نیا پاکستان اللہ کے سہارے پر اور کتنا عرصہ چل پائے گا؟


ویسے تو پاکستان کی موجودہ قومی اسمبلی کئی حوالوں سے منفرد ہے لیکن اسکا سب سے انوکھا پہلو یہ ہے کہ اس کے بطن سے جنم لینے والی وفاقی حکومت کا رویہ اپوزیشن والا ہے اور اس کے برعکس اپوزیشن کا رویہ کسی بھی حوالے سے اپوزیشن والا نہیں۔ جن لوگوں کو 2018 کے الیکشن میں دھاندلی سے حکومت دلوائی گئی تھی، ان کو حکومت کرنا نہیں آتی اور جن کو اپوزیشن بینچوں پر دھکیلا گیا تھا انکی کوئی ادا اپوزیشن والی نہیں ہے۔ لہازا ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ اسوقت ملک میں ایک ایسا ہائبرڈ نظام چل رہا ہے کہ جس میں نہ تو کہیں حکومت ہے اور نہ ہی اپوزیشن، اور یوں ملک صرف اللہ کے سہارے چل رہا ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان اللہ کے سہارے اور کتنا عرصہ چل پائے گا؟
سینئر صحافی اور تجزیہ کار سلیم صافی اپنی تازہ سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ در حقیقت موجودہ قومی اسمبلی نہ تو ویسے منتخب ہوئی جیسے کہ ماضی کی اسمبلیاں منتخب ہوا کرتی تھیں اور نہ ہی یہ ویسے چل رہی ہے، جیسے کہ ماضی کی اسمبلیاں چلا کرتی تھیں۔
مثلا ًماضی کے جمہوری ادوار میں جب الیکشن ہوتا تھا تو تمام سیاسی جماعتوں کو اس میں حصہ لینے کے یکساں مواقع یا لیول پلیئنگ فیلڈ مہیا کیا جاتا تھا۔ لیکن اس الیکشن سے قبل عدلیہ، نیب اور میڈیا کو پوری ریاستی قوت کے ساتھ پی ٹی آئی کے حق میں اور دیگر جماعتوں بالخصوص مسلم لیگ(ن) کے خلاف استعمال کیا گیا۔ پی ٹی آئی مخالف جماعتوں کے ہاتھ پائوں باندھے گئے، الیکٹ ایبلز کو دبائو ڈال کر پی ٹی آئی میں شامل کروایا گیا اور پھر انتخابی میدان سجایا گیا۔
سلیم صافی کہتے ہیں کہ مقامی سطح پر دھاندلی ماضی کے انتخابات میں بھی ہوا کرتی تھی لیکن قومی سطح پر اس کا عسکری اہتمام صرف گزشتہ الیکشن میں دیکھنے کو ملا ۔ ماضی میں کوئی قومی انتخاب ایسا نہیں ہوا کہ جس میں ووٹوں کی گنتی امیدواران کے پولنگ ایجنٹس کی غیر موجودگی میں ہوئی ہو۔ لیکن یہ پاکستانی تاریخ کے پہلے انتخابات تھے کہ جن میں جوانوں نے پولنگ ایجنٹس کو باہر نکال کر ان کی عدم موجودگی میں ووٹوں کی یا کروائی۔ ووٹوں کی گنتی کے دوران بعض سیٹوں پر گڑبڑ کی شکایات ماضی میں بھی سامنے آتی رہیں لیکن 2018 کے الیکشن میں پہلی مرتبہ یہ دیکھنے کو ملا کہ بعض جگہوں بالخصوص بلوچستان، پختونخواہ اور کراچی میں تیسرے نمبر پر آنے والوں کو کامیاب ڈکلیئر کیا گیا اور پہلے نمبر پر آنے والوں کو ناکام قرار دے دیا گیا۔
سلیم صافی کے مطابق اگر تجزیہ کیا جائے تو پی ٹی آئی کے موجودہ ایم این ایز میں ایک خاص رجحان نظر آئے گا۔ جو امیدوار 2018 میں تیسرے نمبر پر آئے تھے لیکن آر ٹی ایس کے فیل ہوجانے کی برکت سے کامیاب ڈکلیئر کئے گئے، ان کے رویے میں زیادہ جارحیت نظر آتی ہے۔ جو دوسرے نمبر پر آئے تھے اور کامیاب ڈکلیئر کئے گئے، ان کا رویہ درمیانہ ہے لیکن جو لوگ پرویز خٹک اور اسد قیصر وغیرہ کی طرح سچ مچ الیکشن جیتے تھے، ان کا رویہ مناسب رہتا ہے ۔
اسیطرح ماضی کی قومی اسمبلیوں کے انتخابات کے بارے میں بھی ایک آدھ جماعت دھاندلی کا الزام لگاتی رہی لیکن آج کی اسمبلی وہ ہے کہ جس کے الیکشن کو صرف مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی نے ہی نہیں بلکہ حکومت میں موجود ایم کیو ایم اور مسلم لیگ (ق) نے بھی جعلی قرار دیا تھا۔ 2018 کے واحد انتخابات تھے جن کے نتائج کو پی ٹی آئی کے سوا باقی سب جماعتوں نے تسلیم نہیں کیا۔
صافی کا کہنا ہے کہ ویسے تو ماضی کی اسمبلیاں بھی زیادہ بااختیار نہیں رہیں لیکن اختیارات کے لحاظ سے یہ اسمبلی سب سے زیادہ بے اختیار سمجھی جارہی ہے۔ اس اسمبلی کو قانون سازی کا مواد کہیں اور سے تیار شکل میں ملتا ہے اور پھر پروسیجر بلڈوز کرکے اسے کہیں اور سے ملنے والے حکم کے مطابق پاس کیا جاتا ہے۔ اسی طرح یہ واحد اسمبلی ہے جس کی حکومت کو ہی نہیں بلکہ اپوزیشن کو بھی کہیں اور سے چلایا جارہا ہے۔ مثلاً فیٹف کی قانون سازی ہو یا دیگر اہم معاملات کی، اس کے لئے اپوزیشن کے ممبران کے ساتھ خفیہ اجلاس اسمبلی بلڈنگ میں نہیں بلکہ کہیں اور رات کی تاریکی میں کئے جاتے ہیں، پھر اسی تناظر میں اسپیکر کو ہدایات ملتی ہیں۔ سلیم صافی کہتے ہیں کہ ماضی کی اسمبلیوں میں اسپیکر طے کرتا تھا کہ کس وقت کس کو فلور دینا ہے لیکن آج کی قومی اسمبلی میں عملاً اسپیکر کے پاس یہ اختیار نہیں ہے اور وہ بھی ایک کٹھ پتلی ہے۔ موجودہ قومی اسمبلی میں وزیر اعظم عمران خان طے کرتے ہیں کہ اگر اپوزیشن سے فلاں بندہ خطاب کرے تو اس کے بعد مراد سعید کو فلور دینا ہوگا اور فلاں کرے تو اسد عمر کو فلور دینا ہوگا، جبکہ اسپیکر اس سے انحراف کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ ماضی کی اسمبلیوں کے اسپیکرز سب اراکین کو ایک نظر سے دیکھا کرتے تھے لیکن موجودہ اسمبلی کے اسپیکر کی آنکھیں بعض لوگوں کے حوالے سے شاید کام چھوڑ دیتی ہیں۔
صافی کے مطابق اسمبلی میں لڑائی جھگڑے ماضی میں بھی ہوجاتے تھے لیکن ماں بہن کی گالیاں جس طرح کھلے عام اس اسمبلی کے اندر دی جا رہی ہیں، اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ افسوس کہ جس عمارت کے اوپر کلمہ طیبہ کی مبارک عبارت تحریر ہے اس کے اندر مائوں بہنوں کو گالیاں دی جاتی ہیں۔ اس لئے جب تک پارلیمنٹ کے اندر یہ سب کچھ ہونا ہے، اسکی بلڈنگ سے کلمہ طیبہ کی عبارت ہٹا دی جائے۔ پچھلی اسمبلیوں میں بھی بعض اوقات ہلڑبازی ہوجاتی تھی لیکن ان میں یہ کام صرف اپوزیشن کیا کرتی تھی، تاہم یہ پاکستان کی تاریخ کی پہلی اسمبلی ہے جس میں ہنگامہ حکومتی ارکان کرتے ہیں۔ یہ نظارے پہلی مرتبہ دیکھنے کو ملے ہیں کہ حکومتی اراکین اور وزرا سیٹیوں کے ساتھ اسمبلی میں آتے ہیں اور حکومتی وزرا بجٹ تقریر کی کتابیں اپوزیشن بنچوں کی طرف اُچھالتےہیں۔ سلیم صافی کا کہنا ہے کہ ماضی کی اسمبلیوں میں بھی بعض ممبران ذاتی حیثیت میں آپے سے باہر ہوکر ماحول خراب کرتے تھے لیکن یہ پہلی اسمبلی ہے جس میں حکومتی اراکین اپنے کہتان کی ہدایت پر پوری تیاری کے ساتھ اس نیت سے ہال میں آتے ہیں کہ اپوزیشن لیڈر کو تقریر نہیں کرنے دیں گے۔ لہذا ان حالات میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت پاکستان میں ایک ایسا ہائبرڈ نظام رائج ہے کہ جس میں نہ تو حکومت نظر آتی ہے اور نہ ہی اپوزیشن اور پاکستان اللہ کے سہارے چل رہا ہے۔
لیکن اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان اللہ کے سہارے اور کتنا عرصہ چل پائے گا؟

Back to top button