کلبھوشن کے لیے اتنا کچھ کرنے کے باوجود بھارت پاکستان سے ناراض


پاکستانی حکام کی جانب سے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو بچانے کی کوششوں پر تنقید کرتے ہوئے بھارت نے پاکستانی قومی اسبملی میں منظور کردہ اس بل کو مسترد کر دیا ہے جس میں کلبھوشن کو اپنے خلاف فیصلے پر نظر ثانی کے لیے سول عدالتوں سے رجوع کرنے کی قانونی گنجائش دی گئی ہے۔ بھارت کا کہنا ہے کہ اس بل میں سول عدالتوں کو بھی یہ فیصلہ کرنے کا اختیار دیا گيا ہے کہ آيا ریاست نے بین الاقوامی قانون کے تحت قیدی کے حوالے سے اپنے فرائض پورے کیے یا نہیں۔
خیال رہے کہ کلبھوشن یادیو کو پاکستان کی ایک فوجی عدالت کی طرف سے سزائے موت کا حکم سنائے جانے کے بعد بھارت نے اس فیصلے کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت سے رجوع کیا تھا، جس نے کلبھوشن کو قونصلر تک رسائی اور فوجی عدالت کے فیصلے کے خلاف پاکستانی سول عدالت میں اپیل کی اجازت دیے جانے کا فیصلہ سنایا تھا۔ حال ہی میں اپوزیشن کی شدید مخالفت کے باوجود پاکستانی قومی اسمبلی نے جو بل منظور کیا تھا، اس کے تحت بیرونی ممالک کے شہریوں کو، خاص طور پر، جن کے کیس کا تعلق بین الاقوامی عدالت انصاف سے ہو، یہ حق دے دینے کی بات کہی گئی ہے کہ وہ اپنے خلاف فیصلے پر نظر ثانی کے لیے سول عدالتوں سے رجوع کر سکتے ہیں۔ تاہم بھارت نے اس بل کی بعض شقوں پر یہ کہہ کر اعتراض کیا ہے کہ اس میں خامیاں ہیں، جنہیں فوری دور کرنے کی ضرورت ہے۔ نئی دہلی میں وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم کا کہنا تھا کہ پاکستان نے سول عدالت کو بھی یہ فیصلہ کرنے کی اجازت دے دی ہے کہ کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی فراہم نہ کرنے میں ریاست نے تعصب سے کام لیا تھا یا نہیں۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ”ریویو اور ری کنسڈریشن بل 2020 ، جو پاکستانی قومی اسبملی نے منظور کیا ہے، اس سے وہ تقاضے پورے نہیں ہوتے، جنہیں بین الاقوامی عدالت انصاف نے کلبھوشن کے کیس پر نظر ثانی کے لیے لازم قرار دیا تھا۔‘‘ ارندم کا کہنا تھا، کہ یہ بل واضح طور پر بنیادی اصول کی خلاف ورزی ہے کیونکہ سوال عدالتیں اس طرح کے معاملات میں فیصلے کی مجاز نہیں ہوتیں کہ آیا کسی ریاست نے بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں یا نہیں۔ یہی نہیں، بلکہ یہ تو ایسے ہوا، جیسے سول کورٹ میں آئی سی جے کے فیصلے کو چیلنج کیا گيا ہو اور اسے اس پر نظر ثانی کی اجازت دی گئی ہو۔‘‘ ان کا کہنا تھا، کہ یہ بل اپنی تمام خامیوں کے ساتھ سابقہ آرڈیننس کو ہی قانون کی شکل دیتا ہے اور یہ قانون یادیو کے کیس کا موثر جائزہ لینے اور اس پر غور و فکر کرنے کے لیے بین الاقوامی عدالت انصاف کے فیصلے کے تقاضوں کے تحت کوئی میکنزم تشکیل نہیں دیتا ہے۔‘‘
بھارتی ترجمان کا کہنا تھا کہ عالمی عدالت انصاف نے اپنے فیصلے میں واضح طور پر کہا تھا کہ چونکہ پاکستان کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی مہیا کرنے میں ناکام رہا ہے، اسی لیے وہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا۔ اسی فیصلے کے تناظر میں قونصلر رسائی مہیا کرنے کے لیے پاکستان نے ایک آرڈینینس کی منطوری دی تھی۔ ارندم بگچی نے کہا، ”وہی آرڈینینس اب ایک بل کی شکل میں ہے، جس میں پاکستانی سول عدالتوں کو یہ فیصلہ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے کہ آیا کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی نہ دینے میں ریاست نے کہیں تعصب سے تو کام تو نہیں لیا؟ بھارتی ترجمان نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ بل میں موجود نقائص کو دور کرنے کے لیے مناسب اقدامات کرے اور آئی سی جے کے فیصلے کی روح کے مطابق عمل کرے۔‘‘
واضح رہے کہ پاکستان کی قومی اسمبلی نے حال ہی میں ایک بل منظور کیا تھا، جس میں بیرونی ممالک کے شہریوں کو، خاص طور پر جن کے کیس کا تعلق بین الاقوامی فوجداری عدالت سے ہو، انہیں یہ حق دے دیا گیا ہے کہ وہ اپنے خلاف فیصلے پر نظر ثانی کے لیے سول عدالتوں سے رجوع کر سکتے ہیں۔
اس بل کی روشنی میں کلبھوشن یادیو بین الاقوامی فوجداری عدالت کے تقاضوں کے مطابق فوجی عدالت کے فیصلے کو ہائی کورٹ اور عدالت عظمیٰ میں چیلنج کر سکیں گے۔ اس کے تحت انہیں ضرورت پڑنے پر قونصلر رسائی بھی حاصل ہو سکتی ہے تاہم اس بارے میں ذیلی عدالتیں بھی فیصلہ سنانے کی مجاز ہوں گی۔ ابھی اس بل کی ملکی سینیٹ میں منظوری باقی ہے، جس کے بعد یہ بل ملکی صدر کو بھیجا جائے گا اور آئینی طور پر صدارتی دستخطوں کے بعد ہی اس قانون پر عمل درآمد ممکن ہو سکے گا۔ گزشتہ ہفتے بھارت کے مبینہ جاسوس کلبھوشن یادیو کے کیس پر عدالت میں سماعت بھی ہوئی تھی تاہم اس پر اگلی سماعت کو اکتوبر تک کے لیے موخر کر دیا گيا تھا۔
پاکستان کا دعویٰ ہے کہ کلبھوشن یادیو بھارتی بحریہ کے ایک حاضر سروس افسر اور بھارتی جاسوس ہیں، جنہیں سن 2016 میں پاکستانی صوبہ بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا۔ پاکستانی حکومت کے مطابق ملک میں ہونے والی متعدد تخریبی کارروائیوں میں ان کا ہاتھ تھا اور خود یادیو نے ان الزامات کا اعتراف بھی کیا ہے۔
دوسری طرف بھارت ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔ بھارت کا کہنا ہے کہ کلبھوشن ایک ریٹائرڈ فوجی افسر ہیں اور وہ اپنے کاروبار کے سلسلے میں ایران گئے تھے اور انہیں پاکستانی ایرانی سرحد پر مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا تھا۔
تاہم پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارت یہ ثابت کرنے میں بھی ناکام رہا تھا کہ یادیو بھارتی بحریہ سے کب اور کس طرح ریٹائر ہوئے، کیونکہ گرفتاری کے وقت کلبھوشن یادیو کی عمر 47 برس تھی۔ نیز کلبھوشن یادیو کے پاس جعلی شناخت کے ساتھ اصلی پاسپورٹ کیسے آیا، جس کو انہوں نے 17 مرتبہ بھارت آنے جانے کے لیے استعمال کیا اور جس میں ان کا نام حسین مبارک پٹیل لکھا ہوا ہے۔

Back to top button