ٹک ٹاک کی آڑ میں لڑکیوں کو ہراساں کرنے والے کا انجام

گوجرانوالہ میں پولیس نے ایک ایسے شخص کو گرفتار کیا ہے جس پر خواتین کو بازاروں میں ہراساں کرنے اور اس دوران ان کی ویڈیو بنانے کا الزام ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے جانے والا ملزم سوشل میڈیا پر شہرت حاصل کرنے اور اپنے یوٹیوب چینل کے سبسکرائبرز کو بڑھانے کے لیے خواتین کو ہراساں کرنے کی ویڈیو بناتا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم اور اس کے کچھ ساتھی بھی ایسی ویڈیو بنانے میں شامل ہیں اور وہ کافی عرصے سے اس طرح کی ویڈیو بنا رہے تھے لیکن کسی بھی فرد نے ملزمان کے اس اقدام کے خلاف کوئی درخواست نہیں دی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جوں ہی ملزمان کے خلاف تھانے میں درخواست دی گئی تو پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اس گروہ کے مرکزی کردار محمد علی کو حراست میں لے لیا۔ پولیس کے مطابق ملزم گھکڑ منڈی کا ہی رہائشی ہے.
تھانہ گھکڑ منڈی پولیس کے محرر محمد نسیم کا کہنا ہے کہ ملزم کو جسمانی ریمانڈ کے لیے متعلقہ عدالت میں پیش کیا جائے گا جبکہ اس کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مارے جارہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم محمد علی نے بتایا کہ اس نے جو ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کیں ان میں سے زیارہ تر ویڈیوز میں جن خواتین کے ساتھ وہ چھیڑ خانی کر رہا ہے یا ان کے ساتھ مذاق کر رہا ہے وہ خواتین ‘مینیجڈ’ ہیں یعنی انھیں ان ویڈیوز کو بنانے سے پہلے ہی ان کو اس بارے میں اگاہ کردیا گیا تھا۔
مقامی پولیس کا کہنا ہے ملزم کے بقول جو خواتین ان ویڈیوز میں نظر آئی ہیں وہ خواتین کسی کالج یا کسی تعلیمی ادارے میں نہیں جاتیں بلکہ وہ عام گھریلو خواتین ہیں۔ تھانہ گھکڑ منڈی میں نو شہرہ روڈ کے رہائشی حسن بٹ نے تحریری درخواست دی جس میں انھوں نے موقف اختیار کیا کہ وہ اپنی فیملی کے ہمراہ کسی کام کے سلسلے میں گھکڑ منڈی آئے تھے اور وہ لڑکیوں کے کالج کے قریب سے گزر رہے تھے کہ ملزم محمد علی لڑکیوں کے ساتھ سرعام فحش حرکات کر رہا تھا اور ان کے سروں سے دوپٹے کھینچ کر انھیں برہنہ کر رہا تھا جبکہ اس کے تین ساتھی چھپ کر اس واقعہ کی ویڈیو بنا رہے تھے۔ درخواست گزار کے مطابق جب انھوں نے ملزم کو ایسا کرنے سے منع کیا تو ملزم اور اس کے تین نامعلوم ساتھیوں نے نہ صرف انھیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں بلکہ پستول نکال کر انھیں جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی۔
مقدمہ درج ہونے سے پہلے ملزم نے اپنے یو ٹیوب چینل پر ایک ویڈیو اپ لوڈ کی تھی جس میں اس نے ایک خاتون کو، جس نے اپنے گلے میں دوپٹہ ڈالا ہوتا ہے اور وہ اپنی کمسن بیٹی کے ہمراہ سڑک پر جارہی تھی، روک کر پہلے انھیں سلام کیا اور پھر ان سے پوچھا کہ ان کا دوپٹہ کہاں ہے۔خاتون جب اس سے کہتی ہے کہ وہ کون ہے ان سے یہ سوال کرنے والے تو اس کے بعد ملزم ایک ہزار روپے کا نوٹ ان کی طرف بڑھاتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ ہزار روپیہ رکھیں ، پانچ سو روپے کا اپنے لیے اور پانچ سو روپے کا اپنی بیٹی کے لیے دوپٹہ لے لیں۔اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ خاتون اس کو جواب دیتی ہے کہ ‘وہ یہ پیسے اپنے پاس رکھیں ہمیں یہ پیسے نہیں چاہیں۔’ ملزم مسلسل ان کی طرف پیسے بڑھا رہا ہے اور کہتا ہے کہ اگر مائیں دوپٹہ نہیں لیں گی تو بیٹیاں کیسے لیں گی۔
اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ خاتون غصے میں آجاتی ہے اور ملزم کو کہتی ہیں کہ ‘میں دوپٹہ لوں نہ لوں میری بیٹی دوپٹہ لے نہ لے ان کو کیا تکلیف ہے’، جس پر ملزم کی طرف سے جواب دیا جاتا ہے کہ وہ ایک پاکستانی ہے اور مسلمان ہے۔ جواب میں خاتون کہتی ہیں کہ میں بھی مسلمان ہوں اور مجھے پتہ ہے کہ میں نے اپنے دین کو کیسے لے کر چلنا ہے۔
گوجرانوالہ کے سٹی پولیس آفیسر ڈی آئی جی سرفراز فلکی نے بتایا کہ ملزم محمد علی سے درج ہونے والے مقدمے کے ہر پہلو سے تفتیش کی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ ملزم اور اسکے دوسرے ساتھیوں نے صرف گوجرانوالہ کی حدود میں ہی نہیں بلکہ مختلف علاقوں میں جاکر ویڈیوز بنائی ہیں۔ پولیس افسر کا کہنا تھا کہ چونکہ ملزم کے خلاف پہلے کوئی درخواست نہیں آئی تھی اس لیے پولیس اپنے تئیں ملزم اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار نہیں کرسکتی تھی۔سرفراز فلکی کا کہنا تھا کہ اگر کسی اور شہری کو بھی ملزم کے خلاف کوئی شکایت ہے تو وہ سی پی او آفس یا متعقلہ تھانے میں درخواست دے سکتا ہے۔ گوجرانوالہ پولیس نے ملزم محمد علی کی گرفتاری کے بعد ان کا ایک ویڈیو پیغام بھی جاری کیا ہے جس میں وہ اپنے اس عمل پر معافی مانگ رہا ہے اور کہہ رہا کہ اسں نے ویڈیو سوشل میڈیا پر اپنے فالورز کو بڑھانے کے لیے ایسی ویڈیوز بنائیں۔ اس نے کہا کہ گوجرانوالہ پولیس نے اسے گرفتار کیا ہے اور وہ ان سے معافی مانگتا ہے اور آئندہ ایسی ویڈیو کبھی نہیں بنائے گا۔
اس ویڈیو پر سوشل میڈیا پر کافی ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایک صارف ثاقب راجہ نے ملزم کے بارے میں لکھا ہے کہ ‘کبھی یہ سکول کالج کی بچیوں کے بازو پکڑ لیتا یے کبھی بچیوں کے سر سے دوپٹہ کھینچ لیتا ہے، اس ویڈیو میں کسی کی بیوی کو کندھے سے پکڑ ہراساں کر رہا ہے ۔ کوئی قانون ہے پاکستان میں ؟ یہ مذاق ہے ؟’
ایک اور صارف تحریم عظیم نے لکھا ہے کہ مردوں کو ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ بازار میں جاکر عورتوں کو کہیں کہ وہ اپنا لباس ٹھیک کریں۔ وہ مزید لکھتی ہیں کہ یہ مناسب ہے کہ کسی کو نصیحت کرنے سے پہلے اپنے گھر سے تبدیلی لائیں۔ ایک اور صارف صدف علوی نے لکھا ہے کہ اس شخص کی ویڈیو کئی ماہ سے سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں جس میں وہ خواتین کو ہراساں کر رہا ہے اور ان کی ویڈیو بنا کر ان کی اجازت کے بغیر انٹرنیٹ پر وائرل کر رہا ہے۔ ایک اور ٹویٹ میں انھوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ایسا کرنا جرم نہیں ہے؟ انھوں نے کہا کہ کون شخص اس کی شناخت کرے گا اور اس کو گرفتار کرے گا تاکہ پاکستانی خواتین کو اس سے بچایا جاسکے۔
اپنی ٹویٹ کے آخر میں انھوں نے اسلام آباد پولیس میں تعینات اے ایس پی آمنہ بیگ سے کہا ہے کہ کیا وہ اس معاملے میں کچھ مدد کرسکتی ہیں؟ ایک اور صارف انصر لکھتے ہیں کہ اس ویڈیو میں خواتین خوفزدہ دکھائی دے رہی ہیں اور یہ شخص ان خواتین کو ہراساں کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس شخص کی باڈی لینگوئج اور ٹون کافی دھمکی آمیز تھی۔
اس ویڈیو سے پہلے بھی ملزم محمد علی کی متعدد ویڈیوز سامنے آئی تھیں جس میں وہ کبھی لڑکیوں کا کھانا کھانا شروع کر دیتا ہے اور کبھی سیرو تفریح کے لیے جانے والی فیملی کو چیھڑتا ہوا نظر آتا ہے۔ لہذا ایسے شخص کو معافی نامے کی ویڈیو بنانے پر معافی دینے کے بجائے اسے جیل میں ڈالنا چاہیے تاکہ اس جیسے باقی لوگوں کو بھی عبرت ملے۔
