نیب نے رانا ثناء اللہ کو19 فروری کو دوبارہ طلب کر لیا

قومی احتساب بیورو نیب نے اثاثہ جات کیس میں مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما رانا ثناءاللہ کو ایک بار پھر طلب کر لیا ہے
نیب نے رانا ثناءاللہ کو 19 فروری کو پیش ہونے اور فیملی اراکین کی جائیدادوں سے متعلق تفصیلات ہمراہ لانے کی ہدایت کی ہے۔
مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثناءاللہ کو نیب کی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کے روبروپیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔ رانا ثناءاللہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے ہمراہ اہل خانہ کی جائیدادوں سے متعلق تفصیلات بھی لائیں۔ اس کے علاوہ ان کی جانب سے 2 جنوری کو جمع کروائے گئے اثاثہ جات پرفاما سے متعلق بھی وضاحت مانگی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب نے رانا ثنا اللہ نے پوچھا ہے کہ انہوں نے اپنا کاروبار کیسے شروع کیا؟ اس کے لیے سرمایہ کہاں سے آیا؟، جو جائیدادیں بنائی گئی ہیں ان کا ذریعہ کیا تھا؟، کاروبار کیسے شروع کیا اس کے لیے سرمایہ کہاں سے آیا؟ تحریری وضاحت ہمراہ لائیں نیب حکام کی طرف سے مزید پوچھا گیا ہے کہ آپ کے خاندان کے دیگر اراکین کے اثاثے کتنے ہیں اور ان میں کتنا اضافہ ہوا؟، انہوں نے اہل خانہ کو تحائف کی صورت میں کیا کیا دیا؟ جو تحائف دئیے گئے اس رقم کا ذریعہ کیا تھا؟۔ نیب حکام نے مزید پوچھا ہے کہ جائیدادوں کو بنانے کے لیے سورس آف انکم کیا تھا اس کی بھی تحریری وضاحت دیں جبکہ جن کاروبار میں شراکت داری ہے اس سے متعلق بھی تفصیلاً تحریری وضاحت طلب کی گئی ہے۔
دوسری طرف انسداد منشیات کی عدالت نے رانا ثناء اللہ کی گاڑی کی سپردگی کی درخواست پر تحریری حکم جاری کردیا ہے
مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناء اللہ نے انسداد منشیات کی عدالت میں دو درخواستیں دائر کی تھیں جن میں انہوں نے عدالت سے اے این ایف کے پاس موجود ان کی گاڑی اور کیس سے متعلق ویڈیو فراہم کرنے کی استدعا کی تھی لیکن عدالت نے ان کی درخواستوں کو مسترد کردیا تھا۔ انسداد منشیات کی خصوصی عدالت کے جج شاکر حسن نے 2 صفحات پر مشتمل تحریری حکم جاری کیا جس میں کہا گیا ہےکہ پراسیکیوشن کا الزام ہے کہ ملزم گاڑی میں ہیروئن رکھ کر سفر کررہا تھا اور ملزم کی گاڑی سے 15 کلو ہیروئن برآمد ہوئی۔ عدالت نے تحریری حکم میں کہا ہےکہ اے این ایف کے قانون کے مطابق گاڑی ملزم کو فراہم نہیں کی جا سکتی، رانا ثناءاللہ کی گاڑی مال مقدمے کے طور پر اے این ایف کے پاس موجود رہے گی لہٰذا ملزم کی گاڑی سپرد کرنے کی استدعا مسترد کی جاتی ہے۔
انسداد منشیات فورس (اے این ایف) نے مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر و رکن قومی اسمبلی رانا ثناءاللہ کو 2 جولائی 2019 کو فیصل آباد سے لاہور جاتے ہوئے گرفتار کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ رانا ثناء کی گاڑی سے بھاری مقدار میں منشیات برآمد کی گئی۔ رانا ثناء اللہ نے عدالت سے رجوع کیا اور پھر 24 دسمبر 2019 کو لاہور ہائیکورٹ نے رانا ثناء اللہ کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔ رانا ثناء اللہ کی جانب سے 10، 10 لاکھ روپے کے دو حفاظتی مچلکے جمع کرائے جانے کے بعد 26 دسمبر کو انہیں رہا کر دیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button