وفاقی حکومت ہمارا حق دے، ورنہ اپنا حق لینا جانتے ہیں

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت سندھ کے عوام کو اس کا حق دے ورنہ اسلام آباد آکر اس سے اپنا حق چھین لیں گے۔
بدین میں کارکنان سے خطاب کے دوران وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ‘آج تک سیلاب متاثرین کے لیے وفاق کی طرف سے ایک روپیہ نہیں آیا، وفاقی حکومت رواں سال این ایف سی ایوارڈ میں سندھ کے 200 ارب روپے کھا گئی، ہمیں کوئی خصوصی پیکج یا خصوصی رویہ نہیں چاہیے بلکہ اپنا حق چاہیے۔’انہوں نے کہا کہ ‘سندھ کے عوام ڈوب رہے ہیں مدد کرو تو کہتے ہیں کہ ان کو 3 سو روپے بھی نہیں دیں گے، آپ کو بدین کے عوام کا حق دینا پڑے گا، ورنہ ہم اسلام آباد کا راستہ جانتے ہیں اور ہم اسلام آباد پہنچ کر آپ سے اپنا حق چھین لیں گے۔’
چیئرمیں پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم عمران خان کو منافق قرار دے دیا اور کہا کہ بڑا شوق تھا استعفیٰ دینے کا، اب وقت ہے استعفیٰ دو ۔بدین میں سیلام متاثرین سے ملاقات کے بعد اپنے خطاب میں بلاول نے کہا کہ آپ ناکام ہو چکے ہیں، آپ ووٹ دیں نہ دیں یہ لوگ اقتدار میں آتے ہيں، اشاروں کی طرف دیکھتے ہيں کہ اب کیا کرنا ہے۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ سندھ کے عوام ڈوب رہے ہیں ، مدد کرنے کا کہو تو کہتے ہیں کہ ان کو 300 روپے نہیں دیں گے، یہ ان کے باپ کا پیسہ نہیں ، بدین کے عوام کا پیسہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اسلام آباد کا راستہ جانتے ہیں ، اسلام آباد پہنچ کر آپ سے اپنا حق چھین کر رہیں گے ، عوام یاد رکھیں وفاق والوں کو بھاگنے نہیں دینا ہے۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ‘وفاق نے آج تک سندھ کے جائز مطالبات کا جواب تک نہیں دیا، وزیر اعظم کا ایک ہمدردی کا بیان تک نہیں آیا، مدد تو دور کی بات ہے لیکن عمران خان کو عوام کی خدمت کے لیے سندھ میں آنا ہوگا، وزیر اعظم سندھ کے عوام کو ایسے لاوارث نہیں چھوڑ سکتے۔’بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عوام ووٹ دیں نہ دیں یہ لوگ اقتدار میں آتے ہيں اور اشاروں کی طرف دیکھتے ہيں کہ اب کیا کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب پیپلز پارٹی کی حکومت تھی تو 2010 کا سیلاب ہو یا 2011 کا، ہم نے پوری دنیا کو موبلائز کیا، ہم نے پاکستان کارڈ دیا ان کے ہاتھوں میں پیسے پہنچائے تاکہ مشکل حالات میں وہ اپنے خاندان کو سنبھالیں، سندھ کے اس کے حق کے پیسے سے پانی کا مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں اور چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کرتے ہیں کہ سندھ کے عوام کا پیسہ دیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ بدین کے عوام نے تاریخی بارشوں کا سامنا کیا ہے، بارشوں کی وجہ سے ضلع میں بہت نقصان ہوا ہے، سیلاب اور بارشوں سے بدین میں گھروں، فصلوں اور مال مویشیوں کو نقصان پہنچا، حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ زرعی ایمرجنسی نافذ کرے اور فوری طور پر کسانوں کی مدد کرے۔
واضح رہے کہ مون سون کی حالیہ بارشوں کے بعد اندرون سندھ کے متعدد اضلاع میں تاحال سیلابی صورتحال برقرار ہے جہاں فصلوں کو بھی بری طرح نقصان پہنچا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button