واجد شمس الحسن پاکستان کی چلتی پھرتی تاریخ تھے
بلاول بھٹو کو وزیراعظم بنتا ہوا دیکھنے کی خواہش دل میں لیے رخصت ہونے والے بے نظیر بھٹو شہید کے وفادار ساتھی واجد شمس الحسن ایک زندہ دل اور مرنجا مرنج انسان تھے۔ 27 ستمبر 2021 کے روز لندن میں انتقال کر جانے والے واجد پاکستان کی چلتی پھرتی سیاسی تاریخ تھے۔ انکے والد نواب شمس الحسن، بانی پاکستان محمد علی جناح کے ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے جبکہ واجد خود ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے علاوہ آصف زرداری اور بلاول بھٹو کے قابل اعتماد ساتھی تھے۔
واجد شمس الحسن 42 برس تک صحافت کے شعبے سے وابستہ رہے اور ڈیلی نیوز اور جریدے ‘میگ’ کے علاوہ متعدد دیگر اخبارات اور جرائد کے مدیر بھی رہے۔ واجد شمس الحسن کی وفات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے ان کے ساتھ اپنی سالوں 2000 کی ایک گفتگو کا ٹویٹ سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔ اس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پہلے بلاول نے واجد شمس الحسن کی طبعیت دریافت کی اور کہا کہ امید ہے آپ اپنی صحت کا بہترین خیال رکھ رہے ہیں۔
جواب میں واجد شمس نے کہا کہ "پیارے بلاول بھٹو زرداری! مجھے یاد کرنے کا شکریہ، میری طبعیت اچھی نہیں ہے، لیکن جب میں آپ کو پرجوش انداز میں بولتے دیکھتا ہوں تو ایک ولولہ اور جوش محسوس کرتا ہوں۔انہوں نے یہ بھی لکھا کہ میں آپ کو وزیراعظم دیکھنے کے لیے زندہ ہوں۔ تاہم واجد کی زندگی میں ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو سکی۔
بی بی سی لندن سے وابستہ سینئر صحافی جاوید سومرو واجد شمس الحسن کے ساتھ گزرے ہوئے دنوں کی یادیں سشئیر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ واجد صاحب، یا ہمارے واجد بھائی، دراصل ہمارے۔لیے بڑی عمر کے بچے تھے۔ وہ بچوں جیسے شرارتی اور بڑوں جیسے مدبر تھے۔ انیون نے طلبا تحریکوں سے سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کر کے، صحافت کی باریکیوں میں الجھتے ہوئے، سیاست کے پیچ و خم عبور کر کے، سفارتکاری کو اپنا آخری مسکن بنایا۔ تاہم انہون نے لکھنا اور خیالات کا برملا اظہار کرنا کبھی ترک نہیں کیا۔ جاوید سومرو کے مطابق 27 ستمبر کی صبح جب ان کی وفات کی خبر ملی تو ایک جھٹکا سا لگا۔ واجد بھائی علیل تو خاصے عرصے سے تھے اور دوستوں میں ان کی صحت کے بارے میں تشویش بھی رہتی تھی لیکن پھر بھی ان کا چلے جانا دل اداس کر گیا۔
لندن میں ان کے ساتھ خاصے عرصے سے ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں لیکن ان کی علالت کے باوجود ان کا مختلف پروگراموں میں شرکت کرنا اور ہر موضوع پر تازہ ترین معلومات رکھنا مجھے حیران کر دیتا تھا۔ وہ بتاتے ہیں کہ بے نظیر بھٹو شہید واجد بھائی کی پارٹی کے لیے خدمات کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتی تھیں۔ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے زمانے میں، جب بینظیر بھٹو صاحبہ جلا وطن تھیں تو واجد شمس الحسن یورپ میں ان کے خاص نمائندے کے طور پر کام کرتے تھے۔ دو ہزار سات میں سابق وزرا اعظم بی نظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان جو تاریخی میثاق جمہوریت پر دستخط ہوئے اس کی تحریر میں بھی واجد بھائی کا کلیدی کردار رہا۔
واجد شمس الحسن نے 1962 میں انٹرنیشنل ریلیشنز میں ماسٹرز ڈگری حاصل کی اور جنگ گروپ جوائن کیا۔ 1968 میں انہیں برطانیہ میں کامن ویلتھ پریس یونین سکالرشپ ملا جس کے تحت انہوں نے ایک برس تک برطانیہ کے معروف اداروں میں تربیت حاصل کی۔ واپس آنے کے بعد 1969 میں واجد جنگ گروپ کے انگریزی اخبار ڈیلی نیوز کے ایڈیٹر بن گئے۔ وہ جمہوریت پر پختہ یقین رکھتے تھے اور نظریاتی طور پیپلز پارٹی کی قیادت کے ہمیشہ قریب رہے تھے۔ 1972 میں وہ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے اس سرکاری وفد کا حصہ تھے جس نے شملہ معاہدے کے لیے انڈیا کا دورہ کیا تھا۔
1988 میں جب پیپلز پارٹی ضیا مارشل لا کے بعد، پہلی مرتبہ حکومت میں آئی تو واجد شمس نے 1989 میں جنگ گروپ کو الوداع کہا اور پریس ٹرسٹ آف پاکستان کے چیئرمن بنا دیے گے۔ تین برس تک وہ اس عہدے پر فائز رہے۔ 1993 میں پیپلز پارٹی کی دوسری حکومت آنے کے بعد، واجد شمس کو 1994 میں پہلی مرتبہ برطانیہ میں سفیر کے طور پر تعینات کیا گیا لیکن 1996 میں وہ اپنے عہدے سے الگ ہوگئے تھے۔بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد جب آصف رداری کی زیر قیادت 2008 میں پیپلز پارٹی دوبارہ اقتدار میں آئی تو واجد شمس الحسن کو دوبارہ برطانیہ میں پاکستان کا سفیر تعینات کیا گیا۔ وہ 2013 تک وہاں سفیر رہے۔
سینئیر صحافی جاوید سومرو کے مطابق اپنے آخری برسوں میں واجد بھائی کو سننے اور یاد رکھنے میں بھی دشواری ہوتی تھی لیکن کرونا کی وبا اور برطانیہ میں لاک ڈاؤن سے قبل ایک دن میں نے انہیں فون کیا اور ملاقات کی خواہش کی تو کہنے لگے! میاں میں آتا ہوں کل تم سے ملنے۔۔ ہم نے بی بی سی کے دفتر کے سامنے کافی ہاؤس پر کافی پی، سیاست سے لیکر ادب ٹھمکے موضوعات پر باتیں کیں۔ انہوں نے بینظیر بھٹو کی زندگی میں ان کے ساتھ گزارا ہوا وقت یاد کیا۔ ہم دونوں کچھ افسردہ ہوئے۔ اسکے بعد انہوں نے اپنا سگار سلگایا اور ایک لمبا کش لے کر بولے، ‘میاں! اب لگتا ہے کہ ہماری شام بھی ڈھلنے والی ہے۔
