وزیراعلیٰ سندھ کا لاک ڈاؤن مزید سخت کرنے کا اعلان

وزیراعلیٰ سندھ نے صوبت بھر میں لاک ڈاؤن مزید سخت کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اگلے 2 ہفتے لاک ڈاؤن مزید سخت کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے 14دن لاک ڈاؤن بڑھایا ہے جب کہ لاک ڈاؤن کھولنے نہیں اسے مزید سخت کرنے کی بات ہوئی ہے۔کسی کو جانوں سے کھیلنے نہیں دیں گے. ڈبل سواری پر پابندی مزید سخت ہو گی. انہوں نے کہا تین چار بچوں کے ساتھ ڈبل سواری کی اجازت نہیں دی جائے گی، آٹو موبائل انڈسٹری بھی نہیں کھول رہے، تعمیراتی شعبے سمیت دیگر محکموں کو ایس او پیز کے مطابق کھولا جائے گا، بلڈرز کو پہلے انتظامیہ سے اجازت لینا ہوگی، بات نہ ماننے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔
سندھ اسمبلی آڈیٹیوریم میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں کرونا وائرس کے بڑھتے کیسز پر تشویش ہے، اگر کہیں کہ وائرس دیگر ممالک سے کم ہے تو غلط ہوگا، انھوں نے مزید کہا کہ کرونا سے بچاؤ کیلئے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، ٹیسٹنگ کٹس اور حفاظتی سامان مل چکا ہے، تمام کام قوانین کے مطابق کریں گے، پاکستان میں وائرس دیگر ممالک کی طرح خطرناک ہے.
مراد علی شاہ کا کہنا تھا وفاق کے ایس او پیز پر 4 صفحات کا جواب دے دیا، کچھ صوبوں کا خیال تھا ہیئر ڈریسر، پلمبر و دیگر دکانیں کھلنی چاہئیں، ہم نے کہا ابھی ان کو کھولنے کی ضرورت نہیں، انھوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن میں ہیئر ڈریسر، درزی کے پاس جائے گا کون ؟ ڈومیسٹک فلائٹس سے متعلق کہا ابھی مزید 2 ہفتے گزارہ کر سکتے ہیں، پبلک ٹرانسپورٹ چاروں صوبوں میں نہیں چلے گی، سب صوبوں کا خیال تھا کہ لاک ڈاؤن بڑھایا جائے۔
وزیراعلی سندھ نے مزید کہا سب کا ایس او پیز پر اتفاق ہوا، وزیراعظم کو مبارکباد دیتا ہوں، وزیراعظم نے بتایا زراعت کے بعد سب سے اہم تعمیراتی صنعت ہے، صنعتیں ملازمین کیلئے ٹرانسپورٹ کا بندوبست کریں گی، بسوں پر انڈسٹری کا نام لکھا ہوگا، صرف 10 فیصد لوگ سوار ہونگے، بلڈنگ کی تعمیر کیلئے مزدور، سامان وغیرہ کی معلومات دینا ہوں گی، علمائے کرام سے افہام و تفہیم سے معاملات حل کریں گے
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص ایسا سمجھ رہا ہے کہ ہمارے ملک میں وائرس دنیا سے کم ہے تو وہ غلط ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کے پاس ٹیسٹ کٹس آگئی ہیں. اب تک صوبے میں ٹیسٹنگ کی استعداد 1500 تک لے آئے ہیں جبکہ اس سے قبل 500 سے 600 ٹیسٹ ہورہے تھے۔ سندھ حکومت نے اب تک 16 ہزار سے زائد ٹیسٹ کیے ہیں جبکہ 10 فیصد ٹیسٹ مثبت آرہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایسے کیسز بھی سامنے آرہے ہیں کہ جو ہسپتال پہنچتے ہی مردہ قرار دے دیے جاتے ہیں اور ان میں سے کافی کیسز ایسے ہیں جو ہمیں لگتے ہیں کہ وہ کورونا وائرس کے ہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’حیدر آباد میں تبلیغی جماعت کے 122 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی جن میں سے 110 صحت یاب ہوچکے ہیں جس کے بعد انہیں اپنے آبائی اضلاع میں بھیجا جارہا ہے جبکہ ان میں چند غیر ملکی ہیں اور رائیونڈ انتظامیہ سے بات کرکے انہیں بھی واپس بھیجیں گے‘۔
انہوں نے بتایا کہ ’سندھ میں کورونا وائرس سے اموات کی شرح 2.4 فیصد ہے جبکہ 5 ہزار افراد کو آئی سولیشن میں رکھا ہوا ہے‘۔مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ’مجھے تشویش ہے کہ ہمارے یہاں ہلاکتوں کی تعداد کی صحیح رپورٹنگ ہورہی ہے یا جبکہ کیسز دنیا میں سامنے آنے والے رجحان کے برابر ہے‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ہمارا ملک ایک ہی طرز پر چلے تو اس کے زیادہ فوائد ہوں گے، یہ بات وفاقی حکومت سے کہی تھی جس کے بعد فیصلہ کیا گیا تھا کہ 14روز کا لاک ڈاؤن مزید ہوگا‘۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ کوئی مسئلہ ہے تبھی لاک ڈاؤن بڑھایا ہے، پورے پاکستان میں مزید سخت لاک ڈاؤن ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ ’ڈبل سواری کی سڑکوں پر اجازت نہیں ہوگی، صبح 8 سے 5 بجے تک دکانیں کھولنے پر ہی عمل کریں گے‘۔انہوں نے بتایا کہ ’وفاقی حکومت سے ایس او پیز پر معاہدہ ہوا ہے ہم سندھ میں اس کے نفاذ کے جواب دہ ہیں‘۔ان کا کہنا تھا کہ ملازمین کے آنے کا وقت الگ الگ ہوگا، ادارے کے باہر ایس او پیز لکھی ہوں گی، وہاں ڈاکٹر کی موجودگی کو یقینی بنایا جانا بھی شامل ہے۔وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ ’لوگوں کی جان بچانے کے لیے سندھ میں جتنی طاقت ہے ان ایس او پیز پر عمل در آمد کرائیں گے اور امید ہے کہ تمام صوبے بھی ایسا ہی کریں گے‘۔انہوں نے کہا کہ ’تعمیرات کو کھولنے کی وجہ سمجھ نہیں آرہی تاہم تجویز ہے کہ صوبائی حکومتیں جب تک ایس او پیز پر پوری طرح سے عمل در آمد نہیں ہوتے اسے نہ کھولیں‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’جو تعمیرات کرنا چاہ رہا ہے اسے انتظامیہ کو پہلے سے تمام معلومات دینی ہوں گی‘۔انہوں نے کہا کہ ’جب تک ریسٹورانٹس تمام ایس او پیز پر عمل در آمد نہیں کریں گے انہیں بھی کھولنے کی اجازت دینی ہوگی‘۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے بڑے تحمل سے ہماری بات سنی، ان سے کہا تھا کہ آپ کوئی بھی اعلان کرنے سے قبل ہماری مساجد کے بارے میں ضرور بتائیں تو انہوں نے علما سے بات کرنے کا کہا ہے۔
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ‘لاک ڈاؤن کے لیے سب کے تعاون کی ضرورت ہے، دنیاوی چیزوں کو بھول جائیں اور 2 ہفتوں کے لیے گھروں پر رہیں‘۔انہوں نے کہا کہ ’مستقبل قریب میں اس وائرس سے نجات ہمیں نظر نہیں آرہی تاہم دعا ہے کہ ہم جلد اس سے باہر آجائیں‘۔ان کا کہنا تھا کہ جو جوان کسی ضرورت سے گھر سے باہر نکلیں، انہیں تجویز دوں گا کہ گھر واپس آکر اپنے بزرگوں سے نہ ملیں، یہ بہت مشکل ہے مگر یہ مدد مجھے پوری عوام سے چاہیے‘۔انہوں نے کہا کہ ’آپ ایک زندگی بھی بچا سکے تو آپ کے سب گناہ دھل جائیں گے اور آپ سیدھے جنت میں جائیں گے‘۔
سپریم کورٹ کے سندھ حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے سوالات پر ان کا کہنا تھا کہ ’پہلے ہی کہا تھا غلطیاں ہوں گی، اور غلطیاں ہوئی ہیں تاہم ہم سپریم کورٹ میں وضاحت دینے کی کوشش کریں گے‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے کچھ دنوں پہلے یونین کونسلز کو بند کرنے کا حکم جاری کیا تھا، وہ غلط نہیں تھا، اس پر مذاق بھی اڑایا گیا تاہم مجھے جو معلوم ہے وہ سب کو بتا نہیں سکتا تاہم جو نہیں پتہ اس پر سب سے معافی مانگتا ہوں‘۔انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ایسٹ کے 11 یوسیز میں زیادہ کیسز سامنے آنے آئے، گلشن ٹاؤن میں 166 کیسز، جمشید ٹاؤن میں 172 کیسز سامنے آئے تھے جبکہ ان ہی یوسیز میں ہلاکتوں کی شرح بھی زیادہ آئی تھیں۔انہوں نے کہا کہ ’چیف جسٹس کو ہم بتانہیں سکے تھے، غلطی ہماری تھی تاہم وجوہات تھیں‘۔ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت سے کہنا چاہوں گا کہ ہمیں سیکٹرز پر دھیان نہیں دینا چاہیے، ہمیں جیوگرافی کو دیکھنا چاہیے، جو علاقے کلیئر ہیں انہیں بند رکھنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ ’ایک وزارت خزانہ کی فہرست پکڑ کر کہا گیا کہ سندھ حکومت 12 ارب روپے کھا گئی، ہم نے یہ تمام رقم صحت سے متعلق کاموں پر خرچ کیے ہیں‘۔انہوں نے بتایا کہ 3 ارب کورونا ایمرجنسی فنڈ میں دیے گئے جو سرکار اور نجی شعبہ مل کر دیکھ رہا ہے، 2 کروڑ 80 لاکھ ایکسپو سینٹر میں آئیسولیشن سینٹر کی تعمیر پر خرچ کیے گئے، سکھر کے ڈپٹی کمشنر کو ہم نے فنڈز دیے، پورے سندھ میں جو اضافی خرچہ ہوا ہے وہ ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کو 10 کروڑ روپے دینا ہے‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’جو بھی 8 ارب کی بات کر رہا ہے اس سے پوچھیں کہ یہ نمبر آیا کہاں سے، جو فنڈز جاری کیے سب کے سامنے کیے ہیں‘۔انہوں نے کہا کہ ’ایک ارب 8 کروڑ روپے راشن کی مد میں بانٹے ہیں، جسے اس چیز سے مسئلہ ہے کہ ان کا نام نہیں آرہا اور سڑکوں پر لوگ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا لے رہے ہیں، ان کا کوئی علاج نہیں‘۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے یہ نہیں کہا کہ وفاقی حکومت نے ہمیں کسی چیز سے منع کیا ہے، میں ان کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے نیشنل ایکشن پلان بنایا اور سارے صوبوں کی بات سنی‘۔ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کا اپنا شہر ہے وہ جب چاہیں آئیں تاہم ان سے درخواست ہوگی کہ صوبے کی جانب سے جو گائیڈلائنز دی گئی ہیں اس پر خود بھی عمل کرکے دکھائیں تاکہ عوام پر مثبت اثر پڑے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button