ہر پاکستانی شہری عالمی مالیاتی اداروں کا دولاکھ کا مقروض


انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ سے قرض لینے کے بجائے خود کشی کو ترجیح دینے والے وزیر اعظم عمران خان کی حکومت میں ریکارڈ توڑ غیر ملکی قرض 15 ہزار ارب سے تجاور کر گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ مالیاتی خسارہ اور حکومتی شاہ خرشیوں میں بے تحاشہ اضافہ ہے ۔ نتیجہ یہ ہے اب پاکستان کا ہر شہری عالمی مالیاتی اداروں کا تقریباً دو لاکھ روپے کا مقروض ہو چکا ہے، اور اس قرض میں اضافہ مسلسل ہوتا چلا جا رہا ہے ۔
اعدادو شمار کے مطابق اس وقت ملکی جی ڈی پی 5.8 سے گر کر منفی 4 اور زرمبادلہ 25 ارب سے کم ہو کر 9 ارب ہوچکا ہے۔ غیر ملکی قرضوں کا بلند و بالا پہاڑ پاکستانی قوم کے سر پر کھڑا ہے لیکن حیرت انگیز امر یہ ہے کہ حکومت کہتی ہے اسکے دور میں کہیں کوئی کرپشن نہیں ہوئی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اس حکومت نے ماضی کی حکومتوں کی طرح کوئی میگا پروجیکٹ شروع نہیں کیا جس پر اتنی بڑی رقم خرچ ہو جاتی ہے۔ لیکن قومی خزانہ پھر بھی خالی پڑا ہے۔ ملکی برامدات میں ریکارڈ کمی ہونے کے بعد سرکلر ڈیٹ 23 سو ارب سے اوپر پہنچ گیا ہے ۔
یعنی تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی میں حکومت نے جنگ زدہ افغانستان کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے اور کپتان پھر بھی ڈٹ کر کھڑا ہے۔ وزارت خزانہ کے ترجمان نے حال ہی میں غیر ملکی میڈیا کو بتایا کہ دو سال میں گیارہ ہزار ارب سے زائد کا قرضہ لیا گیا ہے جبکہ مذید قرضوں کے حصول کے لیئے چین کی جانب دیکھا جا رہا ہے۔ اسکا کہنا تھا کہ بے تحاشا بڑھتے ہوئے غیر ملکی کی ایک وجہ امریکی ڈالر بھی ہے ۔ دو سال قبل 120 روپے میں ملنے والے ایک ڈالر کی قیمت اس وقت 160 روپے سے زیادہ ہے جس نے بیرونی قرضوں میں بہت زیادہ اضافہ کیا لیکن ڈالر کی قیمت کو کم کرنے کے اقدامات نہیں اٹھائے گئے ۔ محض زبانی جمع تفریق سے کام چلایا گیا ۔
بیرونی قرضوں کے نیچے دبائے جانے والا ’’ نئے پاکستان‘‘ میں تحریک انصاف کی حکومت کے پہلے دو سالوں میں 11.35 ٹریلین یعنی گیارہ ہزار ارب سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے لیکن حکومت کی ساری توانائیاں قرضوں کے بوجھ کو کم کرنے کے بجائے اپوزیشن کو دبانے پر صرف کی جا رہی ہیں ۔ حالیہ دو سالوں میں اندرونی اور بیرونی ذراءع سے حاصل کیے گئے قرضوں کے نتیجے میں نئے پاکستان کے ذمے واجب الادہ مجموعی قرضوں کا حجم 36.3 تین ٹریلین یعنی چھتیس ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے جو ملک کی مجموعی پیداوار کا 87 فی صد بنتا ہے ۔ یاد رہے کہ تحریک انصاف کے اگست 2018 میں اس ملک پر مسلط ہونے سے قبل مسلم لیگ ن کی حکومت نے غیر ملکی قرضوں کا70 فیصد مالیاتی اداروں کو ادا کر دیا تھا اور ن لیگی حکومت آئی ایم ایف کو خیر آباد کہنے کے عمل سے گزر رہی تھی۔
کٹھ پتلی کپتان سرکار کی جانب سے اضافی غیر ملکی قرض کا حصول ملکی مجموعی قرض میں 45 فی صد اضافہ کر چکا ہے اور اس قرض کے حصول میں اضافے کی بڑی وجہ مالی خسارہ پورا کرنا ہے ۔ وزارت خزانہ کی تازہ رپورٹ کے مطابق 2024 تک ملک کا مجموعی اندرونی اور بیرونی قرض 45 ہزار 573 ارب روپے ہو جائے گا،جبکہ عمران خان قوم کو اگلے پانچ سال بھی پی ٹی آئی حکومت کے بتا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ دسمبر 2020 کے آغاز میں پاکستان کو 45 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کے فنڈز کی دوسری قسط جاری ہوئی، جس کے بعد قرضے کی مد میں وصول کی جانے والی رقم اب ایک ارب 44 کروڑ ڈالر ہوگئی ہے ۔
تبدیلی سرکار نے 30 جون 2019 تک آئی ایم ایف سے 5 ارب 64 کروڑ 60 لاکھ ڈالر قرض لیا تھا جس نے ملک کے بیرونی قرضوں کو 83 ارب 93 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تک پہنچا دیا، تاہم مالی سال 19-2018 کے اختتام تک پاکستان کا مجموعی قرضہ اور واجبات 106 ارب 31 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا تھا ۔ جبکہ تبدیلی سرکار کی ہی ایک رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ جون 2018 سے لے کر جون 2019 تک ملکی قرضہ 11 ارب 7 کروڑ 5 لاکھ ڈالر سے لے کر ایک سو 6 ارب 31 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تک جا پہنچا تھا ۔
کٹھ پتلی کپتان سرکار نے حالت یہ کر دی ہے کہ اس وقت ملک کا ہر شہری عالمی مالیاتی اداروں کا تقریباً دو لاکھ کا مقروض ہو چکا ہے، اور اس قرض میں اضافہ مسلسل ہوتا چلا جا رہا ہے ۔ ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری اپنے عروج پر ہے ۔ دیہاتوں کے علاوہ سیف سٹی شہروں میں بھی امن وامان کی صورت حال اس قدر خراب ہے کہ عالمی میڈیا اور انسانی حقوق سے متعلق غیر ملکی ادارے بھی اس حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں لیکن اگر کپتان صاحب اور کے مالیاتی مشیروں اور وزیروں کے بیانات اور تقریریں سنیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں رواں دواں ہوں اور عوام چین کی بانسری بجا رہے ہوں ۔
آخر میں سوال پھر وہی جو اب ہر خاص و عام کی زبان پر ہے کہ ملک بھر میں ایک بھی عوامی فلاح کا منصوبہ یا میگا پراجیکٹ شروع یوتا نظر نہیں آ رہا اور مسلسل ن لیگ دور کے منصوبوں پر اپنی تختیاں لگا کر فیتے کاٹے جا رہے ہیں۔ تو آخر اتنا بھاری غیر ملکی قرضہ اور پیسہ کہاں اور کن کی جیبوں میں جا رہا ہے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button