ٹڈی دل کو پکڑیں، ہزاروں کمائیں اور فصلیں بچائیں

پاکستان سمیت دنیا کے کئی ملکوں میں ٹڈی دل کے جھنڈ فصلوں اور باغات پر حملہ آور ہیں جس سے کاشت کاروں کا اربوں کا نقصان ہوچکا ہے، اس مسئلے کے حل کےلیے پاکستانی ماہرین نے کامیابی سے ٹڈی دل کے حملے کا بہترین اور سادہ حل تلاش کرلیا ہے جس کے ذریعے ٹڈیوں کو ہائی پروٹین چکن فیڈ بنانے میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔
پاکستان میں ایک پائلٹ پروجیکٹ اس مسئلے سے نمٹنے کا سادہ حل پیش حل کرتا ہے۔ اس میں کسی بھی قسم کے زہریلی کیڑے مار دوا کا استعمال نہیں کیا جاتا جو انسانوں اور دیگر جانداروں سمیت ماحول کےلئے بہت خطرناک ہے۔ پاکستانی کے مشرقی صوبے سب سے پہلے موسم سرما میں اس حملے کا شکار ہوئے۔ ٹڈی دل سندھ کے بعد پنجاب کے علاقوں پر حملہ آور ہے جہاں گندم سمیت کئی فصلیں تباہ ہوچکی ہیں۔ یہ پچھلے پچیس سالوں میں پاکستان میں ہونے والا شدید ترین حملہ ہے۔
واضح رہے کہ ماحولیات تبدیلی نے ٹڈی دل کے حملے میں اہم کردار کیا ہے۔ اس کا آغاز اس وقت ہوا جب پچھلے برس ایک غیر معمولی سائیکلون کے نتیجے میں ہونے والی بارشیں زمین میں غیر معمولی نمی پیدا کرنے کا باعث بنی جس کو عموماً سعودی عرب کے صحرا کا خشک سہ ماہی جانا جاتا تھا۔ اس نمی کے نتیجے میں ٹڈی دل کہ زمین میں موجود انڈوں سے بچے نکل آئے اور انکی بہت بڑی تعداد پیدا ہوگئی۔ تب سے ان کی پیدائش کا عمل مسلسل جاری ہے۔ یاد رہے کہ ایک مادہ ٹڈی دل 200 سے بارہ سو تک انڈے دیتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹڈی دل کے بڑے جھنڈ ایران کے راستے موسمی ہواؤں کے ساتھ پاکستان میں داخل ہوئے۔ پاکستان کے مشرقی صحرائی علاقوں میں آنے کے بعد ان کی تعداد بڑھی اور سرما کے آخر میں پاکستان کے کئی علاقوں میں مذید ٹڈی دل داخل ہوئے۔ کرونا سے معاشی طور پر متاثر پاکستان کے لئے اس وقت بہت مشکل وقت ہے۔ حکومت نے ٹڈی دل مارنے کے لیے جو اسپرے کیا ہے وہ انسانوں میں کئی امراض کا باعث بننے کے ساتھ ساتھ جنگلی حیات کے لئے بھی ہلاکت خیز ہے۔
لیکن اب اس بڑھتے ہوئے ٹڈی دل کے مسئلے کا پاکستانی ماہرین نے سادہ حل تلاش کرلیا ہے۔ صوبہ پنجاب ضلع اوکاڑہ کے کسانوں کےلیے ٹڈی دل پکڑ کر بیچنا آمدنی کا ذریعہ بنادیا گیا ہے۔ ٹڈی دل پکڑ کر ان سے چکن اور دوسرے جانوروں کےلئے ہائی پروٹین غذا تیار کی جارہی ہے۔
پاکستانی ماہرین کے مطابق انہیں ابتدائی طور پر یہ یقین نہیں تھا کہ ایسا ممکن ہوگا کہ ٹڈی دل کو لوگ پکڑ بھی سکتے ہیں۔ انہیں یہ آئیڈیا دو ہزار انیس میں یمن میں ٹڈی دل حملے کے بعد نمٹنے کی مثال سے آیا۔ جب یمن والوں کا موٹو تھا کہ ٹڈی دل کو کھالو اس سے پہلے کہ یہ تمہاری فصلیں کھائیں۔ اس تجربے کےلئے ڈسٹرکٹ اوکاڑہ جو کہ بہت زیادہ آبادی والا علاقہ ہے، کا انتخاب کیا گیا۔ وہاں تین دن کا ایک ٹرائل پروجیکٹ پپلی پہاڑ جنگلات دیپال پور میں کیا گیا جہاں فروری کے وسط میں لاتعداد بڑے ٹڈی دل کے جھنڈ رپورٹ کئے گئے تھے۔ ان جنگلات کا اس لئے بھی انتخاب کیا گیا کہ وہاں کیڑے مار ادویات کے اثرات ہونے کے چانسز کم تھے۔
’ٹڈی دل کو پکڑیں۔ پیسے کمائیں- فصلیں بچائیں‘ کے سلوگن کے ساتھ یہ پروجیکٹ کسانوں کو ایک کلو وزن کے ٹڈی دل کے بیس روپے ادا کرتا ہے۔ ٹڈی دل صرف دن کے وقت اُڑتے ہیں اور رات ہوتے ہی ان کے جھنڈ میدانوں اور درختوں پر جمع ہوجاتے ہیں اور بنا حرکت کے صبح ہونے تک وہیں پڑے رہتے ہیں۔ اس طرح رات کے وقت ان کو پکڑنا نہایت آسان ہوتا ہے۔ اوسطاً ایک کمیونٹی ایک رات میں سات ٹن ٹڈی دل تک جمع کر سکتی ہے۔ پروجیکٹ ٹیم اس کا وزن کرکے انہیں نزدیکی پلانٹس میں فروخت کردیتی ہے جہاں یہ ہائی پروٹین فیڈ بنانے میں استعمال کئے جارہے ہیں۔ کاشتکاروں کے گروپ کے ہر فرد نے اس کام سے صرف ایک رات میں بیس ہزار روپے تک کمائے ہیں۔ ماہرین کے مطابق پہلے دن جب انہوں نے اس بارے میں بات کی تو صرف دس سے پندرہ لوگ ہی آئے لیکن پیسے کمانے کی بات بہت تیزی سے پھیل گئی اور تیسرے ہی دن کئی سو لوگ اس کام کےلئے آگئے حتی کے انہیں کسی قسم کے بیگ دینے کی ضرورت بھی نہ پڑی کیوں کہ وہ اپنی موٹر بائیکس پر اپنے ٹڈی دل سے بھرے بیگ لے کر آئے تھے۔ ہم نے صرف ان کو چیک کیا کہ وہ ٹڈی دل سے بھرے ہوئے ہیں اور ان کا وزن کرکے ان کی محنت کےلئے ان کو ادائی کردی۔
پروٹین فیڈ والی کمپنی کے ایک عہدیدار کے مطابق انہوں نے برائلر چکن کو ٹڈی دل سے تیار کردی فیڈ دی اور پانچ ہفتے کی اسٹڈی میں تمام غذائی پہلو کے نتائج مثبت آئے ہیں۔ اس لئے وہ مطمئن ہیں کہ ان سے فیڈ تیار کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اگر بغیر کسی اسپرے کہ ہم ٹڈی دل پکڑ سکیں تو ان کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ انہیں فش اور پولٹری کے علاوہ ڈیری فیڈ میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ایک اعشاریہ پانچ بلین چکن کی افزائش کے فارم اور بہت سے فش فارمز ہیں جہاں یہ فیڈ استعمال کی جاسکتی ہے۔ ٹڈی سے تیار کردہ فیڈ کے تجارتی فائدے بھی ہیں، اس وقت پاکستان میں تین لاکھ ٹن سویا بین امپورٹ کی جاری ہے اور ان سے آئل نکالنے کے بعد اس کے کرش کو جانوروں کی فیڈ کےلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ سویا بین میں صرف پینتالیس فیصد پروٹین ہوتی ہے جب کہ ٹڈی دل میں یہ ستر فیصد ہے۔ سویا بین سے تیار کردہ فیڈ نوے روپے فی کلو ہے جب کہ ٹڈی دل کی صورت میں خرچ صرف وہی ہے جو ہم اس کو پکڑنے اور سکھانے پر آتی ہے تاکہ انہیں استعمال کیا جاسکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کمیونٹی کو صرف ٹڈی دل جمع کر کے اس کو بیچنا ہے۔ بہت سے لوگ جو وباء کی وجہ سے بے روزگار ہوگئے ہیں وہ مل کر یہ کام کرسکتے ہیں۔ یہ ایک غیر معولی حل ہے اور آسانی سے ہمارے زیادہ آبادی والے دیہی علاقوں میں اس کام کو بڑھایا جاسکتا ہے کیوں کہ صحرائی علاقوں میں اسپرے کرنا تو سمجھ آتا ہے لیکن فصلوں، انسانوں اور جاندار جہاں موجود ہیں وہاں اسپرے کرنا نقصان دہ ہے۔
بڑے پیمانے پر ٹڈی دل کو پکڑنے کی اسٹرٹیجی بنائی جاسکتی ہے مثلا میدانی علاقوں میں پول لگا کر ان پر جال باندھ کر بھی انہیں پکڑا جاسکتا ہے۔ اس پر شاید ایک مرتبہ لاگت زیادہ ہو لیکن ان کے زریعے مستقل بڑے پیمانے پر ٹڈی دل کو پکڑنے کا کام آسانی سے کیا جاسکتا ہے۔
