نوجوان کی گرفتاری، گردوارہ ننکانہ کے باہر احتجاج، حالات کشیدہ

سکھ لڑکی سے شادی کرنے والے نوجوان احسان کی گرفتاری کے بعد ننکانہ میں حالات کشیدہ ہو گئے. نوجوان کی گرفتاری کے بعد سینکڑوں مظاہرین نے ننکانہ صاحب میں گردوارہ جنم استھان کے سامنے مجمع کی شکل میں احتجاج کیا ، جس سے علاقے میں کشیدہ صورتحال دیکھی گئی۔
ننکانہ صاحب سے ایک عینی شاہد محمد رمضان کے مطابق جمعہ کی نماز کے بعد پولیس کی جانب سے ایک نوجوان کی گرفتاری کے بعد صورتحال اس وقت خراب ہوئی جب لوگوں نے ریلوے روڈ کو بند کرنے کے بعد گردوارہ کے سامنے احتجاج شروع کیا۔
ننکانہ پولیس کے ضلعی سربراہ اسماعیل کھاڑک کے مطابق کسی بھی قسم کی لا اینڈ آرڈر صورت حال مکمل کنٹرول میں ہے اور احتجاج کرنے والوں سے مذاکرات جاری ہیں۔ انہوں نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ ایک جھگڑے کی شکایت پر احسان نامی نوجوان کو پولیس نے گرفتار کیا۔ مظاہرین میں شامل ایک شخص محمد عمران‘ جو گرفتار کیے جانے والے محمد احسان کے بھائی ہیں‘ نے کہا ہے کہ پولیس نے احسان کو گرفتار کیا اور اس معاملے کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی۔انہوں نے بتایا کہ تھانہ سٹی پولیس نے موگا منڈی میں ان کے گھر پر نماز جمعہ کے بعد چھاپہ مارا، چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کیا۔
خیال رہے کہ محمد احسان نے تقریبا تین ماہ قبل سکھ برادری کی ایک لڑکی سے پسند کی شادی کی تھی۔ اور دعویٰ کیا تھا کہ وہ مسلمان ہو چکی ہے۔ گورنر پنجاب چوہدری سرور نے اس وقت دونوں خاندانوں کی گورنر ہاؤس میں صلح بھی کروا دی تھی جبکہ عدالت عالیہ نے لڑکی کو دارالامان بھیج دیا تھا جو اب بھی وہاں موجود ہے۔
دوسری طرف وفاقی وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ نے گوردوارہ جنم استھان کے سامنے ہونے والے احتجاج سے پیدا ہونے والے حالات کا نوٹس لیا ہے اور ضلعی انتظامیہ کو حالات فوری کنٹرول کی ہدایت کی ہے۔ وزیر داخلہ نے ضلعی انتظامیہ کو فریقین کو بلا کر ہر طرح سے مطمئن کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزارت داخلہ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کسی کو بھی ننکانہ صاحب کے حالات خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
واضح رہے کہ وزیر داخلہ اعجاز شاہ کا تعلق بھی ننکانہ صاحب سے ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button