واجبات کی عدم ادائیگی پر تھر میں آپریٹر نے پیداوار نصف کردی

تھر میں کان کنی کرنے والے چینی آپریٹر نے مبینہ طور پر 6 کروڑ ڈالر کے واجبات کی عدم ادائیگی پر اپنی پیداوار کم کر کے نصف کردی ہے، جس سے کوئلے سے چلنے والے ایک ہزار 360 میگا واٹس کے بجلی گھر چلتے ہیں۔
چائنا مشینری انجینئرنگ کارپوریشن (سی ایم ای سی) تھر کول فیلڈ کے بلاک-2 میں ایک اوپن پٹ لگنائٹ کان کے آپریٹر کے طور پر سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کے ساتھ ایک آف شور معاہدے کے تحت کام کرتی ہے، اس نے اینگرو کو باضابطہ طور آپریشن محدود کرنے کے بارے میں مطلع کردیا ہے جس کے نتیجے میں ایک ماہ کے اندر کان کنی مکمل طور پر رک سکتی ہے۔ چینی کانٹریکٹر کو مئی 2022 سے کوئی ادائیگی نہیں ہوئی۔
ایس ای سی ایم سی کو حکومت سندھ کی حمایت حاصل ہےاور وہ بلاک-2 کے دوسرے مرحلے کے لیے آپریشن اور مینٹیننس (او اینڈ ایم) کے ساتھ ساتھ انجینئرنگ، پروکیورمنٹ اینڈ کنسٹرکشن (ای پی سی) کے تحت چینی کانٹریکٹر کو ڈالر میں ادائیگیوں کی مقروض ہے۔
