نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کی ہالی ووڈ میں انٹری


دنیا کی کم عمر ترین نوبل انعام یافتہ لڑکی ملالہ یوسف زئی نے اپنی پروڈکشن کمپنی متعارف کروانے کا اعلان کر دیا ہے، جو ہالی ووڈ انڈسٹری کے لیے فلمیں تیار کرے گی۔ ملالہ یوسفزئی ’ایکسٹراکری کلر‘ نامی پروڈکشن کمپنی نے ایپل پلس ٹی وی کے لیے ایک دستاویزی فلم کے علاوہ ایک فیچر فلم بنانے کا کام بھی شروع کر دیا ہے۔ ملالہ یوسف زئی اور ایپل پلس ٹی وی کے مابین فلمیں، شوز، دستاویزی فلمیں اور ڈرامے بنانے کا معاہدہ مارچ 2021 میں طے پایا تھا، جس کے بعد اب ان کی پروڈکشن کمپنی نے فلموں پر کام شروع کر رکھا ہے۔ ابتدائی طور پر ملالہ یوسف زئی بطور پروڈیوسر جنوبی کوریا کی ایک ماہی گیر خاتون کی زندگی پر دستاویزی فلم بنائیں گی، اس کے علاوہ وہ بطور پروڈیوسر ایپل پلس ٹی وی کے لیے ایک اوریجنل فلم بھی پروڈیوس کریں گی۔

ملالہ یوسف زئی نے فلم پروڈکشن کے کام کے آغاز پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا ہے کہ بلآخر اب ان کا پروڈیوسر بننے کا دیرینہ خواب پورا ہونے جا رہا ہے، اب وہ ٹی وی اور سینما اسکرین پر اپنے نام کو بطور پروڈیوسر پڑھ اور دیکھ سکیں گی۔ ملالہ نے کہا کہ ان کی پروڈکشن کمپنی گہری رنگت کو ہالی ووڈ میں فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے، کیوں کہ ان سمیت بہت سارے لوگوں کو سفید فام اور خصوصی طور پر مرد ہیرو بہت زیادہ دیکھنے کو ملتے ہیں اور ان کا یقین ہے کہ لوگ جہاں سفید فام لوگوں کو دیکھ سکتے ہیں تو مختلف رنگت کے لوگوں کی کہانیاں بھی شوق سے دیکھیں گے۔

ملالہ نے کہا کہ وہ ایک پختون، ایک مسلم اور ایک پاکستانی لڑکی ہیں اور وہ بھی مختلف رنگ رکھنے والے افراد کے خطے سے تعلق رکھتی ہیں اور انہیں مختلف رنگت رکھنے والے افراد کی کہانیوں کی طاقت کا بخوبی اندازہ ہے۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ ملالہ کی پروڈکشن کمپنی کی طرف سے بنائی جانے والی فلموں، ڈاکیومینٹریز اور ویب سیریز کو کب تک نشر کیا جائے گا، تاہم امکان ہے کہ ان کی بطور پروڈیوسر کوئی بھی فلم یا ڈاکیومینٹری آئندہ برس کے اختتام تک ریلیز ہوگی۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ ملالہ کی پروڈکشن کمپنی مسلمانوں اور خصوصی طور پر پاکستانی اداکاروں اور فلم سازوں کو بھی مواقع فراہم کرے گی۔

Back to top button