ٹرمپ کے حامیوں کا کیپٹل ہل پر حملہ، جمہوریت کا جنازہ نکال دیا


حالیہ صدارتی معرکے میں جوبائیڈن سے شکست کھانے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشتعل حامیوں نے الیکٹورل ووٹوں کی باقاعدہ توثیق کے عمل میں رخنہ ڈالنے کے لئے 6 جنوری کے روز وفاقی دارالحکومت واشنگٹن میں پارلیمنٹ کی عمارت پر قبضے کی کوشش کی جس کے دوران 4 لوگ مارے گئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مابین خونی جھڑپوں کے بعد واشنگٹن شہر میں جوبائڈن کی 21 جنوری کو بطور صدر حلف برداری تک ایمرجنسی اور کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔
یاد ریے کہ گذشتہ برس دوسری مدت کے لئے اپنی انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر جو بائیڈن نے انہیں ہرا دیا تو انتقال اقتدار پرامن ہونے کی گارنٹی نہیں دی جاسکتی۔ ٹرمپ نے جو کہا تھا ان کے پرتشدد حامیوں نے 6 جنوری کو ویسی ہی صورتحال پیدا کرکے واشنگٹن ڈی سی کو مفلوج کرکے رکھ دیا۔امریکی اسٹیبلشمنٹ پر جو بائیڈن کے لئے ووٹ چوری کا بھونڈا الزام لگاتے ہوئے ٹرمپ کے حامی انتقال اقتدار کے عمل کو روکنےکے لئے پارلیان پر قبضہ کرنے اور انتخابات کو کالعدم قرار دلوانے کے لئے آخری حد تک گے۔ صدر ٹرمپ کے مسلح حامیوں نے پارلیمنٹ کی عمارت یعنی کیپیٹل ہل پر دھاوا بول دیا جس کے بعد حکام کی جانب سے عمارت کو لاک ڈاؤن کر دیا گیا۔ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر صدارتی انتخاب چوری کیے جانے کا الزام دہراتے ہوئے اپنے حامی مظاہرین سے گھروں کو لوٹنے کی اپیل کی لیکن صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔
نومنتخب صدر جو بائیڈن نے کیپیٹل ہل کا محاصرہ ختم کروانے کے لیے صدر ٹرمپ سے ٹی وی پر خطاب کرنے کا کہا ہے تاکہ مظاہرین کی گھروں کو واپسی کے بعد صورتحال معمول پر آسکے۔ان پرتشدد واقعات کی وجہ سے کانگریس کا وہ مشترکہ اجلاس روک دیا گیا جس کا مقصد جو بائیڈن کی الیکٹورل کالج میں فتح کی باقاعدہ توثیق کرنا تھا۔بعض ریپبلکن رہنما کچھ ریاستوں میں انتخابی نتائج کو تبدیل کروانا چاہتے ہیں لیکن انھیں اس کے لیے درکار حمایت حاصل نہیں ہے۔ ریاست جورجیا میں سینیٹ کی دو نشستوں کے متوقع نتائج کے مطابق جو بائیڈن کی جماعت ڈیموکریٹ پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوئے ہیں جس سے جماعت کو سینیٹ پر کنٹرول حاصل ہو جائے گا۔
نومبر 2020 میں امریکہ کا صدارتی انتخاب جیتنے والے جو بائیڈن نے اپنی کامیابی کی توثیق کے لیے منعقد ہونے والے امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس پر صدر ٹرمپ کے حامیوں کا دھاوا بولنے کے عمل کو ’بغاوت‘ قرار دیا ہے۔ بائیڈن نے سبکدوش ہونے والے صدر ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ آگے بڑھیں اور تشدد کو مسترد کر دیں۔ اس بیان کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے جنھوں نے پہلے مظاہرین کو کانگریس کی جانب جانے کو کہا تھا، مظاہرین سے کہا کہ وہ ’گھر چلے جائیں۔ریاست ڈیلاویئر کے شہر ولمنگٹن سے اپنے پیغام میں جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ امریکہ میں جمہوریت پر وہ حملہ ہوا ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔ان کا کہنا تھا کہ ’میں صدر ٹرمپ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ قومی ٹی وی پر آئیں اور اپنے حلف کی پاسداری کرتے ہوئے آئین کا تحفظ کریں۔‘جو بائیڈن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’کیپیٹل میں گھس جانا، کھڑکیاں توڑنا، امریکی سینیٹ کے دفاتر پر قبضہ کرنا اور منتخب اراکین کے لیے خطرہ بننا، احتجاج نہیں، یہ بغاوت ہے۔‘
واشنگٹن شہر میں امن و امان کی سنگین صورتحال کو دیکھتے ہوئے واشنگٹن ڈی سی کی میئر نے شہر میں ایمرجنسی میں 15 روز کی توسیع کر دی ہے یعنی اب یہ ایمرجنسی جو بائیڈن کی حلف برداری تک جاری رہے گی۔ میئر میریئل باؤزر نے بتایا کہ متعدد افراد شہر میں مسلح گروہ کی صورت میں آئے تھے اور ان کا مقصد یہاں تشدد اور انتشار پھیلانا تھا ان کی جانب سے پتھراؤ بھی کیا گیا، بوتلیں بھی پھینکی گئیں اور اسلحے کا استعمال بھی کیا گیا۔ اس فیصلے کے بعد انتظامیہ کو شہر میں اضافی وسائل منگوانے میں مدد ملے گی جس کے ذریعے وہ شہر میں کرفیو کا نفاذ، ایمرجنسی سروسز کا دائرہ وسیع کرنے اور لوگوں تک خوراک کی فراہمی یقینی بنا پائیں گے۔ یہ حکم نامہ 21 جنوری کی دوپہر تین بجے تک نافذ العمل رہے گا، یعنی نو منتخب صدر جو بائیڈن کی حلف برداری کے ایک دن بعد تک۔
امریکی جمہوریت کے دگرگوں حالات میں ٹرمپ کی کابینہ کے اندر ممکنہ طور پر 25ویں ترمیم کو استعمال کرنے کے لیے چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں۔یہ ایک ایسی آئینی ترمیم ہے جو یہ کہتی ہے کہ اگر صدر اپنی ذمہ داریاں سرانجام دینے میں ناکام ہیں تو اس عہدے کے لیے دوبارہ سے نامزدگی ہو سکتی ہے۔اس صورتحال میں کابینہ کے زیادہ تر اراکین اور نائب صدر کو کانگرس کو لکھ کر کہنا ہو گا کہ نائب صدر پینس قائمقام صدر ہیں کیونکہ صدر ٹرمپ اس عہدے کے لیے موزوں نہیں ہیں۔یاد رہے کہ امریکی آئین کی یہ 25 ترمیم کبھی بھی استعمال میں نہیں لائی گئی اس کی توثیق سنہ 1967 میں کی گئی تھی۔ابھی فی الحال نائب صدر مائیک پینس کے سامنے رسمی طور پر کچھ بھی پیش نہیں کیا گیا۔کچھ نے تو پہلے ہی پینس سے کہا ہے کہ وہ 25 آئین ترمیم کا استعمال کریں۔ انھوں نے صدر ٹرمپ پر الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے تشدد پر اکسایا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بڑے حامیوں میں شمار ہونے والے امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے بھی ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے کیپیٹل ہل میں ہنگامہ آرائی کے بعد ان کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لیا ہے۔کانگریس کے مشترکہ اجلاس کے دوبارہ آغاز کے بعد تقریر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا۔ اب مجھے ساتھ شامل نہ سمجھیں۔ بس بہت ہو گیا۔انھوں نے کہا کہ جو بائیڈن اور کملا ہیرس قانونی طور پر منتخب شدہ رہنما ہیں اور 20 جنوری کو امریکہ کے صدر اور نائب صدر بنیں گے۔
امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں کیپیٹل ہل کی عمارت کے گرد ہنگامہ آرائی کا سامنا کرنے کے لیے مخصوص لباس میں ملبوس پولیس افسران کی بھاری نفری موجود ہے۔ڈی سی پولیس چیف کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ اب تک ان کی جانب سے 52 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں سے چار کے پاس بغیر لائسنس کے اسلحہ موجود تھا۔ ان میں سے ایک کو غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور 47 کرفیو کی خلاف ورزی کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔پولیس کو دو پائپ بم بھی ملے ہیں جن میں سے ایک ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی کے دفاتر سے، جو کیپیٹل ہل سے زیادہ فاصلے پر نہیں ہیں اور دوسرا رپبلکن نیشنل کمیٹی کے ہیڈکوارٹر کے پاس سے۔
واشنگٹن ڈی سی میں صدر ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے کیپیٹل ہل کے محاصرے اور وہاں ہنگامہ آرائی کے بعد عمارت کو محفوظ بنا دیا گیا ہے جبکہ ہنگامہ آرائی کے دوران گولی لگنے سے ٹڑمپ کی حامی سابق ایئر فروس خاتون اہلکار جبکہ طبی مسائل کی وجہ سے 4 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ پولیس چیف رابرٹ کونٹی کے مطابق جس خاتون کو پولیس کی جانب سے گولی مار کر ہلاک کیا گیا وہ متعدد افراد کے اس گروہ کا حصہ تھیں جنھوں نے اجلاس کے دوران زبردستی عمارت میں گھسنے کی کوشش کی تھی۔اس گروہ کو سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد نے پکڑنے کی کوشش کی اور اس دوران ایک افسر کو اسلحے کا استعمال کرنا پڑا۔اس خاتون کو ہسپتال لے جایا گیا جہاں پہنچنے پر ان کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی۔ ہلاک ہونے والے تین دیگر افراد میں ایک ادھیڑ عمر خاتون اور دو مرد شامل ہیں۔ ان تینوں کی موت مختلف نوعیت کی طبی ایمرجنسیز کے باعث ہوئی۔میٹرو پولیس ڈیپارٹمنٹ کے تقریباً 14 افراد اس دوران زخمی بھی ہوئے جن میں سے دو کو ہسپتال داخل کروانا پڑا۔ ان میں سے ایک کو شدید چوٹیں آئیں کیونکہ انھیں گھسیٹ کر مجمعے میں لایا گیا تھا۔
یو ایس کیپیٹل ہسٹاریکل سوسائٹی کے تاریخ دانوں کے مطابق 1812 کی جنگ کے بعد پہلا موقع ہے کہ امریکی پارلیمان کی عمارت پر دھاوا بولا گیا ہے۔اگست 1814 میں برطانوی فوجیوں نے واشنگٹن میں داخل ہونے کے بعد کیپیٹل کی زیرِ تعمیر عمارت کو آگ لگا دی تھی تاہم بارش کی وجہ سے یہ عمارت مکمل طور پر تباہ ہونے سے بچ گئی تھی۔ امریکیوں کی جانب سے اس واقعے سے ایک برس قبل کینیڈا میں ایسے ہی واقعے کے ردعمل میں برطانوی فوجیوں نے وائٹ ہاؤس سمیت دارالحکومت کی کئی اور عمارتوں کو بھی آگ لگائی تھی۔خیال رہے کہ اس وقت تک کینیڈا بطور ملک موجود نہیں تھا بلکہ وہ برطانوی نوآبادیات کا مجموعہ تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے کیپیٹل ہل پر ہنگامہ آرائی کے بعد ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یو ایس کیپیٹل صرف ایک عمارت ہی نہیں یہ امریکی جمہوریت اور ہمارے طرزِ زندگی کا مجسم ثبوت ہے۔امریکی عوام قوانین کی پاسداری کرنے والی قوم ہیں اور اقتدار کی پرامن منتقلی ہماری آئینی ریاست کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button