نومنتخب وفاقی کابینہ کے اراکین کا چناؤ کیسے عمل میں آیا؟

وزیراعظم شہباز شریف، صدر مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے عہدوں کا حلف اٹھانے کے بعد نومنتخب وفاقی کابینہ کے 19 اراکین نے بھی حلف اٹھا لیا ہے، حلف اٹھانے والوں میں احسن اقبال، رانا تنویر حسین، اعظم نذیر تارڑ، چوہدری سالک حسین، عبدالعلیم خان، جام کمال خان، انجنیئر امیر مقام، سردار اویس احمد خان لغاری، عطااللہ تارڑ، خالد مقبول صدیقی، قیصر احمد شیخ، میاں ریاض حسین پیرزادہ، محمد اسحاق ڈار، خواجہ آصف اور مصدق ملک شامل ہیں۔وفاقی کابینہ میں کچھ چہرے ایسے ہیں جو پہلی مرتبہ وفاقی وزیر کی حیثیت سے فرائض انجام دیں گے، جب کہ اکثر پہلے بھی ان ذمہ داریوں پر فائض رہ چکے ہیں۔حکومت سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق خواجہ محمد آصف کو دفاع، محمد اسحاق ڈار کو وزارت خارجہ، عطا ﷲ تارڑ کو وزارت اطلاعات، عبدالعلیم خان کو وزارت نجکاری، محمد احسن اقبال کو منصوبہ بندی، چوہدری سالک حسین کو اوورسیز پاکستانی اور محسن نقوی کو وزرات داخلہ کا قلمدان دیا گیا ہے۔جام کمال خان کو وزارت تجارت، رانا تنویر حسین کو صنعت و پیداوار، مصدق ملک کو پیٹرولیم، اعظم نذیر تارڑ کو قانون، خالد مقبول صدیقی کو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، قیصر شیخ، ریاض پیرزادہ ، احد چیمہ، اویس لغاری کو ریلوے اور محمد اورنگزیب کو وزارت خزانہ کا قلمندان دیا گیا ہے، احد چیمہ کو اکنامک افیئرز اور قیصر احمد شیخ کو میری ٹائمز کی وزارت دی گئی ہے۔کابینہ میں وفاقی حکومت میں شامل تمام اتحادی جماعتوں کو شیئر دیا گیا ہے تاہم پاکستان پیپلز پارٹی اس میں شامل نہیں ہے۔نومنتخب کابینہ میں محسن نقوی بھی شامل ہیں، جوکہ نگران وزیراعلیٰ پنجاب بھی رہ چکے ہیں، نگراں وزیر اعلیٰ بننے سے پہلے محسن نقوی کا میڈیا میں ایک اہم کردرار مانا جاتا ہے،28 اکتوبر 1978 کو لاہور میں پیدا ہونے والے محسن نقوی نے ابتدائی تعلیم کریسنٹ ماڈل سکول سے حاصل کی جب کہ گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجویشن کے بعد اوہائیو سٹیٹ یونیورسٹی کولمبیا سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ان کی شادی چوہدری پرویز الٰہی کی بھانجی اور معروف پولیس افسر اشرف مارتھ، جو دہشت گردی کے حملے میں جاں گنوا بیٹھے تھے، کی صاحبزادی وردہ اشرف سے ہوئی، جو پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں۔محسن نقوی کے چار بچے ہیں، جن میں تین بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہے۔نئی کابینہ میں شامل علیم خان ایک معروف تعمیراتی اور ہاؤسنگ پراجیکٹس کے حوالے سے جانی جانے والی شخصیت ہیں، لیکن ان کی پہچان ایک سیاست دان اور نیوز چینل مالک کی حیثیت سے بھی ہے۔2024 کے انتخابات میں انہوں نے لاہور سے مسلم لیگ ن کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے نتیجے میں کامیابی حاصل کی اور رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔2022 میں ہی انہوں نے ایک بڑے ٹی وی چینل کو بھی خریدا تھا۔نومنتخب کابینہ کا حصہ چوہدری سالک حسین پاکستان مسلم لیگ ق کے صدر اور پاکستان کے 16ویں سابق وزیر اعظم چوہدری شجاعت حسین کے صاحبزادے ہیں۔احمد چیمہ بھی نئی کابینہ میں شامل ہیں، جوکہ مسلم لیگ ن کے گزشتہ ادوار میں نمایاں سرکاری پوزیشنز پر کام کرتے رہے ہیں، جبکہ وہ نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کی کابینہ میں بھی شامل تھے۔نومنتخب کابینہ میں شامل محمد اورنگزیب معروف بینکر ہیں اور کابینہ میں شمولیت سے قبل وہ 2018 سے حبیب بینک کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) تھے۔ ان کا شمار معتبر اور تجربہ کار بینکرز میں ہوتا ہے جنہیں پاکستان اور غیر ملکی بینکوں کا تین دہائیوں پر محیط تجربہ ہے۔نئی کابینہ میں شامل جام کمال کا تعلق بلوچستان کے ایک سیاسی خاندان سے ہے اور 2018 سے 2021 تک صوبہ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ بھی رہے۔ وہ بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے رہنما تھے لیکن آٹھ فروری 2024 کے انتخابات سے قبل انہوں نے پاکستان مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔نومنتخب کابینہ کا حصہ بننے والے قیصر احمد شیخ نے 2024 کے عام انتخابات میں چنیوٹ کے حلقہ این اے 94 سے مسلم لیگ ن کی ٹکٹ پر حصہ لیا اور کامیابی حاصل کر کے رکن قومی اسمبلی بنے۔نئی کابینہ میں شامل پاکستان مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے عطااللہ تارڑ نے یونیورسٹی آف لندن سے ایل ایل بی (آنرز) کی ڈگری حاصل کی ہے۔وہ پاکستان مسلم لیگ ن کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل کے عہدے پر فائز رہے اور اس سے قبل ایڈیشنل سیکرٹری کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
