نواز لیگ کو موقع کا انتظار ہے یا کنفیوژن کا شکار ہے؟

پاکستان کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت مسلم لیگ ن کی اصل سیاسی حکمت عملی اس وقت کیا ہے اس پر لیگی قیادت کے حالیہ متضاد بیانات ایک مرتبہ پھر موضوع بحث بنے ہوئے ہیں اور یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا نواز لیگ کی قیادت واقعی سیاسی کنفیوژن کا شکار ہے یا کسی موقع کے انتظار میں ہے؟
اس وقت سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور محمد زبیر کے ان انٹرویوز پر تبصروں کا بازار گرم ہے جس میں انہوں نے واضح طور پر نواز لیگ اور فوجی اسٹبلشمنٹ کے مابین معاملات بہتر ہونے کی نوید سنائی ہے۔ یاد رہے کہ شاہد خاقان نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا تھا کہ ’ہماری اسٹیبلشمنٹ سے کوئی لڑائی نہیں ہے۔ جب لڑائی ہی کوئی نہیں تو صلح کس بات کی۔‘ اس سے قبل مریم نواز کے ترجمان اور سابق گورنر سندھ زبیر عمر نے یہ کہہ دیا تھا کہ ’ہماری فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ صلح ہو چکی ہے اور حکمران جماعت کو یہ بات ہضم ہونے میں دشواری ہے۔‘ 11 مئی 2021 کو زبیر نے ایک ٹی وی چینل کے پروگرام میں کہا تھا کہ ہماری فوج سے کوئی لڑائی نہیں، راولپنڈی والوں سے ہماری صلح ہو چکی ہے۔ سیز فائر کے بعد ہمارے تعلقات اچھے ہیں۔ ہم جب مطمئن ہوں گے تو اس کا باقاعدہ بتائیں گے بھی۔
تاہم ایک ہی روز بعد اپنے موقف سے یو ٹرن لیکر زبیر نے یہ بیان داغ دیا کہ کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سے صلح ہونے کے حوالے سے ان کے بیان کا تاثر درست نہیں گیا۔ مسلم لیگ ن یہ مطالبہ نہیں کر رہی کہ حکومت کی سیڑھی کھینچ کر اس کے لئے سیڑھی لگا دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم نے مریم نواز کے کمرے کا دروازہ توڑنے والوں سے متعلق بات کی تو ہمیں کہا گیا کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ بعد میں آرمی چیفنے اس کا نوٹس لیا اور رپورٹ بھی آئی۔ زبیر کا کہنا تھا کہ یہی ماروائے آئین اقدامات ہیں جن کی بات ہم کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ زبیر کی طرف سے راولپنڈی سے صلح کے بیان کا پارٹی صدر شہباز شریف نے سخت نوٹس لیتے ہوئے ان سے وضاحت طلب کی تھی۔ زبیر اصل میں نواز شریف اور مریم نواز کے ترجمان ہیں، ان کے بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دے کر وارننگ دی گئی۔ نواز شریف اور شہباز شریف نے زبیر کے بیان پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے تاہم مریم نواز کی طرف سے معاملہ سنبھالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔زبیر نے عید سے ایک دن قبل جاتی عمرہ میں مریم نواز سے ملاقات کی اور انہیں وضاحت پیش کی۔
نون لیگ کے سیاسی بیانیے میں پرو اسٹیبلشمینٹ ’تبدیلی‘ تب سے دیکھی جا رہی ہے جب پارٹی کے صدر شہباز شریف نہ صرف جیل سے ضمانت پر رہا ہوئے بلکہ عدالت نے انہیں ملک سے باہر جانے کی اجازت بھی دے دی۔ یہ الگ بات ہے کہ حکومت نے انہیں برطانیہ نہیں جانے دیا اور ایئرپورٹ سے ہی واپس گھر بھیج دیا۔ ایسے کئی ایک ایسے واقعات ہوئے ہیں جو اس موجودہ ’کنفیوژن ‘ کا سبب بن رہے ہیں۔ پارٹی رہنما جاوید لطیف کی غداری کے الزامات میں گرفتاری اور مریم نواز شریف کا شیخوپورہ ان کے گھر جا کر اظہار یکجہتی کرنا اور نوازشریف کے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے کو ایک بار پھر شد و مد سے بیان کرنا، مبصرین ان سب واقعات کو ’کنفیوژن‘ کی وجہ قرار دے رہے ہیں۔
شہباز شریف رہائی کے بعد فرداً فرداً ان کارکنان اور رہنماؤں کے گھر جا رہے ہیں جو انکی غیر موجودگی میں کسی نہ کسی تکلیف سے دوچار ہوئے تاہم وہ شیخوپورہ میں جاوید لطیف کے گھر ابھی تک نہیں گئے۔ اسی طرح جب جاوید ہاشمی کی جانب سے ایک حالیہ پریس کانفرنس کے دوران آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے کورٹ مارشل اور ان سے استعفی لینے کا مطالبہ کیا گیا تو انہیں پارٹی قیادت کی طرف سے یہ پیغام گیا کہ کہ یہ نواز لیگ کی پالیسی نہیں۔ اس حوالے سے مریم اورنگزیب نے بھی یہ وضاحتی بیان دیا کہ جاوید ہاشمی نے جو کچھ کہا وہ پارٹی کی پالیسی نہیں۔ جاوید ہاشمی نے بھی ایک اور پریس کانفرنس کر کے یہ وضاحت کی کہ باجوہ بارے گفتگو ان کی ذاتی رائے تھی اور نون لیگ کا اس سے کوئی تعلق نہیں نہیں۔
لیکن جب باجوہ مخالف گفتگو کے ردعمل میں انتظامیہ نے ملتان میں جاوید ہاشمی کے خاندان کی ملکیتی جائیداد مسمار کی تو نواز شریف اور مریم نواز دونوں نے اس کی سخت مذمت کی جس نے پارٹی کی پالیسی بارے موجود کنفیوژن میں مذید اضافہ کر دیا۔ چنانچہ اب سوال یہ ہے کہ نواز لیگ کی اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے اصل پالیسی ہے کیا؟ اور کیا پارٹی میں شہباز شریف کی مفاہمتی پالیسی چلے گی یا نواز شریف کا مزاحمتی بیانیہ۔ یاد رہے کہ پارٹی صدر شہباز شریف جب سے جیل سے رہا ہوئے ہیں ان کی ساری توجہ یا تو گورننس کے مسائل پر ہے یا پھر فلسطین کے حق میں مہم پر۔ جبکہ ان کے بیانات سے بھی ٹکراؤ کی کوئی جھلک دکھائی نہیں دے رہی اور ان کے صاحبزادے اور پنجاب کے اپوزیشن رہنما حمزہ شہباز بھی اپنے والد کے نقش قدم پر ہیں۔ چنانچہ یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ آیا نواز لیگ کی قیادت کنفیوژن کا شکار ہے یا مل کر کھیل رہی ہے اور مزاحمتی اور مفاہمتی بیانیہ، دونوں آگے بڑھا رہی ہے۔
اس حوالے سے سیاسی تجزیہ کار مجیب الرحمن شامی سمجھتے ہیں کہ ’کسی حد تک اس کو کنفیوژن کہا جا سکتا ہے لیکن میرے خیال میں یہ کوئی پارٹی کے اندر کشمکش کی صورت حال نہیں ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’شہباز شریف چونکہ پارٹی کے صدر ہیں اور ان کا سیاست کا اپنا انداز ہے اور وہ ٹکراؤ کو کم کرنے میں ہمیشہ کردار بھی ادا کرتے رہے ہیں۔ یہ صورت حال بہتر ہو جائے گی جب نواز، شہباز ملاقات ہو گی۔ اس میں پارٹی کی سمت بھی متعین ہو جائے گی۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’ابھی تک اگر دیکھا جائے یہ کنفیوژن اس وجہ سے بھی آئی ہے کہ اگلا لائحہ عمل ابھی سامنے نہیں ہے۔ آیا پی ڈی ایم کی سیاست چلے گی یا ن لیگ پارلیمانی سیاست پر انحصار کرے گی۔‘ تو دوراہا تو ہے لیکن یہ صورت حال پہلے بھی رہی ہے اس جماعت میں۔ اب کی بار فرق یہ ہے کہ دونوں فریق اپنے اپنے انداز میں متحرک ہیں اور اس سے نقصان کا اندیشہ بھی نہیں۔‘
تجزیہ کار مظہر عباس بھی کم و بیش یہی سمجھتے ہیں کہ ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے، ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نہیں کہہ سکتے کہ ن لیگ نے اپنی پوزیشن بدل لی ہے یا پوزیشن بدلنے سے پہلے والی صورت حال کا شکار ہے، کیونکہ ابھی وہ بھی دیکھو اور انتظار کی پالیسی پر ہیں۔‘ ان کے بقول ’یہی وجہ ہے کہ شہباز شریف اپنے آپ کو فلسطین اور کرونا جیسے معاملات پر متحرک کر رہے ہیں کیونکہ انہیں ابھی کوئی فیصلہ کن پوزیشن لینے کی جلدی دکھائی نہیں دے رہی۔‘ مظہر عباس کا شہباز شریف کے حوالے سے مزید کہنا تھا کہ ’بہرحال ان کے باہر آنے سے مجموعی طور پر لیگی رہنماؤں کے بات کرنے کے انداز میں تبدیلی آئی ہے اور سب اسی بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ کوئی واضع پالیسی مرتب ہو تو ہی پارٹی کی اگلی پوزیشن واضع ہو گی۔ تب تک اس طرح کے بیانات دیکھنے کو ملتے رہیں گے۔‘ سیاسی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ مسلم لیگ نواز کا اصل بیانیہ تب سامنے آئے گا جب شہباز شریف لندن پہنچ کر اپنے بڑے بھائی نواز شریف سے ملاقات کریں گے اسی کے بعد پتہ چلے گا کہ پارٹی کی اصل لائن کیا ہے؟

Back to top button