وفاقی حکومت 12جون کو 7ہزار600 ارب روپے کا بجٹ پیش کرے گی

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت 12 جون کو نیا بجٹ پیش کرے گی، جس کا حجم 7ہزار600 ارب روپے ہوگا۔ جب کہ شرح نمو کا ہدف 3 فیصد رکھنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ بتایا گیا ہے کہ کورونا وائرس کی وباء کے باعث تمام اہداف کو کم رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب قرضوں اور سود کی ادائی پر 3 ہزار 2 سو ارب روپے خرچ کئے جائیں گے۔
جب کہ دفاعی بجٹ میں 10 فیصد اضافے کی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے۔ جس کے بعد دفاعی بجٹ کےلیے ایک ہزار 4 سو ارب روپے مختص کئے جا سکتے ہیں۔ دنیا نیوز کی رپورٹ کے مطابق سبسڈیز اور پنشن ادائی کےلیے 700 ارب مختص کئے جا سکتے ہیں اور ایف بی آر کےلیے ٹیکس اہداف 51 سو ارب روپے کا ہدف مقرر کیا جا رہا ہے۔ جب کہ 460 ارب روپے وفاقی حکومت کے اخراجات کےلیے مختص کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اس سے قبل ایک اخباری رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 20 فیصد اضافے کا امکان ہے اور ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن میں 20 فیصد اضافہ متوقع ہے۔ وزارت خزانہ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی مختلف تجاویز زیرغور ہیں۔ ابتداء میں 20 فیصد سے 50 فیصد تک اضافے کی مختلف تجاویز دی گئی لیکن کورونا کے باعث ملکی معاشی صورت حال کے مدنظر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 20 فیصد اضافے کی تجویز پر غور کیا جارہا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن میں 20 فیصد تک اضافہ متوقع ہے۔
واضح رہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ کےلیے تجاویز و سفارشات کی تیاری کا کام تیز کر دیا گیا۔ بجٹ 12جون کو پیش کیا جائے گا۔
