پاکستان پر سخت ترین امریکی پابندیاں عائد ہونے کا خدشہ


امریکی سینیٹ میں پیش کیے جانے والے پابندیوں کے ایک بل نے پاکستان کیلئے خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں کیونکہ اس میں امریکہ نے ایسے ممالک کے خلاف پابندیاں لگانے کا عندیہ دیا ہے جنہوں نے افغان طالبان کو برسر اقتدار آنے میں مدد دی۔خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان ممالک میں ممکنہ طور پر پاکستان بھی شامل ہوسکتا ہے۔ انسانی حقوق کی وفاقی وزیر شیریں مزاری نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس بل کے ذریعے امریکہ افغانستان میں اپنی شکست کا ملبہ پاکستان پر ڈال کر اسے قربانی کا بکرا بنانے جا رہا ہے۔

امریکی سینٹ میں پیش کیے جانے والے مجوزہ بل میں کہا گیا ہے کہ منظوری کے 180 دنوں کے دوران امریکہ کے سیکریٹری خارجہ، سیکریٹری دفاع اور نیشنل انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر کے مشورے سے کانگریس کمیٹی کے سامنے ایک رپورٹ جمع کرائیں گے جس میں افغان طالبان کو مدد فراہم کرنے والوں کی تفصیل درج ہو گی۔ بل کے مطابق پہلی رپورٹ میں یہ جائزہ لیا جائے گا کہ بشمول حکومت پاکستان وہ کون سے سٹیٹ اور نان سٹیٹ ایکٹرز ہیں جنہوں نے 2001 سے لے کر 2020 کے دوران طالبان کی مدد کی۔ بل کے مطابق رپورٹ میں یہ بھی جائزہ لیا جائے گا کن ممالک نے افغان طالبان کو محفوظ پناہ گاہیں، مالی مدد، انٹیلیجنس، طبی سہولیات اور رسد فراہم کی، انہیں مسلح کیا اور حربی و انتظامی یا تزویراتی سمت کا تعین کرنے میں انکی مدد کی۔

امریکی کانگریس میں پیش کیے جانے والے مسودے کے مطابق رپورٹ میں اس بات کا بھی جائزہ لیا جائے کہ بشمول پاکستانی حکومت کن سٹیٹ اور نان سٹیٹ ایکٹرز نے 2021 میں افغانستان کی حکومت کا تختہ الٹنے میں طالبان کی مدد کی۔ امریکی کانگریس کے مجوزہ بل میں جو رپورٹ مانگی گئی ہے اس میں اس بات کا جائزہ لینے کو بھی کہا گیا ہے کہ بشمول پاکستان کے کن سٹیٹ اور نان سٹیٹ ایکٹرز نے ستمبر 2021 میں وادی پنج شیر پر طالبان کے حملے، مزاحمت اور قبضے کے دوران طالبان کی مدد کی۔

امریکا کی جانب سے پاکستان پر اس بل کی آڑ میں پابندیاں عائد کرنے کے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا ہے کہ امریکہ دراصل افغانستان میں اپنی شکست کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ مزاری نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ’پاکستان کو ایک بار پھر امریکہ کی ’دہشتگردی کے خلاف جنگ‘ میں اتحادی بننے کی بھاری قیمت چکانا پڑ رہی ہے کیونکہ امریکی کانگریس میں افغانستان سے جلد بازی میں کیے جانے والے انخلا کے بعد ایک بل متعارف کرایا گیا ہے۔

کانگریس میں پیش کیے جانے والے مجوزہ بل کا تجزیہ کرتے ہوئے بین الاقوامی امور کے ماہر ڈاکٹر رفعت حسین کا کہنا ہے کہ امریکہ کے اندر ایک لابی ہے جو یہ معلوم کرنا چاہتی کہ افغانستان میں اسے شکست کیوں ہوئی اورانہیں اس کے لیے ایک قربانی کا بکرا چاہیے۔ اور اگر امریکی سینیٹ میں پیش کردہ مجوزہ بل کا جائزہ لیا جائے تو صاف سمجھ آجاتی ہے کہ قربانی کا وہ بکرا پاکستان ہوگا۔‘ ڈاکٹر رفعت حسین کا کہنا تھا کہ یہ بل منظور ہونے کی صورت میں جو رپورٹس مانگی گئی ہیں ان میں وادی پنج شیر پر حملے میں طالبان کی مدد کرنے والی و الی شق خاصی اہم ہے جس کے پاکستان پر اثرات پڑسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’اس بل کی منظوری سے دوحہ مذاکرات پر منفی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ امریکہ نے جو پابندیاں طالبان پر لگائی ہوئی ہیں امریکہ اس سے زیادہ اور کیا پابندیاں لگائے گا۔‘

Back to top button