ٹرمپ کے حامی کیپٹل ہل کو ‘اُڑانا’ چاہتے ہیں: پولیس چیف کا انتباہ

امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کی قائم مقام پولیس سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ کانگریس کی عمارت ‘کیپٹل ہل’ پر حملہ کرنے والے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی کیپٹل ہل کو تباہ کرکے اراکینِ کانگریس کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں۔
کیپٹل ہل کے اطراف اضافی سکیورٹی برقرار رکھنے کی حامی قائم مقام پولیس سربراہ یوگانانڈا پٹ مین نے جمعرات کو کانگریس کمیٹی کو بتایا کہ انتہا پسند عناصر صدر بائیڈن کے کانگریس سے خطاب کے دوران کیپٹل ہل کو دوبارہ نشانہ بنا سکتے ہیں۔ پٹ مین نے بتایا کہ "چھ جنوری کو کیپٹل ہل پر حملہ کرنے والی ملیشیا کے کارکنوں نے اشارہ دیا ہے کہ وہ امریکی صدر کے خطاب کے دوران پھر عمارت پر حملہ کریں گے اور جتنے اراکینِ کانگریس کو ہلاک کر سکے وہ کریں گے۔” پٹ مین نے کانگریس کمیٹی کو بتایا کہ جب تک ہم ان خطرات سے نمٹ نہیں لیتے، اس وقت تک کانگریس کی عمارت کے ارد گرد سکیورٹی کی موجودہ صورتِ حال برقرار رکھی جائے۔ صدر بائیڈن کے کانگریس سے خطاب کی تاریخ کا تاحال اعلان نہیں کیا گیا۔ تاہم عام طور پر سال کے آغاز پر یہ خطاب ہوتا ہے۔ چھ جنوری کو کیپٹل ہل پر ہلاکت خیز حملے کے بعد عمارت کے اطراف خاردار تاریں اور چیک پوائنٹس قائم کر دی گئی تھیں جہاں نیشنل گارڈز اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ تقریباً پانچ ہزار نیشنل گارڈز مارچ کے وسط تک یہاں تعینات رہیں گے۔
خیال رہے کہ سابق امریکی صدر ٹرمپ کے حامیوں نے چھ جنوری کو اُس وقت کیپٹل ہل پر دھاوا بول دیا تھا جب اراکینِ کانگریس بائیڈن کی انتخابات میں کامیابی کی توثیق کےلیے جمع تھے۔ سابق صدر ٹرمپ پر مجمعے کو اُکسانے کے الزامات لگائے گئے تھے اور انہی الزامات کی بنا پر عہدے سے سبکدوشی کے بعد اُن کے خلاف کانگریس کے دونوں ایوانوں میں مواخذے کی کارروائی بھی چلائی گئی۔ تاہم سابق صدر ڈیموکریٹس کی جانب سے عائد کردہ الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔ سابق صدر کا یہ مؤقف رہا ہے کہ اُنہوں نے صرف اپنے حق کےلیے لڑائی جاری رکھنے کا بیان دیا تھا جب کہ کیپٹل ہل پر حملے کے دوران اُنہوں نے مظاہرین کو صبر و تحمل سے کام لینے کی اپیل بھی کی تھی۔ سابق صدر کے مواخذے کی کارروائی کے دوران اُن کے وکلا کا یہ مؤقف تھا کہ موقع پر موجود مظاہرین نے اپنے طور پر یہ کارروائی کی جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کوئی کردار نہیں تھا۔ اس حملے کے دوران اراکینِ کانگریس کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے تھے جب کہ اس دوران تشدد کے واقعات میں ایک پولیس اہلکار سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ان حملوں کے الزامات کے تحت لگ بھگ 200 افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے تھے جن میں سفید فام انتہا پسند تنظیم ‘پراؤڈ بوائز’ اور ‘اوتھ کیپرز’ کے کارکن بھی شامل ہیں۔
