نواز لیگ نے انقلاب کو کس وجہ سے سرد خانے میں ڈال دیا؟


معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار عاصمہ شیرازی نے کہا ہے کہ فوری انتخاب کا مطالبہ کرنے والی نواز لیگ اب حیلے بہانوں سے پانچ سال ختم ہونے کے انتظار میں ہے اور یوں لگتا ہے کہ جیسے نواز شریف خود کو "عدالتی انصاف” ملنے تک انقلاب کو موخر کرنا چاہتے ہیں۔ عاصمہ کہتی ہیں کہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ن لیگ یا تو کسی ڈیل یا کسی ڈھیل کے باعث کپتان حکومت کو پورے پانچ سال دینا چاہتی ہے جبکہ موجودہ کانپتا سیاسی نظام کسی سہارے کا منتظر ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ پی ڈی ایم کے حالیہ فیصلوں نے انقلاب کو تو سرد خانے میں ڈالا ہی ہے لیکن پی ڈی ایم کے مستقبل پر بھی اوس ڈال دی ہے کیوں کہ حسب سابق اسمبلیوں سے استعفوں کے معاملے پر اتفاق نہیں ہو پایا اور مولانا فضل الرحمان نے مہنگائی مارچ شروع کرنے کے لئے جو تاریخ دی ہے وہ چار ماہ بعد کی ہے۔ یعنی پی ڈی ایم کے ٹھٹھرتے انقلاب کے سیزن میں ابھی چار ماہ باقی ہیں، لہٰذا عوام انتظار فرمائیں۔
یاد رہے کہ جن دو مطالبات پر مولانا فضل الرحمن نے پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کو پی ڈی ایم اتحاد سے نکلنے پر مجبور کیا تھو وہ اسمبلیوں سے استعفے اور لانگ مارچ تھے۔ تاہم اب پیپلز پارٹی کو پی ڈی ایم سے نکلے ہوئے بھی ایک برس ہونے کو آ رہا ہے لیکن مولانا پی ڈی ایم کی باقی جماعتوں کو ابھی تک استعفے دینے پر آمادہ نہیں کر پائے ہیں۔ یاد رہے کہ مولانا خود پارلیمنٹ کا حصہ نہیں ہیں کیونکہ وہ ڈیرہ اسماعیل خان سے تحریک انصاف کے علی امین گنڈا پور کے ہاتھوں الیکشن ہار گئے تھے۔
عاصمہ شیرازی بی بی سی کے لیے اپنی تازہ تحریر میں لکھتی ہیں کہ اُمید وہ شے ہے جو مرتے دم تک آنکھوں میں زندگی کی جوت جلاتی ہے، آس، یاس کا تضاد اور خواب زندگی کا دوسرا نام ہے۔ نظام ہو یا کاروبار حیات، مملکتوں کا وجود ہو یا زندگی کی کشمکش۔۔۔ سامان بہرحال اُمید ہی مہیا کرتی ہے۔ ہم شرمندہ ہیں، فلاں کے قاتل زندہ ہیں، ہم شرمسار ہیں، نہ جانے کس پستی کے شکار ہیں وغیرہ وغیرہ، یہ سب وہ جذباتی اظہار ہیں جو سانحہ سیالکوٹ جیسے ہر واقعے کے بعد حکعمت کی جانب سے سُننے کو ملتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ مرحوم سلمان تاثیر کی کانپتی بے بس آواز آج بھی میرے کانوں میں گونج رہی ہے کہ کس طرح وہ میڈیا کو وضاحتیں دے رہے تھے کہ میں نے توہین مذہب نہیں کی۔
افسوس کہ نہ کسی نے ان کی بات مانی اور نہ ہی انکا دفاع کیا، ایک باوردی پولیس والے نے دن دیہاڑے اسلام آباد کی کوہسار مارکیٹ میں عدالت لگائی اور بندوق کی گولی نے فیصلہ سُنا دیا۔ گستاخ رسول قرار دے کر ماروائے عدالت قتل کر دیئے جانے والے گورنر پنجاب سلمان تاثیر انتہاپسند معاشرے کا پہلا نشانہ تھے، یوں پھر یہ سلسلہ چل نکلا۔ یاد رہے کہ علامہ خادم رضوی نے ممتاز قادری کو پھانسی کی سزا ہو جانے کے بعد اس کا مزار تعمیر کیا اور تحریک لبیک کی بنیاد رکھی۔
عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ توہین رسالت کے نام پر کبھی کوئی مسیحی جوڑا تو کبھی کوئی اور، اور اب ایک سری لنکن شہری جس کا قصور کیا تھا؟ تاحال معلوم نہیں۔ اس پر لگے الزام کا فیصلہ کس نے کرنا تھا اور کس نے کیا؟ یہ ہم سب جانتے ہیں، بہر حال انصاف کا ترازو ہجوم کے ہاتھ میں چلا گیا اور انہوں نے وہ کیا جو جانور بھی نہیں کرتے۔ ویسے بھی جب ریاست خود سرنڈر کر کے لاپتہ ہو جائے، آئین اغوا ہو جائے، قوم ہجوم بن جائے، طاقت ور بہرے ہو جائیں، منصف اندھے ہو جائیں اور دانشور گونگے ہو جائیں تو معاشرے مردہ اور روایتیں دفن ہو جاتیں ہیں۔
عاصمہ سوال کرتی ہیں کہ جو کچھ سیالکوٹ میں ہوا، اس کا سبب کیا ہے؟ آئین کی عملداری کا نہ ہونا، نمائندہ حکومت کی عدم موجودگی یا جمہوری رویوں کا فقدان۔۔۔ یہ سب عوامل غیر سیاسی معاشرے کو جنم دیتے ہیں جہاں طاقت ور اشرافیہ اپنی بقا کے لیے غیر سیاسی اور غیر عوامی گروہوں کا سہارا لیتی ہے۔ یہ غیر سیاسی طاقت کے چھوٹے چھوٹے مراکز بڑی بڑی مصلحتوں کو جنم دیتے ہیں اور یوں ریاست ان کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتی ہے۔ کمزور ریاست اور ناہموار معاشی نظام طبقاتی اور معاشرتی تفریق: یہ احساس محرومی، غم اور غصے کا سبب بنتے ہیں جبکہ چھوٹے واقعات بڑے سانحوں کا پتہ دیتے ہیں اور بے خبری المیہ بن جاتی ہے۔ بقول عاصمہ شیرازی، سیالکوٹ میں مذہبی انتہاپسندی کا مظاہرہ تو ہوا ہی مگر سہارا معاشرتی ناہمواری نے بھی دیا۔ مذہبی جنونیت کا لبادہ اوڑھے بھوک، افلاس اور عدم انصاف بھی موت کی صورت رقصاں، وحشت ہر طرف ہر سُو اور ریاست کے آسیب زدہ، بوسیدہ کھڑکتے کواڑ۔۔۔ بقول شاعر "چھالے کی طرح صحرا میں مرا خاکستری گھروندا” ویرانہ بن رہا تھا۔
عاصمہ کہتی ہیں کہ سیاسی جماعتیں اور عسکری اشرافیہ اپنے اپنے مفادات کے لئے سر گرداں ہیں، حکمران سیاسی چالوں میں مصروف ہیں، لیکن عوام کے پاس مایوسی کے سوا کچھ بھی باقی نہیں بچا۔ یہ سب چل ہی رہا تھا کہ پی ڈی ایم کے ’اہم اجلاس‘ اور نتیجے میں تین ماہ بعد ایک انقلاب مارچ کی خبروں نے مظلوم عوام کی رہی سہی امیدوں پر بھی برف ڈال دی۔ اب سردی کے موسم میں ٹھٹھرتے انقلاب کی خاطر بہار کے موسم کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ بھلا سیاسی جماعتیں نا ہوئیں سہ ماہی ڈرامے کی قسطیں ہو گئیں، عوامی ایجنڈا نئے سیزن کا ٹیزر اور انقلاب کی اگلی قسط کے منتظر بیچارے عوام۔
عاصمہ شیرازی کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم غیر واضح اور تضادات لیے عوام کے سامنے ہے۔ ن لیگ کی قیادت لندن میں اور باقی قیادت پاکستان میں خوبصورت ’سیاسی موسم‘ کی منتظر ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ن لیگ یا تو کسی ڈیل یا کسی ڈھیل کے باعث اس حکومت کو پورے پانچ سال دینا چاہتی ہے جبکہ موجودہ کانپتا سیاسی نظام کسی سہارے کا منتظر ہے۔ فوری انتخاب کا مطالبہ کرنے والی سیاسی جماعت اب حیلے بہانوں سے پانچ سال ختم ہونے کے انتظار میں ہے۔ میاں نواز شریف اپنے اور مریم نواز کے "عدالتی انصاف” تک انقلاب موخر کرنا چاہتے ہیں جبکہ اُن کی جماعت کے چند زعماء پارٹی میں "خاندانی عہدوں” سے متعلق شیر و شکر فیصلوں پر بھی زور دے رہے ہیں
یہ بھی پڑھیں:اب بھی آنکھیں کھول لیں
تاکہ اختلافات ختم ہوں اور جماعت کو کم از کم ایک سمت مل سکے۔ بقول عاصمہ، پی ڈی ایم کے حالیہ فیصلوں نے انقلاب کو تو سرد موسم میں ڈالا ہی ہے مگر پی ڈی ایم کے مستقبل پر بھی اوس ڈال دی ہے۔ پی ڈی ایم کے ٹھٹھرتے انقلاب کے سیزن میں چار ماہ باقی ہیں، عوام انتظار فرمائیں۔

Back to top button