نیب لاہور نے رانا ثنا اللہ کو 10 ستمبر کو طلب کرلیا

نیب لاہور نے مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنااللہ کو 10 ستمبر کوطلب کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثنااللہ کے خلاف جاری انکوائری کو انویسٹی گیشن میں تبدیل کرنے کی منظوری دی گئی تھی جس کے بعد نیب کی طرف سے انہیں طلب کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ رانا ثنااللہ کے خلاف غیر قانونی اثاثہ جات بنانے کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں جہاں وہ اس سے پہلے بھی نیب میں پیش ہوکر بیان ریکارڈ کرواچکے ہیں ۔
واضح رہے کہ قومی احتساب بیورو ( نیب ) لاہور میں ڈی جی نیب کی زیر صدارت ریجنل بورڈ نے رانا ثنااللہ کے خلاف جاری انکوائری کو انویسٹی گیشن میں منتقل کرنے کی منظوری دیدی تھی، فیصلہ کمبائنڈ انویسٹی گیشن ٹیم کی رانا ثنااللہ کے خلاف مبینہ آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس پر جامع بریفنگ کے بعد کیا گیا، ٹیم نے اب تک رانا ثنااللہ کے خلاف جاری انکوائری کے دوران 40 کروڑ سے زائد مالیت کے اثاثہ جات کی موجودگی کے شواہد اکھٹے کئے ہیں، بورڈ میٹنگ کے دوران رانا ثنااللہ کے اثاثہ جات کی وصولی کی تفصیلات اور ان کے بیانات پر جامع بریفنگ دی گئی ، انویسٹی گیشن کے دوران رانا ثنااللہ اور اہل خانہ کے نام مزید پراپرٹیوں اور اثاثہ جات کی موجودگی کے حوالے سے انکشافات سامنے آئے ہیں، پیشی کے دوران رانا ثنااللہ کروڑوں مالیت پر مشتمل اثاثہ جات کے ذرائع بتانے سے قاصر رہے تھے، انہی اثاثہ جات پر وہ تاحال کروڑوں کی آمدن بھی حاصل کر چکے لیکن ذرائع نہ بتا سکے۔
یاد رہے کہ رانا ثنااللہ کے اثاثہ جات میں لاہور اور فیصل آباد میں متعدد پلاٹ، مکان، فارم ہاؤس، دکانیں شامل ہیں، رانا ثنااللہ نے کمپنی کے قیام کے علاوہ ہاؤسنگ سوسائٹی میں انویسٹمنٹ بھی کر رکھی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button