وزیر اعظم ہاؤس گھناؤنے جرائم کا اڈا بن چکا ہے

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سابق ڈائریکٹر جنرل کے انکشاف کے بعد واضح ہوگیا کہ وزیر اعظم ہاؤس کو استعمال کرکے سیاسی مخالفین کے خلاف گھناؤنی سازشیں ہورہی ہے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اداروں کے سربراہوں کو بلا کر کہہ رہے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد اور نائب صدر کے خلاف مقدمہ کرو۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ میں کبھی موجودہ وزیر اعظم آفس کے اندر گھناؤنے جرائم کا ارتکاب نہیں ہوا۔ مریم نواز نے کہا کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی، ارشد ملک اور اب بشیر میمن کی گواہی ریکارڈ پر موجود ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے کہا کہ اب لوگوں کو سمجھ آگئی کہ گینگ کے سربراہ نے کبھی ایسی حرکت نہیں کی جو وزیراعظم ہاؤس کو استعمال کرکے ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی مہذب معاشرے میں ایسی مثال نہیں ملتی اور یہ مسئلہ میری ذات کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ آپ نے سیاسی مخالفین کے خلاف پولیٹیکل انجینئرنگ کی ہے اس کے نتائج کیا ہیں، اس کے نتائج یہ ہیں کہ پاکستان پوری دنیا میں بدنام ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاقانونیت کا عذاب آیا ہوا ہے، پاکستان میں گورننس نام کی چیز نہیں رہی، شہر کوڑے کے ڈھیر بن گئے اور آپ صبح اٹھ کر سارے دن افسران کو کہتے ہیں کہ فلاں کو اندر کو، اس کو گرفتار کرو۔ مریم نواز نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے حوالے سے کہا کہ انصاف اور حق پر چلنے والے جج کے خلاف وزیر اعظم ہاؤس میں سازش کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ کبھی کسی نے تاریخ میں ایسا سنا کہ حاضر جج کے خلاف سازشیں کی گئی ہوں۔ انہوں نے امید ظاہر کی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بنیں گے۔ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے کہا کہ یہ بہت سنگین معاملہ ہے جسے چھوڑا نہیں جا سکتا۔ مریم نواز نے عدالت کو مخاطب کرکے کہا کہ وہ اس معاملے کو خود دیکھے، یہ چھوٹا الزام نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور اہلیہ کٹہرے میں کھڑے تھے کیوں کہ انہوں نے فیض آباد دھرنے کا حق اور سچ پر مبنی فیصلہ دیا۔
نائب صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ ججز نے کھڑے ہوکر ریاستی دہشت گردی کا مقابلہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے خلاف مزید گواہیاں آئیں گیں۔ انہوں نے کہا حکومت اس دن کے بارے میں سوچے جب ان کی حکومت ختم ہوگی تب کیا حال ہوگا۔
