وفاقی وزیرفیصل واڈا کے سرپرنااہلی کی تلوار لٹکنے لگی
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے وفاقی وزیرفیصل واڈا کیخلاف نا اہلی سے متعلق درخواستوں کی سماعت میں وفاقی وزیر اور ان کے وکیل کی غیر حاضری پر یکطرفہ فیصلہ دینے کا عندیہ دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی ہے.
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے وفاقی وزیر فیصل واڈا کی نا اہلی سے متعلق درخواستوں پر الیکشن کمیشن میں سماعت کی‘الیکشن کمیشن میں سماعت کے دوران فیصل واڈا اور ان کے وکیل کی غیر حاضری پر الیکشن کمیشن نے یکطرفہ فیصلہ دینے کا عندیہ دیا اور کہا کہ 10 اگست کی آئندہ سماعت پر فیصل واوڈا کی جانب سے کوئی پیش نہ ہوا تو یکطرفہ کارروائی کی جائے گی.
درخواست کی سماعت کے دوران چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ فیصل واڈا کی جانب سے 2 جون کو کیس خارج کرنے کی درخواست کی گئی تھی، اس حوالے سے درخواست گزاروں نے کوئی جواب جمع نہیں کرایا ہے. درخواست گزار نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر فیصل واوڈا کی درخواست کی کاپی نہیں دی گئی تھی،جس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آپ کو وقت دیتے ہیں، آئندہ سماعت پر جواب جمع کرائیں‘اس موقع پر الیکشن کمیشن نے درخواست گزاروں سے درخواست قابل سماعت ہونے سے متعلق جواب طلب کرلیا اور کہا کہ اگلی تاریخ میں تمام جواب جمع کرائے جائیں‘چیف الیکشن کمشنر نے فیصل واوڈ کی نااہلی سے متعلق درخواست پر مزید کارروائی 10 اگست تک ملتوی کردی.
الیکشن کمیشن نے درخواستگزاروں کو جواب جمع کرانے کے لیے 15 روز کی مہلت دے دی۔ گزشتہ سماعت پر فیصل واوڈا کے وکیل نے درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض عائد کیا تھا۔
بعدازاں الیکشن کمیشن کے باہر فیصل واڈا کے خلاف درخواست گزار قومی امن ترقی پارٹی کے وکیل نزاکت حسین عباسی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی فیصل ووڈا کی طرف سے کوئی پیش نہیں ہوا۔وکیل نزاکت حسین عباسی نے کہا کہ فیصل واڈا کی جانب سے تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیںان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے کہہ دیا ہے کہ اگر آئندہ سماعت میں کوئی پیش نہ ہوا تو یکطرفہ کارروائی ہو گی اورہمیں یقین ہے کہ ہم کیس جیتیں گے اور فیصل واڈا نااہل ہوں گے۔
خیال رہے کہ رواں برس جنوری میں امن ترقی پارٹی کے چیئرمین فائق شاہ کی جانب سے الیکشن کمیشن میں فیصل واڈا کی نااہلی سے متعلق درخواست دائر کی گئی تھی۔درخواست میں کہا گیا تھا کہ فیصل واڈا نے کاغذات نامزدگی میں جعلی حلف نامہ جمع کروایا لہذا انہیں جعلی حلف نامہ جمع کروانے پر نااہل کیا جائے۔علاوہ ازیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی دوہری شہریت چھپانے پر نااہلی کی درخواست دائر کی گئی تھی۔
یاد رہے کہ عام انتخابات 2018 میں حصہ لینے کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) میں جمع کروائے گئے کاغذات نامزدگی کے وقت وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واڈا دوہری شہریت کے حامل تھے۔وفاقی وزیر فیصل واڈا کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ انہوں نے اپنے کاغذات نامزدگی 11 جون 2018 کو جمع کروائے، جو الیکشن کمیشن کی جانب سے ایک ہفتے بعد 18 جون کو منظور ہوئے۔تاہم اس معاملے کے 4 روز بعد پی ٹی آئی ایم این اے نے کراچی میں امریکی قونصلیٹ میں اپنی شہریت کی تنسیخ کے لیے درخواست دی تھی۔
واضح رہے کہ قانون کے مطابق دوہری شہریت کے حامل فرد کو اس وقت تک الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں جب تک وہ دوسری شہریت ترک نہیں کردیتے۔ اسی معاملے میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے 2018 میں 2 قانون سازوں ہارون اختر اور سعدیہ عباسی کو الیکشن کمیشن میں کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے وقت دوہری شہریت پر نااہل کردیا تھا۔
