاف کے طور پر سامنے آ جائے۔

مسلم لیگ نون نے اگر اپنی جماعتی سیاسی طاقت کی بنیاد پر ”بیانیہ کی جنگ“ لڑنی ہے تو اس کا ایک بڑا مسئلہ اس کا اپنا جماعتی داخلی بحران ہے جسکی بنیادی وجہ مزاحمتی اور مفاہمتی بیانیے کی کشمکش ہے۔ اگرچہ مسلم لیگ نون متحد ہے اور اس میں کوئی بڑی تقسیم نہیں، لیکن یہ بھی واضح ہے کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز جیسے اہم راہنما فوجی اسٹیبلیشمنٹ سے ٹکراو کی پالیسی اپنانے کو تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی میں نواز شریف اور شہباز شریف کے حامیوں کے درمیان مزاحمتی اور مفاہمتی بیانیے کا واضح فرق دیکھنے کو ملتا ہے۔
شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز شریف واضح طور پر اور کھل کر نواز شریف اور مریم نواز کی سیاسی حکمت عملی جو ان کے بقول ٹکراو پر مبنی ہے سے اختلاف رکھتے ہیں۔

فی الحال نواز شریف اور مریم نواز پیپلز پارٹی کی جانب سے استعفے نہ دینے پر کافی برہم نظر آتے ہیں۔ لیکن اول تو یہ بات کافی حد تک یقینی ہے کہ نواز لیگ خود بھی اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا کارڈ کھیل کر سیاسی خود کشی نہیں کرے گی، لیکن اگر اس نے اس کارڈ کو کھیلنے کی غلطی کر لی تو اسے خود اپنی جماعت کے اندر سے مزاحمت دیکھنے کو ملے گی۔ کیونکہ مسلم لیگ نون میں ایک بڑا دھڑا استعفوں کی کسی بھی صورت حمایت نہیں کرے گا۔

سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اسٹیبلیشمنٹ کے خلاف اگر واقعی سیاسی جماعتوں بشمول مسلم لیگ نون نے کوئی بڑی سیاسی تحریک چلانی ہے تو اس کے لیے پہلے ان کو اپنی داخلی کمزوریوں کا ضرور تجزیہ کرنا چاہیے کہ وہ کہاں کھڑے ہیں۔ ایک کمزور سیاسی و جماعتی ڈھانچہ اور مختلف سطحوں پر تضادات کی موجودگی میں کسی بڑی تحریک کے امکانات کم ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں جب نواز شریف کھل کر فوجی اسٹیبلیشمنٹ سے ٹکراو اور شہباز شریف مفاہمت کی سیاست کو بنیاد بنانا چاہتے ہیں تو پھر انکی سیاسی حکمت عملی کا یہ تضاد خود ان کی سیاسی ناکامی کے لیے کافی ہے۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ مریم نواز کی مقبولیت کے باوجود ان کی جذباتیت پر مبنی سیاست اور فوری ردعمل دینے کی حکمت عملی نے ان کو فائدہ کم اور نقصان زیادہ پہنچایا ہے۔ اسی طرح نواز شریف اور مریم نواز کی فوج اور آئی ایس آئی کے سربراہان پر براہ راست تنقید کی پالیسی پر انکی اپنی پارٹی سمیت پی ڈی ایم میں شامل کئی جماعتوں کے بھی تحفظات ہیں۔ ان کے بقول مریم نواز کا یہ انداز پاپولر کارڈ تو ہو سکتا ہے لیکن اس سے سیاسی طور پر نواز لیگ اور اس کے اہم اتحادیوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان حالات میں اگر نواز لیگ پیپلز پارٹی سے فاصلے رکھتی ہے یا اسے پی ڈی ایم سے علیحدہ کرنا چاہتی ہے تو ایسی صورت میں حکومت گرانا یا عمران خان کو گھر بھیجنا کم از کم پارلیمنٹ کے ذریعے تو ممکن نہیں ہوگا۔ لہٰذا حکومت کا جانا اسی صورت ممکن ہوگا جب اسٹیبلیشمنٹ خود بھی تبدیلی لانا چاہے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ مسلم لیگ نون اگر یہ سمجھتی ہے کہ وہ پوری پی ڈی ایم کو اپنی سیاسی ڈکٹیشن کی بنیاد پر چلاسکتی ہے تو یہ بھی ممکن نہیں۔ پہلے ہی مولانا فضل الرحمن کو گلہ ہے کہ وہ پی ڈی ایم کے سربراہ ہیں لیکن بڑے فیصلے یا اس اتحادکی سیاسی اجارہ داری میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون خود کرتی ہے اور ان کو بہت سے امور میں سیاسی طور پر تنہا رکھا جاتا ہے۔ اس لیے پیپلز پارٹی کو باہر نکال کر بھی پی ڈی ایم کو اپنے ایجنڈے پر چلانا مسلم لیگ نون کے لیے کوئی آسان کام نہیں ہوگا۔ بری وجہ یہ ہے کہ جو لب و لہجہ نواز شریف اور مریم نواز کا ہے اس پر ماسوائے فضل الرحمن کے باقی ساری پی ڈی ایم کی قیادت کافی فاصلے پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پی ڈی ایم کے دس جماعتی اتحاد میں شامل جماعتیں اس ٹکراو کے بیانیہ کو مسلم لیگ نون میں نواز شریف، مریم نواز اور مولانا فضل الرحمن کا بیانیہ کہتی ہیں۔ لیکن یہ بھی سچ یے کہ عملی طور پر مسلم لیگ نون مفاہمت اور مزاحمت کے بیانیوں کی کشمکش میں پھنس کر رہ گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button