نیوٹرل واقعی جانور ہوتا ہے تواب جانور نیوٹرل کیوں نہ رہے؟


معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار جاوید چودھری نے کہا ہے کہ عمران خان اپنی کہی ہوئی کسی بات پر بھی ذیادہ عرصہ تک قائم نہیں رہ سکتے۔ وہ حکومت میں ہوں تو نیوٹرل کو جانور سمجھتے ہیں اور اگر حکومت سے نکل جائیں تو نیوٹرل کے نیوٹرل رہنے پر اصرار کرتے ہیں۔ یہ کمال صرف خان صاحب ہی کر سکتے ہیں۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ ہمیں آج ماننا ہوگا کہ یہ ملک تقسیم در تقسیم کا شکار ہے اور ہر تقسیم خود کو مکمل اوردرست سمجھ رہی ہے۔ یہ سلسلہ اگر یہاں تک رک جاتا تو بھی شاید گزارہ ہو جاتا لیکن یہ ایشو گھمبیر سے گھمبیر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ہماری نظر میں اب عدالت بھی صرف وہ درست ہے جو ہمارے حق میں فیصلہ دے۔ پولیس بھی صرف وہ اچھی ہے جو ہمارے مخالف کا سر اتار دے۔ جمہوریت بھی صرف وہ اصلی ہے جس کے ذریعے میں ہی اقتدار میں آؤں۔ آئین بھی صرف وہہ ٹھیک ہے جو میری کرسی کی حفاظت کرے۔ مذہب بھی صرف وہ سچا ہے جسے میں سچا مان رہا ہوں اور فرقہ بھی صرف وہی درست ہے جس کا میں پیروکار ہوں۔ لہٰذا ایسے میں سوال یہ ہے کہ اس ملک میں لڑائی کیسے رکے گی اور امن اور سکون کیسے ہو گا؟

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ آپ شیریں مزاری کے معاملے ہی کو لے لیں۔ شیریں مزاری کے خاندان کے قبضے میں چالیس ہزار کنال زمین ہے‘ زمین کا ریکارڈ 1972 میں غائب کر دیا گیا تھا اور یہ کیس پانچ دہائیوں سے مختلف عدالتوں میں چل رہا تھا‘ اینٹی کرپشن پنجاب کے سابق ڈی جی رائے منظور نے پچاس سال پرانا ریکارڈ کھود کر نکال لیا‘ پنجاب میں عثمان بزدار کی حکومت تھی‘ اس دور میں شیریں مزاری اور ان کے خاندان کے خلاف ایف آئی آر درج ہو گئی۔ نئی حکومت آئی تو پہلا کمال یہ ہوا پچاس سال پرانا ریکارڈ نکالنے والے رائے منظور کو عہدے سے ہٹا دیا گیا لیکن محکمہ اس کے باوجود مزاری فیملی کو سمن بھجواتا رہا مگر شیریں مزاری اور ان کے خاندان نے پیش ہونے سے انکار کر دیا یہاں تک کہ اینٹی کرپشن نے 21مئی کو پولیس کی مدد سے شیریں مزاری کو گرفتار کر لیا‘ پورے ملک نے وڈیو میں دیکھا کہ شیریں مزاری کو خاتون پولیس اہلکار گرفتار کر رہی ہیں اور مزاری انھیں گالیاں دے رہی ہیں‘ میں قطعی طور پر یہ نہیں کہہ سکتا کہ باسٹرڈ اب گالی بھی ہے یا نہیں، لیکن شیریں مزاری اس وقت یہ فرما رہی تھیں۔ بہرحال گرفتاری کے بعد کہرام برپا ہو گیا اور وزیراعلیٰ حمزہ شہباز نے بھی خاتون کے ساتھ ناروا سلوک کا نوٹس لے لیا‘ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی پولیس اور اینٹی کرپشن کو طلب کر لیا اور سوشل میڈیا پر بھی ٹرینڈ بننے لگے‘ ہم سردست یہ مان لیتے ہیں شیریں مزاری کے ساتھ زیادتی ہوئی‘ ملک میں کسی ہائی پروفائل خاتون کے ساتھ یہ سلوک نہیں ہونا چاہیے تھا لیکن سوال یہ ہے کہ آج سے چار سال قبل جب مریم نواز اور نواز شریف کو لاہور ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا تو کیا وہ درست تھا اور کیا مریم نواز خاتون نہیں ہیں؟

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ شیریں مزاری کو تو تمام زنانہ حقوق مل گئے لیکن مریم نواز پہلے عدالت اور پھر جیل میں اپنے قانونی زنانہ حقوق سے محروم رہیں۔ مرد اہلکار ان کے سیل کی نگرانی کرتے تھے اور ان کے کمرے میں کیمرے بھی لگے ہوئے تھے۔ دوسرا نواز شریف اور مریم نواز کو لاہور سے گرفتار کیا گیا تھا اور پنجاب ن لیگ کا گڑھ ہے اگر یہ دونوں تب گرفتاری نہ دیتے اور شیریں مزاری کی طرح مزاحمت کرتے تو کیا انھیں گرفتار کیا جا سکتا تھا؟ تیسری بات یہ کہ کیا کسی عدالت نے مریم نواز کی مس ہینڈلنگ کا نوٹس لیا؟ اگر نہیں لیا تو کیوں نہیں لیا؟ کیا مریم خاتون نہیں ہیں؟ آپ کو 11 اگست 2020 کا دن بھی یاد ہو گا۔ اس دن نیب لاہور نے مریم نواز کو طلب کیا تھا اور ن لیگ کے کارکنوں نے نیب لاہور کا محاصرہ کر لیا تھا‘ مجھ سمیت پورے میڈیا نے ن لیگ کی مذمت کی تھی‘ ہم سب کا کہنا تھا اداروں کا احترام ہونا چاہیے‘ ریاست مدینہ میں اگر حضرت عمر فاروقؓ سے کرتے کا حساب مانگا جا سکتا ہے تو شریف فیملی کو کیوں طلب نہیں کیا جا سکتا لیکن آج جب شیریں مزاری نے گرفتاری پر مزاحمت کی تو کسی طرف سے اداروں کے احترام کی آواز نہیں اٹھی‘ آج کسی نے نہیں کہا قانون کی نظر میں سب کو برابر ہونا چاہیے اور آج کسی کو بھی ریاست مدینہ یاد نہیں آئی‘کیوں؟

جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے 19مئی 2022 کو ایک تاریخی حکم جاری کیا‘ اس حکم سے قبل چیف جسٹس بندیال نے اپنے ایک کولیگ جج کے خط کی روشنی میں سوموٹو نوٹس لیا‘ اگلے دن اٹارنی جنرل کو طلب کیا اور مختصر سماعت کے بعد حکم جاری کر دیا ہائی پروفائل کیسز کی تفتیش اور قانونی ٹیم تبدیل نہیں کی جائے گی‘ نیب اور ایف آئی اے کو وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ حمزہ شہباز کے مقدمات اور تفتیش جاری رکھنے کا حکم بھی دے دیا گیا۔ یہ فیصلہ تاریخی بھی ہے اور ٹھوس بھی۔ بے شک حکومتیں بدلنے سے ملک میں قانون نہیں بدلنا چاہیے۔ یہ کیا بات ہوئی کہ پولیس فروری تک شیخ رشید کے حکم پر اپوزیشن کو ڈنڈے مار تی رہے اور دو ماہ بعد رانا ثناء اللہ کی ہدایت پر عمران خان کے لیے ڈنڈے تیار کرنے لگے۔ احتجاج اگر حق ہے تو یہ حق سب کو ملنا چاہیے اور نہیں تو پھر سب کو محروم ہونا چاہیے۔ عہدے تبدیل ہونے سے ریاست کا نظریہ کیسے بدل سکتا ہے؟ اور حکومتیں تبدیل ہونے سے تفتیش اور پراسیکیوشن کیسے تبدیل ہو سکتی ہے لہٰذا سپریم کورٹ کا فیصلہ مقدم بھی تھا اور بروقت بھی۔ لیکن بقول جاوید چوہدری، سوال یہ ہے کیا صرف شریف فیملی کے مقدمات ہی ہائی پروفائل ہیں اور شیریں مزاری کا کیس لو پروفائل ہے اور کیا اینٹی کرپشن کا محکمہ ایف آئی اے اور نیب کی طرح ریاستی ادارہ نہیں؟ اور اگر یہ بھی ریاستی ادارہ ہے اور شیریں مزاری کا کیس بھی ہائی پروفائل ہے تو پھر اس کیس کی تفتیش شروع ہوتے ہی ڈی جی اینٹی کرپشن رائے منظور اور کیس کے دوسرے تفتیش کاروں کو کیوں بدل دیا گیا؟ کیا یہ ٹرانسفر درست تھی اور اگر رائے منظور شیریں مزاری کیس پر ہاتھ نہ ڈالتا‘ یہ پچاس سال پرانا ریکارڈ نہ نکالتا تو کیا پھر بھی اس کا ٹرانسفر ہو جاتا؟ یہ افسر اس عہدے پر صرف 75 دن قائم رہا جبکہ عہدے کی مدت تین سال ہے۔ کیا کسی نے وزیراعلیٰ پنجاب کو بلا کر اس تبادلے کی وجوہات پوچھیں اور کیا اس کا مطلب یہ نہ لیا جائے کہ ہمارے ملک میں خواتین کی طرح ہائی پروفائل کیس بھی اپنے اپنے ہوتے ہیں ‘بالکل نیوٹرل کی طرح آپ اگر حکومت میں ہیں تو نیوٹرل جانور ہوتے ہیں اور آپ اگر حکومت سے نکل گئے تو پھر نیوٹرل کو نیوٹرل رہنا چاہیے لہٰذا آپ اب نیوٹرل ہی رہیں یعنی جانور بن جائیں‘کیا یہ کمال نہیں!

جاوید کہتے ہیں کہ ہمیں آج یہ ماننا ہوگا یہ ملک تقسیم در تقسیم کا شکار ہے اور ہر تقسیم خود کو مکمل اوردرست سمجھ رہی ہے۔ پی ٹی آئی کی نظر میں مریم نواز خاتون نہیں ہیں اور ن لیگ شیریں مزاری کو عورت ماننے کے لیے تیار نہیں۔ ن لیگ دو ماہ پہلے تک اسٹیبلشمنٹ سے نیوٹرل ہونے کا مطالبہ کر رہی تھی اور آج یہ پٹرول کی قیمت بڑھانے کا فیصلہ بھی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی میں کرنا چاہتی ہے۔ ہائی پروفائل کیسز بھی صرف وہ ہیں جن پر شریف فیملی کا ٹھپہ لگا ہو‘ احتجاج کا حق بھی صرف اس وقت حق ہے جب ہم اپوزیشن میں ہیں‘ ہم اگر حکومت میں آ گئے تو پھر ملک میں کوئی شخص احتجاج نہیں کر سکتا‘ جمہوریت بھی صرف اس وقت تک جمہوریت ہے جب تک میں کرسی پر ہوں‘ آئین بھی صرف اس وقت تک آئین ہو گا جب تک یہ میرے عہدے اور انا کی حفاظت کرتا رہے گا اور عدالتیں بھی صرف اس وقت تک عدالتیں رہیں گی جب تک یہ میرے لیے کھلتی رہیں گی‘ یہ اگر ایک بار کسی اور کے لیے کھل گئیں تو پھر جج جج اور عدالتیں عدالتیں نہیں ہیں لہٰذاآپ پھر دل پر ہاتھ رکھ کر بتایے یہ ملک اس طرح چل سکے گا؟ کیا ہم ان حالات میں آگے بڑھ سکیں گے؟۔

Back to top button