وزیر اعلیٰ بلوچستان کو ہٹانے کی تیاریاں شروع ہو گئیں

بلوچستان اسمبلی کے اسپیکر اور بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے رہنما عبدالقدوس بزنجو کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد لا کر انہیں ہٹا دیں گے۔
ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عبدالقدوس بزنجو کا کہنا تھا کہ جام کمال کو وزیر اعلیٰ بلوچستان رہنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جام کمال کارکردگی نہیں دکھا رہے ہیں، وہ باتیں اچھی کرتے ہیں لیکن ناکام ہوگئے ہیں۔عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ پارٹی کے اندر تبدیلی لائیں گے جس سے ووٹنگ کی ضرورت نہیں پڑے گی اور انشااللہ وزیر اعلیٰ کو ہٹائیں گے۔
دوسری جانب ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شہوانی کا کہنا تھا کہ عبدالقدوس بزنجو کے مسائل کیا ہیں معلوم نہیں لیکن وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال پارٹی کے صدر ہیں اور انہیں پارٹی کی حمایت حاصل ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عبدالقدوس بزنجو پارٹی کے رکن بھی ہیں، گزشتہ ڈیڑھ سال سے یہی کہتے آئے ہیں لیکن وہ آج بھی تنہا ہیں اور یہ ان کی اپنی رائے ہے، ان کے ساتھ کوئی نہیں ہے۔
عبدالقدوس بزنجو کا لیاقت شہوانی کے حوالے سے کہنا تھا کہ وہ وزیر اعلیٰ کے ترجمان ہیں اور مسائل پارٹی کے ہیں، اس لیے اصل بیان پارٹی کے اراکین ہی دے سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ عبدالقدوس بزنجو نے جنوری 2018 میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ نواب ثنااللہ زہری کے خلاف اسمبلی سیکریٹریٹ میں تحریک عدم اعتماد جمع کرائی تھی جس کے بعد ان کی کی قیادت میں دیگر اراکین صوبائی اسمبلی نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو ختم کر دیا تھا۔نواب ثنااللہ زہری کے خلاف 9 جنوری 2018 کو بلوچستان اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش کی جانی تھی تاہم انہوں نے اس تحریک کے پیش ہونے سے قبل ہی استعفیٰ دے دیا تھا۔
بعدِ ازاں 11 جنوری کو سینئر لیگی رہنما اور سابق سینیٹر سعید احمد ہاشمی کی رہائش گاہ پر اہم اجلاس ہوا تھا جس میں مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) کے اراکین کی بڑی تعداد نے شرکت کی تھی عبدالقدوس بزنجو کو صوبے کا نیا وزیراعلیٰ نامزد کردیا تھا۔
عام انتخابات 2018 سے قبل بلوچستان عوامی پارٹی کے نام سے ایک نئی پارٹی کی بنیاد رکھی گئی تھی اور جام کمال خان کو صدر منتخب کیا گیا تھا جو مسلم لیگ (ن) کے وفاقی وزیر کی حیثیت سے استعفیٰ دے کر نئی پارٹی میں شامل ہوئے تھے۔
بلوچستان عوامی پارٹی نے انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کیں اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے ساتھ مل کر اتحادی حکومت بنائی جبکہ پارٹی کے صدر جام کمال کو صوبے کا وزیر اعلیٰ منتخب کیا گیا اورعبدالقدوس بزنجو کو بلوچستان اسمبلی کا اسپیکر منتخب کیا گیا لیکن انہوں نے کچھ عرصے بعد حکومت سے اپنے اختلافات کا اظہار کیا، لیکن ان کے اختلافات ختم کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔
