مریم اکرم نے ٹک ٹاکر سے ایم این اے کا سفر کیسے طے کیا؟

مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھنے والی معروف ٹک ٹاکر مریم اکرم کے ایم این اے بننے پر سوشل میڈیا پر خوب چرچے ہیں، ہر کوئی اپنی رائے دے رہا ہے کہ کے ن لیگ نے کس طرح ایک ٹک ٹاکر کو مخصوص نشست پر ممبر قومی اسمبلی بنا دیا؟’’وی نیوز‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے مریم اکرام نے بتایا کہ ان کا ایک مڈل کلاس فیملی سے تعلق ہے، کوئی سیاسی بیک گراؤنڈ نہیں، 2014 میں پنجاب یونیورسٹی جرنلزم میں بیچلرز کیا۔ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپنی ویڈیوز سے اپنی رائے کا اظہار کرتی رہتی تھیں اور کرتی ہیں۔2017 میں ایک سوشل میڈیا چینل پر بطور صحافی مختلف ایونٹس بھی کور کرتی رہی ہیں۔ 9 مئی کو ہونے والے واقعات کی رپورٹنگ بھی اپنے چینل پر کی۔ اردو پوائنٹ، انصاف ڈیجیٹل، ڈیلی پاکستان کے لیے بطور صحافی اپنے فرائض انجام دیئے۔وی نیوز سے بات کرتے ہوئے مریم اکرام نے بتایا کہ مخصوص نشست پر ایم این اے بننے کے لیے ان کی کسی نے سفارش نہیں کی بلکہ وہ میرٹ پر ایم این اے بنی ہیں، جب پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں نہیں ملیں تو مجھے کہا گیا کہ آپ بھی اپلائی کرسکتی ہیں، میں نے ن لیگ پلیٹ فارم پر اپلائی کیا اور اللہ نے مجھے ایم این اے بنا دیا۔ان کا کہنا تھا کہ جو باتیں سوشل میڈیا پر کی جا رہی ہیں میرا ان سے کوئی لینا دینا نہیں، جو کہا جا رہا کہ ایم این اے بننے میں وفاقی وزیر عطا تارڑ یا شہباز شریف کے پی ایس بدر شہباز کا کوئی کردار ہے اس میں کوئی صداقت نہیں، مریم اکرام نے بتایا کہ میں نے اپنی ویڈیوز میں بلاول بھٹو زرادری اور عمران خان پر بھی تنقید کی ہے، لیکن پی ٹی آئی کے مقابلے میں ن لیگ کو سپورٹ کرتی رہی ہوں۔وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے مریم اکرام نے بتایا کہ مجھے پاکستان تحریک انصاف سے جوڑا جاتا ہے۔ میری ایک تصویر ہے جس میں نے پی ٹی آئی کی ٹوپی اور جھنڈا پکڑا ہوا ہے اور پیچھے شیلنگ ہو رہی ہے۔ میں اس کی وضاحت کردوں میں اس وقت رپوٹنگ کر رہی تھی اور میں نے یہ ٹوپی اور جھنڈا شیلٹر کے طور استعمال کیا تھا تاکہ پی ٹی آئی کے لوگ مجھ پر نہ چڑھ دوڑیں۔ میں نے ن لیگ کو سپورٹ بھی کچھ عرصہ پہلے کرنا شروع کیا ہے لگتا ہے اسی کا مجھے صلہ ملا ہے۔ن لیگی ذرائع کے مطابق مریم اکرام کی بطور ایم این اے نامزدگی کے بعد معاملات مزید خراب ہوگئے ہیں۔ صدر ویمن ونگ پنجاب نوشین افتخار کو خواتین کی مخصوص نشستوں کی لسٹ پر اختلاف تھا جس پر انہوں نے استعفیٰ دیدیا، نوشین افتخار پر مسلم لیگ ن کی پرانی ورکرز کی طرف سے دباؤ تھا، مسلم لیگ ن کی متعدد پرانی خواتین ورکرز نے نوشین افتخار کو شکایات بھجوائی تھیں۔ بطور صدر پنجاب خواتین ونگ مخصوص نشستوں کے حوالے سے بھی انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا، بہت سی ایسی خواتین کے نام بھی شامل تھے جن کا پارٹی سے تعلق نہیں۔
