ن لیگ کا جسٹس ثاقب نثار کی گرفتاری کا مطالبہ

سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم کے انکشافات کے معاملے کو مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے پارلیمنٹ میں اٹھانے کا اعلان کر دیا ہے۔

سابق وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کے ہمراہ اسلام آباد میں میڈیا سے مشترکہ گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ رانا شمیم نے بغیر کسی دباؤ کے حلفیہ بیان دیا ، مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کو نااہل کرکے سیاست سے علیحدہ کر دیا گیا ہے۔

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور رانا شمیم سمیت تین افراد کو حقیقت کا علم ہے لیکن پاکستان کے عوام کو بھی سچ پتا چلنا چاہئے ، الیکشن کے عمل میں مداخلت ہو تو کیا ہم پوچھنے کا حق نہیں رکھتے؟ اگر ملک کا چیف جسٹس ملوث ہو تو انصاف کہاں سے ملے گا؟

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دعا ہے کہ اس معاملے میں ثاقب نثار ملوث نہ ہوں ، ثاقب نثار نے ہسپتالوں کے دورے کیے ، ڈیم بنانے کی کوشش کی ، ہمیں رانا شمیم کے بیان پریقین کرنا پڑے گا۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ رانا شمیم نے یہ بیان لندن میں ایک اوتھ کمشنرکے سامنے دیا، جو 2018ء میں ہوا وہ سب کے سامنے آ رہا ہے۔ بیان میں بتایا گیا کہ جولائی 2018 میں رانا شمیم چیف جج گلگت بلتستان تھے جو بیان دیا گیا وہ پاکستان کے عوام کے سامنے ہے ، رانا شمیم جھوٹ بول رہے ہیں تو انہیں سزا دی جائے ، اگر سچ بول رہے ہیں تو سابق چیف جسٹس کی جگہ جیل ہے اگر نواز شریف جیل جا سکتے ہیں تو ثاقب نثاربھی جیل جاسکتے ہیں ، اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے۔

سابق وزیراعظم نے اعلیٰ عدالت سے معاملے کا ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کے کنڈکٹ پر انگلی اٹھائی جا رہی ہے ، اس موقع پر خواجہ آصف نے بھی کہا کہ جب اس قسم کے الیکشن ہوں گے تو ایسی ہی اسمبلیاں ملیں گی ، یہ بات سامنے آ گئی کہ عدلیہ کمپرومائز ہوئی ہے ، پارلیمنٹ میں معاملہ اٹھائیں گے ۔

Back to top button