نیب مقدمات کا دوبارہ کھلنا: احتساب یا سیاسی انجینئرنگ؟

سپریم کورٹ کی طرف سے نیب قوانین میں کی گئی ترامیم کالعدم قرار دیے جانے کے بعد نیب نے ایک ہزار سے زائد کرپشن کے کیسزدوبارہ کھول دئیے ہیں۔نیب کے اس فیصلے پر کئی حلقوں کی طرف سے سخت تقنید ہو رہی ہے۔ اس فیصلے کے بعد کئی سیاست دان ایک بار پھر نیب کے سامنے حاضریاں بھگتیں گے۔ اسی لیے کچھ سیاست دان اسے سیاسی انجینئرنگ سے جوڑ رہے ہیں اور کچھ کے خیال میں سپریم کورٹ سے یہ فیصلہ تمام سیاست دانوں کو کنٹرول کرنے کیلئے لیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی اپیل کو منظور کرتے ہوئے نیب میں ترامیم کرنے والے قانون کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔ عدالت نے اس قانون کے دس میں سے نو نکات کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔عدالت نے یہ بھی حکم دیا تھا کے موجودہ اور سابق عوامی نمائندوں کے خلاف کرپشن کے 50 کروڑ سے کم کے جو مقدمات ہیں ان کو بحال کیا جائے۔

سپریم کورٹ کے حکم پر نیب کی جانب سے دوبارہ مقدمات کھلنے کے بعد مریم نواز، آصف علی زرداری، میاں نواز شریف، مولانا فضل الرحمن، اسحاق ڈار،خواجہ اصف، خواجہ سعد رفیق، جاوید لطیف، مخدوم خسرو بختیار، عامر محمود کیانی، اکرم درانی، سلیم مانڈوی والا، نور عالم خان، نواب اسلم رئیسانی، ڈاکٹرمالک بلوچ، ثنا اللہ زہری، منظور وسان، شرجیل میمن، امیر مقام، لیاقت جتوئی، گہرام بگٹی، جعفر خان مندوخیل اور گورنر گلگت بلتستان سید مہدی شاہ تفتیش کی زد میں آ سکتے ہیں۔اس کے علاوہ کئی سابق اور موجودہ سرکاری ملازمین بھی اس تفتیش کا حصہ بن سکتے ہیں۔

نیب کی جانب سے سیاستدانوں کیخلاف دوبارہ کیسز کھولنے کے فیصلے بارے پاکستان پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ ان کرپشن کے مقدمات کو دوبارہ کھولنے کا مطلب یہ ہے کہ نیب کو ایک بار پھر سیاسی انجینئرنگ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر کا کہنا ہے کہ اس حقیقت کے باوجود کہ سپریم کورٹ میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ زیر سماعت ہے، نیب کی اس طرح کی تیزی دکھانا حیرت انگیز ہے۔انہوں نےبتایا، ”میرا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ نیب ایک پولیٹیکل انجینئرنگ کا ادارہ ہے۔ یہ ماضی میں بھی پولیٹیکل انجینئرنگ کے لیے استعمال کیا گیا ہے اور اب بھی ایسا لگ رہا ہے کہ اس کو پولیٹیکل انجینئرنگ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔‘‘فرحت اللہ بابر کے مطابق سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ابھی سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ عدالت میں زیر بحث ہے۔ ایسے میں نیب کا یہ فیصلہ واضح اشارہ ہے کی سیاسی انجینئرنگ کی جائے گی۔ان کا کہنا تھا، ’’اس ایکٹ میں یہ واضح طور پر کہہ دیا گیا تھا کہ تین سینیئر ججوں کی مشاورت سے بینچ تشکیل دیا جائے گا لیکن نیب قانون میں ترمیم کے حوالے سے مقدمے میں جو بینچ تشکیل دیا گیا وہ تین سینیئر ججوں کی مشاورت سے تشکیل نہیں پایا گیا تھا۔ اگر اس بینچ کو ہی غیر قانونی قرار دے دیا جاتا ہے، تو پھر دوبارہ سے کیسیز کھولنے کے اس فیصلے کی کیا قانونی حیثیت ہو گی؟‘‘

اسلام اباد سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار ایوب ملک کا کہنا ہے کہ نیب کو ہمیشہ عوامی نمائندوں کے خلاف استعمال کیا گیا اور اب بھی اسے عوامی نمائندوں کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا، ” بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ نون لیگ کو کچھ رعایت مل رہی ہے لیکن دراصل اس طرح کے مقدمات کھولنے کا مطلب یہ ہے کہ شاید اسٹیبلشمنٹ نون لیگ کو کوئی نقصان نہ پہنچائے لیکن جہاں اسے یہ محسوس ہوگا کہ نون لیگ ان کے ہاتھ سے نکل رہی ہے، تو وہ نیب کی اس لٹکتی ہوئی تلوار استعمال کریں گے۔‘‘ایوب ملک کے مطابق ان مقدمات کو دوبارہ سے کھولنے کا مقصد یہ ہے جماعتوں کو کنٹرول میں رکھا جائے اور ان پر طاقت ور ریاستی عناصرکی گرفت کمزور نہ ہو۔

لاہور سے تعلق رکھنے والے سیاسی مبصر اور کالم نگار امتیاز عالم کا کہنا ہے کہ مقدمات کی ری اوپننگ ن لیگ کے لیے پیغام ہے۔انہوں نے بتایا، ”پی ڈی ایم کے سولہ مینہے کے اقتدار نے ان کی سیاسی ساکھ کو بہت متاثر کیا ہے۔ ایسے میں میاں نواز شریف نے باجوہ اور فیض کے احتساب کی بات کر کے ن لیگ کے لیے ایک بیانیہ تیار کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ اب ن لیگ کی زباں بندی کی جارہی ہے اورمقدمات کی ری اوپننگ بھی اسی طرف ممکنہ طور پر اشارہ ہو سکتی ہے۔‘‘

Back to top button