نگران وزیراعظم کاکڑ نے پاکستانی عدلیہ پر عدم اعتماد کیوں کیا؟

سینئر صحافی اور کالم نگار وجاہت مسعود نے کہا کہ نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کے مطابق پاکستان کی عدالتیں 90ہزار پاکستانیوں کے قاتلوں میں سے 9 افراد کو بھی سزائے موت نہیں دے سکیں۔ عدالتیں ریاست کے یک طرفہ موقف کی بنیاد پر سزائیں نہیں دے سکتیں۔ ہمیں کیسے معلوم ہو کہ گزشتہ برسوں میں جو مسخ شدہ لاشیں بلوچستان سے برآمد ہوئی ہیں وہ واقعی علیحدگی پسند تھے یا اخفا کے پردے میں معصوم شہری ۔ نگران وزیراعظم نے نوے ہزار پاکستانیوں کی اموات کا ذکر کر کے مذہبی انتہا پسند دہشت گردوں کو بلوچستان کے سوال سے خلط ملط کیا ہے۔ اپنے ایک کالم میں وجاھت مسعود لکھتے ہیں کہ نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے لاہور میں ایک دھواں دھار پریس کانفرنس میں ان شہریوں کو اپنے گریبان میں جھانکنے کا حکم دیا ہے جنہوں نے اسلام آباد میں احتجاج کرنے والے بلوچ بہن بھائیوں پر پولیس تشدد کی مذمت کرنے کی جسارت کی تھی۔ نگران وزیراعظم نے فرمایا کہ یہ 1971 ءہے اور نہ اب کوئی بنگلہ دیش بننے جا رہا ہے۔ انہوں نے بلوچستان میں ہتھیار اٹھانے والے علیحدگی پسندوں کو دشمن ممالک کا ایجنٹ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ 98فیصد بلوچ پاکستان کیساتھ ہیں۔ کاکڑ کے مطابق عدالتیں 90ہزار پاکستانیوں کے قاتلوں میں سے 9 افراد کو بھی سزائے موت نہیں دے سکیں۔ نگران وزیراعظم نے اسلام آباد میں احتجاج کیلئے آنے والے چند درجن بلوچ ہم وطنوں پر پولیس تشدد پر معذرت تو کی لیکن پولیس ایکشن کا دفاع بھی کیا۔ فصیح و بلیغ نگران وزیراعظم نے اس بیان میں بہت سے معاملات گڈمڈ کر دیے ہیں۔

وجاہت مسعود کا کہنا ھے کہ وزیراعظم نے بجا فرمایا کہ یہ 1971 نہیں اور نہ کوئی بنگلہ دیش بننے جا رہا ہے۔ اتفاق سے نگران وزیراعظم مئی 1971 میں پیدا ہوئے تھے چنانچہ ہماری تاریخ کے اس سیاہ برس کے واقعات ان کا براہ راست مشاہدہ نہیں۔1971 میں مشرقی پاکستان کے بحران پر مغربی پاکستان میں چند آوازوں کو چھوڑ کر مکمل خاموشی طاری تھی۔ مغربی پاکستان کے اکثریتی رہنما ذوالفقار علی بھٹو فوجی کارروائی کی کھلم کھلا حمایت کر رہے تھے۔ ذرائع ابلاغ پر مشرقی پاکستان کے واقعات کی یک طرفہ تصویر پیش کی جا رہی تھی۔ چناچہ 16 دسمبر کی شام مغربی پاکستان کے عوام پر 27 لفظوں پر مشتمل ایک سرکاری بیان کے ذریعے مشرقی پاکستان کے ’مقامی کمانڈرز‘ کے درمیان جنگ بندی کی اطلاع ایک ناقابل یقین قیامت بن کر ٹوٹی تھی۔ انوار الحق کاکڑ کو خوش ہونا چاہیے کہ آج پاکستان کی تمام وفاقی اکائیوں کے دل بلوچستان کے عوام کے لیے دھڑکتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ 98 فیصد نہیں بلکہ 100 فیصد بلوچ عوام محب وطن پاکستانی ہیں اور ملک میں کوئی قابل ذکر سیاسی جماعت مٹھی بھر علیحدگی پسند بلوچ عناصر کی حمایت نہیں کر رہی۔ عوام کو بے خبر نہ رکھا جائے اور چند ملک دشمن عناصر کی آڑ میں بلوچ عوام کے ساتھ ناروا اور غیر قانونی ہتھکنڈے استعمال نہ کیے جائیں۔ اصولی طور پر نگران وزیراعظم کو اسلام آباد پہنچنے والی بلوچ ماؤں اور بہنوں کے سر پر ہاتھ رکھ کر انہیں ریاستی تحفظ کا یقین دلانا چاہیے تھا۔ نگران وزیر اعظم جس عدالتی نظام پر تنقید کر رہے ہیں وہ نظام عدل آئین کی شق 10 کے تابع ہے۔ پاکستان کے ہر شہری کو شفاف سماعت کا حق حاصل ہے اور کسی بلوچ ہم وطن کو اس حق سے محروم نہیں کرنا چاہیے ۔

وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ مذہبی دہشت گرد پاکستان کے جمہوری بندوبست کو تسلیم نہیں کرتے اور پاکستان پر قبضہ کر کے اپنی مرضی کا نظام مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ چند علیحدگی پسند عناصر سے قطع نظر بلوچ عوام کا مطالبہ سیاسی حقوق اور معاشی انصاف سے تعلق رکھتا ہے۔ پاکستان کے محب وطن عناصر بلوچ عوام کے جائز آئینی مطالبات کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ وفاق کو مضبوط بنانے کا یہی درست طریقہ ہے۔ نگران حکومت کا آئینی منصب ریاستی پالیسیاں طے کرنا نہیں بلکہ انتخابات کے عمل کی غیر جانب دار نگرانی کرنا ہے۔ ٹھیک ایک ماہ بعد عام انتخابات منعقد ہو رہے ہیں۔ نگران وزیراعظم کی حکم کی تعمیل میں ہم اپنے گریبان میں جھانکتے ہیں تو ہمیں معیشت کا سوال نظر آتا ہے۔ بھارت، چین، امریکا اور انڈونیشیا کے بعد پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے۔ امریکا کی معیشت کا حجم 27 کھرب ڈالر اور چین کی معیشت 18 کھرب ڈالر ہے۔ بھارت چار کھرب ڈالر اور انڈونیشیا ڈیڑھ کھرب ڈالر کی معیشت رکھتے ہیں۔ پاکستان کی معیشت کا کل حجم 340 ارب ڈالر ہے۔ فی کس آمدنی میں امریکا 75 ہزار ڈالر، چین 12 ہزار ڈالر، انڈونیشیا 5 ہزار ڈالر، بھارت 2600 ڈالر اور پاکستان میں فی کس آمدنی بمشکل 1600 ڈالر ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور شرح خواندگی دیکھئے۔ سب اعداد و شمار اجتماعی شرمندگی کا مضمون ہیں۔ مشکل یہ ہے کہ آنے والے انتخابات کے بعد بھی سیاسی استحکام اور معاشی ترقی کا کوئی راستہ نہیں سوجھ رہا۔ نگران وزیراعظم ان مسائل پر رہنمائی فرماتے تو زیادہ مناسب تھا۔

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران افغان طالبان کے سپریم لیڈر ہبت اللہ اخوندزادہ کے معتمدِ خاص اور صوبہ قندھار کے گورنر ملا شیریں اخوندزادہ کی اسلام آباد آمد متوقع ہے۔افغان طالبان کے امیر مولوی ہیبت اللہ اخونزادہ نے پاکستانی مطالبات پر غور کرنے اور تعلقات میں بہتری کیلئے اپنے دست راست اور گورنر قندھار مولوی شیرین اخونزادہ کو پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ متوقع دورے میں مولوی شیرین کا حکومتی عہدیداروں کے علاوہ سیکورٹی حکام کے ساتھ بھی ملاقاتوں کا امکان ہے۔ماہرین دونوں ملکوں کے تعلقات میں پیچیدگی کے تناظر میں اس دورے کو اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان نے دونوں ممالک میں کشیدگی کو ختم کرنے کیلئے جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کو کابل دورے کی دعوت دی تھی اور جے یو آئی کی شوریٰ کے اجلاس کے بعد مولانا فضل الرحمن نے 8 فروری کے انتخابات کے بعد دورہ افغانستان کے دورہ پر جانے کا اعلان کیا۔ تاہم طالبان حکومت کشیدگی کو نئی حکومت آنے سے پہلے ختم کرنا چاہتی ہے۔ گورنر شیریں اخوندزادہ ایک ایسے موقع پر اسلام آباد کا دورہ کر رہے ہیں جب حکومتِ پاکستان اور طالبان حکومت کے تعلقات میں سردمہری پائی جاتی ہے۔ تاحال اس دورے کی سرکاری سطح پر پاکستان یا طالبان حکومت کے دفتر خارجہ نے تصدیق نہیں کی ہے۔

ماہرین اس دورے کو دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والے تعطل کو ختم کرنے کے حوالے سے ایک اہم کوشش قرار دیتے ہیں۔افغان امور کے ماہر اور سینئر صحافی سمیع یوسفزئی کا کہنا ہے کہ پاکستان اس کوشش میں ہے کہ کسی نہ کسی طریقے سے طالبان کی سینٹرل کمانڈ کے ساتھ براہ راست روابط استوار کر سکے۔اُن کا کہنا تھا کہ کابل میں طالبان کی قیادت بھی ٹی ٹی پی کے حوالے سے سینٹرل کمانڈ کے احکامات کی تابع ہے۔سمیع یوسفزئی نے واضح کیا کہ عرصۂ دراز سے پاکستان کی یہ خواہش تھی کی طالبان سپریم لیڈر کے دفتر سے کوئی شخصیت پاکستان کا دورہ کرے۔ اس حوالے سے ملا شیریں اخوند اس لیے موضوع شخصیت ہیں کیونکہ گورنر اور ملا ہبت اللہ کا دفتر تقریباً ایک ہی بلڈنگ میں ہے اور دونوں کا آمنا سامنا روزانہ کی بنیادوں پر ہوتا ہے۔سمیع یوسفزئی کا مزید کہنا تھا کہ ملا شیریں اخوندزادہ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ ماضی میں طالبان کے بانی، ملا محمد عمر کے سیکیورٹی چیف کے طور پر کام کر چکے ہیں۔ دیگر عہدوں کے علاوہ وہ طالبان کے انٹیلی جینس چیف کے طور پر بھی فرائض سر انجام دے چکے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی کے معاملے پر تعطل نے دونوں ممالک کے تعلقات کو کشیدہ کر دیا ہے۔سینئر تجزیہ کار طاہر خان کا کہنا ہے کہ طالبان وفد کے دورۂ پاکستان میں ٹی ٹی پی کے بڑھتے ہوئے حملوں کے ساتھ ساتھ بارڈر میکنزم سمیت دیگر اُمور پر بھی تبادلہ خیال ہو سکتا ہے۔ طاہر خان نے مزید بتایا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے پر براہِ راست الزامات لگا رہے ہیں جو بداعتمادی کا واضح اشارہ ہے۔ماہرین کے مطابق ٹی ٹی پی کے حوالے سے بعض افغان سینئر کمانڈر بھی پاکستانی مؤقف کی تائید کرتے ہیں تاہم اپنے طور پر کارروائی کرنے سے گریزاں ہیں۔

سمیع یوسفزئی کہنے ہیں کہ وہ نہیں سمجھتے کہ طالبان حکومت پاکستانی خواہشات کے عین مطابق ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کرے گی۔اُن کے بقول اسی طرح افغان طالبان کی بھی اپنی مجبوریاں اور مصلحتیں ہیں اور وہ ٹی ٹی پی کا افغانستان میں مکمل خاتمہ نہیں کر سکتے۔سمیع یوسفزئی کہتے ہیں کہ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان برف پگھلنے میں مدد گار ثابت ہو گا کیوں کہ دونوں ممالک کے درمیان خلیج کافی وسیع ہو چکی ہے۔

Back to top button