ن لیگ کی سی سی پی او لاہور کو ہٹانے کیلئے متفرق درخواست دائر

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور رکن پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے حال ہی میں تعینات کیپٹل سٹی پولیس افسر (سی سی پی او) لاہور عمر شیخ کو کام سے عہدے سے ہٹانے کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں متفرق درخواست دائر کردی۔
ملک محمد احمد خان نے لاہور ہائی کورٹ میں سی سی پی او کی تعیناتی کے خلاف پہلے سے دائر درخواست سے متعلق مزید شواہد جمع کرانے کی استدعا کی۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما ملک محمد احمد خان نے درخواست میں وفاقی و پنجاب حکومت اور سی سی پی اور لاہور کو فریق بنایا ہے۔انہوں نے مؤقف اپنایا کہ سی سی پی او نے اپنے سینئر افسر کے بارے میں ہتک آمیز استعمال کیے، جس کے بعد گینگ ریپ کیس میں بھی نامناسب اور غیر ذمہ دارانہ بیان دیا۔لیگی رہنما نے کہا کہ سی سی پی او کے رویے سے پاکستان سمیت لاہور بھر کی خواتین خود کو غیر محفوظ تصور کر رہی ہیں جبکہ انہوں نے گینگ ریپ کیس میں غلط بیان کی معافی مانگنے سے بھی صاف انکار کر دیا ہے۔ملک محمد احد خان نے لاہور ہائی کورٹ سے استدعا کرتے ہوئے کہا کہ سی سی پی او لاہور کو فوری طور پر کام سے روکا جائے۔
قبل ازیں ملک محمد احمد خان نے آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کو سی سی پی او لاہور سے اختلافات کے بعد تبدیلی کرنے کے پنجاب حکومت کے فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ میں چینلج کیا تھا۔اپنی پہلی درخواست میں انہوں نے کہا تھا کہ حکومت نے آئی جی کو تبدیل کرکے پولیس آرڈر 2002 اور حکومت پنجاب کے رولز آف بزنس کی خلاف ورزی کی ہے۔
یاد رہے کہ 8 ستمبر کو پنجاب میں ایک مرتبہ پھر آئی جی کو تبدیل کرتے ہوئے شعیب دستگیر کو عہدے سے ہٹا کر انعام غنی کو نیا آئی جی پولیس تعینات کردیا گیا تھا۔شعیب دستگیر کی آئی جی کے عہدے سے تبدیلی حال ہی میں تعینات ہونے والے کیپیٹل سٹی پولیس افسر (سی سی پی او) لاہور عمر شیخ سے اختلافات کے بعد سامنے آئی تھی۔
اس سے قبل یہ رپورٹس آئی تھیں کہ شعیب دستگیر نے ان کی مشاورت کے بغیر عمر بن شیخ کو سی سی پی او لاہور تعینات کرنے پر تحریک انصاف کی پنجاب حکومت کے تحت کام کرنے سے انکار کردیا تھا۔رپورٹس کے مطابق شعیب دستگیر نے وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات کرکے سی سی پی کی جانب سے کی گئی قواعد کی خلاف ورزی کی تحقیقات کرنے اور قانون کے مطابق کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما کی جانب سے دائر پہلی درخواست پر سماعت 10 ستمبر کو چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ محمد قاسم خان کی سربراہی میں بینچ نے کی تھی جبکہ اگلی سماعت 14 ستمبر کو مقرر ہے۔ملک محمد احمد خان نے تازہ درخواست میں کہا کہ سی سی پی او لاہور کے بارے میں نئی معلومات سامنے آئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ‘سی سی پی او مبینہ طور پر مالی اور اخلاقی لحاظ سے کرپٹ ہیں اور سینٹرل پولیس بورڈ نے انہیں اختیارات کے غلط استعمال کا مرتکب قرار دیا اور اس کے نتیجے میں ان کی ترقی روک دی گئی’۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ ‘سی سی پی او کی کارکردگی سے واضح ہوتا ہے کہ صوبائی حکومت نے ان کی تعیناتی کے لیے اہم معاملات کو صرف نظر کیا’۔ملک محمد احمد خان نے لاہور ہائی کورٹ سے درخواست کی کہ انہیں سی سی پی او سے متعلق مزید شواہد جمع کرنے کی اجازت دی جائے۔
یاد رہے کہ 8 ستمبر کو پنجاب میں ایک مرتبہ پھر آئی جی کو تبدیل کرتے ہوئے شعیب دستگیر کو عہدے سے ہٹا کر انعام غنی کو نیا آئی جی پولیس تعینات کردیا گیا تھا۔شعیب دستگیر کی آئی جی کے عہدے سے تبدیلی حال ہی میں تعینات ہونے والے کیپیٹل سٹی پولیس افسر (سی سی پی او) لاہور عمر شیخ سے اختلافات کے بعد سامنے آئی تھی۔رپورٹس کے مطابق شعیب دستگیر نے ان کی مشاورت کے بغیر عمر بن شیخ کو حال ہی میں لاہور کے کیپیٹل سٹی پولیس افسر کے تقرر پر تحریک انصاف کی حکومت کے تحت کام کرنے سے انکار کردیا تھا۔رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ شعیب دستگیر نے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات کرکے قواعد کی خلاف ورزی پر سی سی پی کے خلاف تحقیقات اور کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
