کیا چیف جسٹس جبری گمشدگیوں کا سلسلہ روک پائیں گے؟

قانونی ماہرین، سیاست دانوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے اس بیان کا خیر مقدم کیا ہے جس میں انہوں نے یہ عندیہ دیا ہے کہ جبری گمشدگیوں کے معاملے کو ہمیشہ کے لیے حل۔کیا جانا چاہیے۔ چیف جسٹس کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بلوچ گمشدہ افراد کے لواحقین اسلام آباد میں دھرنے دیے ہوئے ہیں اور نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکٹر انہیں سخت ہدف تنقید بنارہے ہیں۔ تاہم کئی حلقوں کا یہ بھی خیال ہے کہ اس مسئلے کو حل کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا جبکہ دوسری طرف قانونی ماہرین اس بات پر بھی بحث کر رہے ہیں کہ قانونی اور عملی طور پر کیا کچھ ممکن ہے؟
جبری طور پر گمشدہ افراد کی برآمدگی کے حوالے سے جدوجہد کرنے والی آمنہ مسعود جنجوعہ کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس کے اس بیان نے امید کی ایک کرن پیدا کی ہے کیونکہ گمشدہ افراد کے حوالے سے بننے والے کمیشن سے متاثرہ لواحقین کو کوئی امید نہیں ہے اور لواحقین کے کمیشن کے چیئرمین بارے شدید تحفظات ہیں۔‘‘آمنہ مسعود جنجوعہ کے مطابق اب چیف جسٹس کے بیان سے گمشدہ افراد کے لواحقین میں ایک حوصلہ پیدا ہوا ہے۔ ” ہمیں امید ہے کہ سپریم کورٹ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے گا اور برسوں سے چلنے والے اس مسئلے کا ایک ایسا حل نکالے گا جس سے گمشدہ افراد کے لواحقین کی مشکلات کم ہوں اور جبری طور پہ گمشدہ افراد کی بازیابی ممکن ہو سکے۔‘‘آمنہ مسعود جنجوعہ کا کہنا ہے کہ یہ ایک دیرینہ مسئلہ ہے۔ وہ کہتی ہیں، ”میرے خیال سے اعتماد کی بحالی کے لیے کم از کم چیئرمین مسنگ پرسنز کمیشن کو ہٹایا جائے۔ یہ ممکنہ طور پر پہلا قدم ثابت ہوسکتا ہے۔‘‘
قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ قانونی طور پہ اس مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے۔معروف قانون دان ریاض حسین بلوچ کا کہنا ہے کہ اگر سپریم کورٹ چاہے تو سب کچھ کر سکتی ہے۔ پاکستان کے آئین کے مطابق ہر ادارہ سپریم کورٹ کے حکم کی بجا آوری کرنے کا پابند ہے۔ عدالت انہیں اپنے سامنے یا دوسری عدالتوں کے سامنے پیش ہونے کا حکم دے سکتی ہے اور اس میں ملوث افراد کو سزا بھی دلواسکتی ہے۔‘‘ریاض حسین بلوچ کے مطابق پاکستان کے آئین کی آرٹیکلز 186 اور 199 کے تحت سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کو بنیادی حقوق کے حوالے سے بہت اختیارات حاصل ہیں۔
خیال کیا جاتا ہے کہ آرمی ایکٹ کے تحت ملزمان کے حقوق محدود ہیں لیکن راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے معروف وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کا کہنا ہے کہ آرمی ایکٹ کے تحت بھی اگر کسی کو گرفتار کیا گیا ہے تو قانونی طور پر گرفتار کرنے والے اس بات کے پابند ہیں کہ وہ یا تو 24 گھنٹے میں ملزم کو چارج شیٹ دیں یا کسی تاخیر کی صورت میں تحریری وجوہات دیں۔ انہوں بتایا، ”آرمی ایکٹ کے مطابق 24 گھنٹے کے اندر ملزم کو چارج شیٹ دینا ضروری ہے اور تاخیر کی صورت میں کمانڈنگ آفیسر اور دوسرے افسران تحریری وجوہات بیان کرنے کے پابند ہیں۔ ملزمان کو متعلقہ اتھارٹیز کے سامنے پیش کرنا بھی ضروری ہے۔‘‘ کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کے مطابق اگر ٹرائل آٹھ دن میں شروع نہیں ہوتا تو اس کی بھی وجوہات بتانی پڑتی ہیں اور اگر یہ 32 دن کے اندر شروع نہیں ہوتا تو ملزم کو ممکنہ طور پر رہا بھی کیا جا سکتا ہے۔ انعام رحیم کا مزید کہنا ہے کہ آرمی ایکٹ کے تحت عموماً گرفتاری سنگین مقدمات میں ہوتی ہے۔ ” اگر کوئی ملزم قتل، بغاوت یا سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی میں ملوث ہو تو اسے گرفتار کیا جا سکتا ہے بصورت دیگر اسے یونٹ کے اندر ہی بند کیا جا سکتا ہے جس کو اوپن گرفتاری کہتے ہیں۔‘‘
تاہم بعض افراد کا یہ بھی خیال ہے کہ جبری طور پر گمشدہ افراد کی بازیابی اور یہ سلسلہ روکنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔ ریاض حسین بلوچ کے مطابق طاقتور حلقوں کے پاس بہت سارے راستے ہیں۔ ”اگر ایجنسیاں یہ تسلیم کرتی ہیں کہ انہوں نے بندے اٹھائے ہیں، تو یہ غیر قانونی طور پر حراست کہلائے گی، جس کی سزا دو سال ہے۔ تو ان کے لیے اعتراف کرنا مشکل ہوگا۔‘
