نیب کا مریم نواز کی گرفتاری کا فیصلہ، ضمانت منسوخی کی درخواست دائر

نیب نے مریم نوازکو گرفتار کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئےان کی ضمانت منسوخ کرنے کے لئے ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔ دوسری طرف لاہور ہائیکورٹ نے چوہدری شوگر ملز منی لانڈرنگ کیس میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی ضمانت منسوخی سے متعلق قومی احتساب بیورو (نیب) کی درخواست پر سماعت مقرر کردی۔جسٹس سردار سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ 15 مارچ کو چیئرمین نیب کی درخواست پر سماعت کرے گا۔
نیب لاہور نے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کی درخواست ضمانت خارج کرنے کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا ہے، چیئرمین نیب نے پراسکیوٹر جنرل پنجاب کی وساطت سے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی، جس میں مریم نواز اور وزارت داخلہ کو فریق بنایا گیا ہے۔
نیب کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ مریم نواز لاہور ہائیکورٹ سے چوہدری شوگر ملز کیس میں ضمانت پر رہا ہیں، اور ضمانت پر رہا ہونے کے بعد مسلسل ریاستی اداروں پر حملے کر رہی ہیں، وہ میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے بھی ریاستی اداروں کیخلاف بیان بازی کر رہی ہیں، اور ریاست مخالفت پروپیگنڈہ کرنے میں بھی مصروف ہیں۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ مریم نواز کے خلاف چودھری شوگر ملز سمیت دیگر انکوائریز پر تحقیقات جاری ہیں، انہیں چودھری شوگر ملز میں دستاویزات طلبی کیلئے 10 جنوری 2020 کو نوٹس بھجوائے گئے تھے، لیکن انہوں نے نیب کے نوٹسز پر کوئی توجہ نہیں دی اور نہ مطلوبہ ریکارڈ فراہم کیا، انہیں دستاویزات فراہم نہ کرنے پر 11 اگست 2020 کو بھی ذاتی حیثیت میں طلب کیا گیا تھا، لیکن انہوں نے نے اپنی سیاسی طاقت کا استعمال کیا اور نیب آفس پر حملہ کروایا، ان کے کارکنوں نے پولیس اور نیب آفس پر پتھراﺅ کیا جس کا مقدمہ علیحدہ سے درج کیا جاچکا ہے۔
نیب نے مؤقف اپنایا ہے کہ چوہدری شوگر ملز کی تحقیقات کیلئے مریم نواز کو متعدد مرتبہ طلب کیا گیا، لیکن وہ پیش نہ ہو کر نیب کی تحقیقات میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں، اور اپنے ہتھکنڈوں سے عوام میں یہ تاثر دے رہی ہیں کہ ریاستی ادارے غیر فعال ہو چکے ہیں، وہ جان بوجھ کر ریاستی اداروں کی ساکھ خراب ہونے کے بیانات دے رہی ہیں، اور وہ ضمانت پر رہا ہونے کے باوجود نیب سے تحقیقات میں تعاون نہیں کر رہیں، ان کی کی چودھری شوگر ملز منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت منسوخ کی جائے۔
دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ نے مریم نواز کی ضمانت منسوخی کی درخواست سماعت کیلئے مقرر کردی ہے، چیئرمین نیب کی درخواست پر سماعت جسٹس سردار سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ 15 مارچ کو کرے گا۔
خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت کے دوران جنوری 2018 میں مالی امور کی نگرانی کرنے والے شعبے نے منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت چوہدری شوگر ملز کی بھاری مشتبہ ٹرانزیکشنز کے حوالے سے نیب کو آگاہ کیا تھا۔بعدازاں اکتوبر 2018 میں نیب کی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی تھی کہ نواز شریف، مریم نواز، شہباز شریف اور ان کے بھائی عباس شریف کے اہلِ خانہ، ان کے علاوہ امریکا اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے کچھ غیر ملکی اس کمپنی میں شراکت دار ہیں۔
ذرائع نے بتایا تھا کہ چوہدری شوگر ملز میں سال 2001 سے 2017 کے درمیان غیر ملکیوں کے نام پر اربوں روپے کی بھاری سرمایہ کاری کی گئی اور انہیں لاکھوں روپے کے حصص دیے گئے۔اس کے بعد وہی حصص متعدد مرتبہ مریم نواز، حسین نواز اور نواز شریف کو بغیر کسی ادائیگی کے واپس کیے گئے جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ کمپنی میں بھاری سرمایہ کاری کے لیے غیر ملکیوں کا نام اس لیے بطور پراکسی استعمال کیا گیا کیوں کہ شریف خاندان کی جانب سے سرمایہ کاری کے لیے استعمال کی جانے والی رقم قانونی نہیں تھی۔جس پر 31 جولائی کو تفتیش کے لیے نیب کے طلب کرنے پر وہ پیش ہوئیں تھیں اور چوہدری شوگر ملز کی مشتبہ ٹرانزیکشنز کے سلسلے میں 45 منٹ تک نیب ٹیم کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا۔
رپورٹ کے مطابق یوسف عباس اور مریم نواز نے تحقیقات میں شمولیت اختیار کی تھی لیکن سرمایہ کاری کرنے والے غیر ملکیوں کو پہچاننے اور رقم کے ذرائع بتانے سے قاصر رہے اور مریم نواز نوٹس میں بھجوائے سوالوں کے علاوہ کسی سوال کا جواب نہیں دے سکی تھیں۔جس پر نیب نے مریم نواز کو 8 اگست کو دوبارہ طلب کرتے ہوئے ان سے چوہدری شوگر ملز میں شراکت داری کی تفصیلات، غیر ملکیوں، اماراتی شہری سعید سید بن جبر السویدی، برطانوی شہری شیخ ذکاؤ الدین، سعودی شہری ہانی احمد جمجون اور اماراتی شہری نصیر عبداللہ لوتا سے متعلق مالیاتی امور کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی۔
اس کے ساتھ مریم نواز سے بیرونِ ملک سے انہیں موصول اور بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر/ٹیلیگرافگ ٹرانسفر کی تفصیلات بھی طلب کی گئی تھیں۔8 اگست کو ہی قومی احتساب بیورو نے چوہدری شوگر ملز کیس میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کو گرفتار کر کے نیب ہیڈکوارٹرز منتقل کر دیا تھا۔جس کے بعد ان کے جسمانی ریمانڈ میں کئی مرتبہ توسیع کی گئی تھی، جس کے بعد عدالت نے انہیں 4 ستمبر کو مزید 14 روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا تھا۔
18 ستمبر کو انہیں دوبارہ عدالت میں پیش کیا گیا تھا، جہاں عدالت نے جسمانی ریمانڈ میں 7 روز کی توسیع کی تھی اور 25 ستمبر کو انہیں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔بعد ازاں جب 25 ستمبر کو مریم نواز کو پیش کیا گیا تھا تو ان کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انہیں عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔
مریم نواز کے عدالت ریمانڈ میں بھی کئی مرتبہ توسیع ہوچکی ہے اور آخری مرتبہ جب 25 اکتوبر کو انہیں عدالت میں پیش کیا گیا تھا تو 8 نومبر تک ان کے عدالتی ریمانڈ میں توسیع کی گئی تھی۔6 نومبر کو لاہور کی احتساب عدالت سے رہائی کی روبکار جاری ہونے کے بعد مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کو ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا۔
