ٹکٹ چِھننے کے بعد عبدالقادرPTI کے لیے بڑا خطرہ بن گیا

تحریک انصاف کی جانب سے ٹکٹ ایوارڈ کر کے واپس لیے جانے کے باوجود کنسٹرکشن بزنس سے وابستہ عبدالقادر نے بلوچستان سے بحثیت ازاد امیدوار سینیٹ الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے جس نے تحریک انصاف کے لیے بڑے خطرے کی گھنٹیاں بج گئی ہیں۔
یاد رہے کہ تحریک انصاف بلوچستان چیپٹر کی جانب سے عبدالقادر کو ٹکٹ دینے کی سخت مخالفت کی گئی تھی جس کے بعد وزیراعظم عمران خان نے ان سے ٹکٹ واپس لے لیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عبدالقادر کی تائید و تجویز بلوچستان عوامی پارٹی کے اراکین نے کی تھی اور وہ حکومتی اتحاد کا حصہ ہونے کے باوجود ابھی تک عبدالقادر کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ عبدالقادر نے پی ٹی آئی کا ٹکٹ لینے کی خاطر صرف ایک روز پہلے اپنی سابقہ جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کو چھوڑا تھا۔ لیکن اب عمومی تاثر یہی ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے ٹکٹ واپس لیے جانے کے باوجود عبدالقادر اپنی دولت کے بل بوتے پر یہ الیکشن جیتنے کی پوزیشن میں ہیں اور اسی لیے انہوں نے اپنے کاغذات نامزدگی واپس نہیں لیے۔
یاد رہے کہ بلوچستان سے ایوان بالا کی سات جنرل نشستوں سمیت مجموعی طور پر بارہ نشستوں پر تین مارچ کو انتخاب ہوگا۔ حکمران جماعت تحریک انصاف نے بلوچستان سے جنرل نشست کے لیے پہلے اسلام آباد کے رہائشی اور تعمیراتی شعبے کے ٹھیکیدار عبدالقادر کو ٹکٹ دینے کا اعلان کیا تھا جس پر پی ٹی آئی بلوچستان میں شدید اختلافات پیدا ہوگئے تھے۔
سینیٹ کے لیے نامزدگی کے بعد بلوچستان میں پی ٹی آئی کے چاروں ریجنز کے صدور نے عبدالقادر کو شہباز شریف کا کاروباری شراکت دار قرار دیا تھا۔ پی ٹی آئی بلوچستان کی جانب سے تحفظات کے اظہار کے بعد وزیراعظم عمران خان نے عبدالقادر سے سینیٹ کا ٹکٹ واپس لے لیا تھا اور ان کی جگہ پی ٹی آئی کے کوئٹہ ریجن کے سینیئر نائب صدر سید ظہور آغا کو امیدوار نامزد کیا۔ عبدالقادر نے ٹکٹ واپس لیے جانے پر ردعمل میں کہا تھا کہ ’انہیں وزیراعظم عمران خان کا فیصلہ قبول ہے‘ تاہم کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے آخری دن عبدالقادر نے بلوچستان عوامی پارٹی کے اراکین سکندر عمرانی اور لیلیٰ ترین کی تائید و تجویز سے آزاد حیثیت سے اپنے نئے کاغذات نامزدگی الیکشن کمیشن کے کوئٹہ میں واقع دفتر میں جمع کروا دیے۔
حکومتی اتحادی بلوچستان عوامی پارٹی کے جنرل سیکریٹری اور سینیٹ کے لیے امیدوار منظور احمد کاکڑ کا کہنا ہے کہ ’انہیں علم نہیں کہ ان کی جماعت کے اراکین نے آزاد امیدوار کی تائید و تجویز کی ہے۔ یہ معاملہ پارٹی کے سامنے آیا تو بی اے پی کے صدر وزیراعلیٰ جام کمال خان فیصلہ کریں گے۔‘ تاہم یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ عبدالقادر کو وزیراعظم عمران خان سے ٹکٹ دلوانے والے بھی جام کمال ہی تھے کیونکہ ان کی اس بلڈر کے ساتھ ذاتی دوستی ہے۔
اسلام آباد میں مقیم عبدالقادر تعمیراتی شعبے کے ایک بڑے ٹھیکیدار ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’ان کی جائے پیدائش کوئٹہ ہے اور انہوں نے تعلیم بھی کوئٹہ سے حاصل کی اور کاروبار کا آغاز بھی بلوچستان سے کیا۔‘ وہ 2018 کے سینیٹ انتخابات میں بھی بلوچستان سے آزاد امیدوار تھے۔ انہیں مسلم لیگ ن کے منحرف ارکان صوبائی اسمبلی، جنہوں نے بعد میں بی اے پی کی بنیاد رکھی، کی حمایت حاصل تھی، تاہم کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر وہ مطلوبہ حمایت کے باوجود سینیٹر نہ بن سکے۔
یاد رہے کہ پی ٹی آئی کے رہنما اور وفاقی وزیر فواد چوہدری اور بلوچستان عوامی پارٹی کے سینیئر رہنما سرفراز بگٹی نے عبدالقادر کو بلوچستان عوامی پارٹی اور تحریک انصاف کا مشترکہ امیدوار قرار دیا تھا۔ تاہم اب عبدالقادر کے آزاد حیثیت سے بطور امیدوار سامنے آنے کے بعد خود بلوچستان عوامی پارٹی اور تحریک انصاف کے امیدواروں کے لیے بھی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ بلوچستان اسمبلی میں تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر سردار یار محمد رند کے بیٹے سردارخان رند نے بھی آزاد حیثیت سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔ کوئٹہ کے سینیئر صحافی اور تجزیہ کار جلال نورزئی کے مطابق ’سردار یار محمد رند اپنے بیٹے کو سینیٹر بنانا چاہتے تھے تاہم پارٹی نے انہیں ٹکٹ نہیں دیا۔
ان حالات میں سات صوبائی اراکین اسمبلی کے ساتھ پی ٹی آئی بلوچستان سے صرف ایک سینیٹ نشست جیت سکتی ہے اور وہ بھی اس صورت میں کہ ان کے ووٹ تقسیم نہ ہوں، لیکن موجودہ صورت حال میں ایسا لگ رہا ہے کہ پی ٹی آئی کے ووٹ تین حصوں میں تقسیم ہو جائیں گے۔‘ جلال نورزئی کے بقول عبدالقادر کو تحریک انصاف کے کچھ اراکین کی اب بھی حمایت حاصل ہے۔ بلوچستان عوامی پارٹی کے دو اراکین نے ان کی تائید و تجویز کی ہے اس کا مطلب ہے وہ بی اے پی کے مزید اراکین کی حمایت بھی حاصل کرسکتے ہیں۔
یاد رہے کہ 65 رکنی بلوچستان اسمبلی کے ایوان میں سینیٹ کی سات میں سے ہر جنرل نشست جیتنے کے لیے کم سے کم آٹھ ووٹوں کی ضرورت ہے۔ نو ووٹوں والا یقینی طور پر جیت جائے گا جبکہ اس سے کم ووٹوں کے حامل امیدوار کی جیت کا فیصلہ پوائنٹس پر ہوگا۔ بلوچستان اسمبلی میں بلوچستان عوامی پارٹی 24 نشستوں کے ساتھ سرفہرست ہے۔ پی ٹی آئی سات، اے این پی چار، بلوچستان نیشنل پارٹی تین، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی دو اور جمہوری وطن پارٹی کا ایک رکن ہے۔ یوں حکمران اتحاد کے پاس مجموعی طور پر 41 اراکین ہیں۔ مسلم لیگ ن کے واحد رکن نواب ثنا اللہ زہری پارٹی سے وابستگی ختم کر چکے ہیں اور حکمران اتحاد کا ساتھ دے سکتے ہیں۔ اپوزیشن اتحاد میں شامل جمعیت علمائے اسلام اور بی این پی دس دس نشستوں کی حامل ہیں۔ انہیں پشتونخوا (میپ) کے نصراللہ زیرے اور آزاد امیدوار نواب اسلم رئیسانی کی بھی حمایت حاصل ہے۔ پشین سے بلوچستان اسمبلی کی خالی نشست پر منگل کو ہونے والے انتخاب میں بھی جے یو آئی کی کامیابی کا واضح امکان ہے۔
یاد رہے کہ سینیٹ الیکشن ایک عرصے سے مخلتف تنازعات کا باعث ہیں اور اس کی ایک وجہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حکومت پر اپنے امیدواروں کو منتخب کروانے کے لیے پیسے کے ذریعے ووٹ خریدنے کے الزامات ہیں۔ سینیئر تجزیہ کار شہزادہ ذوالفقار کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں سینیٹ کے انتخابات میں پیسوں کے استعمال کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا بلکہ ’نوے کی دہائی کے بعد سے اب تک پیسے کے بل بوتے پر سینیٹ کا رکن بننے کے لیے کئی لوگ بلوچستان کا رخ کرتے رہے ہیں۔‘ بلوچستان اسمبلی کے اراکین کی تعداد 65 ہے۔ دیگر اسمبلیوں کے مقابلے میں یہ سب سے کم تعداد ہے لیکن چونکہ سینیٹ میں تمام وفاقی اکائیوں کی نمائندگی برابر ہے اس لیے سینیٹ کے انتخاب کے لیے باقی تین اسمبلیوں کے ووٹ بلوچستان اسمبلی کے 65 ووٹوں کے برابر ہوتے ہیں۔
اس صورتحال کے باعث سینیٹ کے نصف اراکین کے انتخاب کی صورت میں ایک جنرل نشست پر کامیابی کے لیے بلوچستان سے آٹھ سے نو ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ پنجاب میں ایک سیٹ کے لیے 40 سے زائد ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ شہزادہ ذوالفقار کا کہنا ہے کہ ’پیسے والے امیدواروں کی جانب سے بلوچستان کی جانب رخ کرنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ یہاں کم اراکین سے ڈیلنگ کرنا پڑتی ہے‘۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ماضی میں جہاں باہر سے آنے والے امیدوار پیسہ لگاتے رہے ہیں بلکہ خود بلوچستان کے لوگ بھی پیسے کی بل بوتے پر کامیاب ہوتے رہے ہیں۔‘ صوبائی حکمران جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کی جانب سے ٹکٹ حاصل کرنے والی ستارہ ایاز کا تعلق بھی بلوچستان سے نہیں کیا اس بار بھی باہر سے تعلق رکھنے والے امیدوار بلوچستان سے میدان میں ہیں؟ بلوچستان سے سینیٹ کے انتخابات کے لیے جو افراد میدان میں ہیں ان میں سے بعض کے بارے میں یہ کہا جا رہا ہے کہ ان کا تعلق بلوچستان سے نہیں۔
سینیٹ انتخابات میں باہر سے آنے والے یا پیسے اور دیگر اثر و رسوخ کی بنیاد پر ٹکٹ حاصل کرنے والوں کے لیے سیاسی حلقوں میں ’پیراشوٹرز‘ کی اصطلاح بھی استعمال کی جا رہی ہے۔ حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے رہنما مولانا عبد الغفور حیدری کا کہنا ہے کہ ’اس مرتبہ بھی سرمائے کی بنیاد پر کامیابی کے خواہشمند پیراشوٹرز‘ بلوچستان آئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے اراکین اسمبلی ’نظریاتی ہیں اس لیے پیراشوٹرز ان پر اثرانداز نہیں ہو سکیں گے‘۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button