کیا ’اللہ کے بندے ہنس دے‘ گانا بھی ’ہندو مخالف‘ ہے؟

انڈیا میں اردو کے معروف ترقی پسند اور انقلابی شاعر فیض احمد فیض گذشتہ کئی دنوں سے ٹرینڈ کر رہے ہیں۔ اس ٹرینڈ کی وجہ ان کی معروف نظم ’ہم دیکھیں گے‘ ہے جس کے خلاف آئی آئی ٹی کانپور کے ایک استاد نے شکایت کی ہے کہ وہ ’ہندو مخالف‘ ہے۔
اس بات پر سوشل میڈیا اور ٹی وی پر گرما گرم بحث جاری ہے اور بہت سے لوگ اس شکایت کو طنز اور مذاق کا نشانہ بنا رہے ہیں جبکہ دریں اثنا آئی آئی ٹی کے پینل نے کہا ہے کہ آیا فیض کی نظم ہندو مخالف ہے یا نہیں یہ طے کرنا ان کا کام نہیں ہے۔
لیکن اسی دوران ایک مزاحیہ ٹوئٹر ہینڈل ’ریئل ہسٹری پک‘ نے اپنی تخلیقی صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ ٹویٹ کر دیا کہ انڈیا کے معروف گلوکار کیلاش کھیر کے گیت ’اللہ کے بندے ہنس دے‘ کو بھی آئی آئی ٹی کانپور کی جانب سے نوٹس بھیجی گئی ہے کہ اس میں صرف مسلمانوں کے ہنسنے کی بات کی گئی ہے۔
Singer Kailash Kher got notice from IIT Kanpur for his song “Allah Ke Bande Hans De”, Where he allegedly want only Muslim people to Smile.(2019) pic.twitter.com/BgiFpxTgCq
— History of India (@RealHistoryPic) January 2, 2020
اس ٹویٹ کو جہاں چار ہزار سے زیادہ بار ری ٹویٹ کیا گیا وہیں 11 ہزار سے زیادہ لوگوں نے لائک کیا لیکن اس ضمن میں سب سے مزیدار بات یہ ہے کہ بہت سے لوگوں نے اسی کی طرز پر بہت ساری چیزوں کا ذکر کیا ہے جو کہ آپ کی دلچسپی کا بھی سامان ہو سکتا ہے۔
ایک صارف نے لکھا ’تجھ میں رب دکھتا ہے یارا میں کیا کروں‘ تو دوسرے نے لکھا کہ ’او مجھے پیار ہوا پیار ہوا اللہ میاں۔‘
معروف ایکٹیوسٹ شہلا رشید نے لکھا کہ ’بخدا میں تو ہنس ہنس کے مر گئی۔‘ جبکہ معروف صحافی برکھا دت نے لکھا کہ ’ہم دیکھیں گے کہ ہم اور کتنے بے وقوف بن سکتے ہیں؟‘
#HumDekhenge ki Hum Aur kitne bewakoof ban sakte hain.
— barkha dutt (@BDUTT) January 2, 2020
دیویش سنگھ نامی ایک شخص نے لکھا کہ ’رب کرے تجھ کو بھی پیار ہو جائے کے لیے الکا یاگنک اوراودت ناراین کو بھی ’لو جہاد‘ پھیلانے کے لیے یوگی حکومت کی جانب سے نوٹس بھیجی گئی ہے۔
بھائی صاحب نامی ایک شخص نے لکھا ’دے بابا کے نام تجھ کو اللہ رکھے‘ لکھنے والے کے نام بھی نوٹس جانا چاہیے۔
ایک شخص نے لکھا اس کا مطلب یہ ہے کہ جتنے بھجن محمد رفیع نے گائے سب کے ریکارڈ جلا دیا جانا چاہیے۔
وشنو راجگڈیا نامی ایک شخص نے تو حد ہی کردی۔ انھوں نے لکھا کہ فلم ’ندیا کے پار‘ کے گیت جوگی جی دھیرے دھیرے میں جو ’دھیرے دھیرے‘ کہا گیا ہے اس سے ترقی کی رفتار کی سست روی کا پتہ چلتا ہے۔ ان کا اشارہ بی جے پی حکومت اور اس وکاس یعنی ترقی کے نعرے کی جانب اشارہ ہے۔
اگر آپ ریئل ہسٹری پک کے ٹویٹس دیکھیں تو وہ اپنے آپ میں طنز و مزاح کا خزانہ ہیں۔
