ٹیسٹنگ، کورونا کیسز میں کمی کا اندازہ لگانے کا واحد طریقہ نہیں

وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ جب تمام رجحانات پاکستان میں نوول کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں کمی ظاہر کررہے ہیں تو ہر چیز کو ملک میں کیے جانے والے ٹیسٹس کی تعداد میں کمی سے نہیں دیکھنا چاہیے۔
ظفر مرزا نے کہا کہ’میرا خیال ہے کہ ہر چیز کو ٹیسٹ کی تعداد پر نہیں ڈالنا چاہیے، ہم جون کے وسط میں وبا کے عروج سے گزر چکے، ٹیسٹنگ بھی ایک عنصر ہے لیکن یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ مشتبہ کیسز کی تعداد کم ہوئی ہے’۔ انہوں نے کہا کہ ‘ہم نے ہسپتالوں سے معلومات اکٹھی کیں اور سندھ کے چند ہسپتالوں کے سوا اکثریت نے بتایا کہ اسپتالوں میں آنے والے مریضوں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔
خیال رہے کہ 20 جون سے اب تک 2200 مریضوں کے انتقال کے باوجود اپوزیشن کی جانب سے حکومت کو روزانہ کیے جانے والے ٹیسٹس کی تعداد کم کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
حکومت نے گزشتہ ماہ روزانہ کیے جانے والے ٹیسٹس کی تعداد بڑھا کر 34 ہزار تک کردی تھی لیکن جون کے آخر سے ٹیسٹس کی تعداد میں اچانک کمی ہونا شروع ہوگئی اور 18 جولائی کو ملک بھر میں تقریباً 18 ہزار ٹیسٹ کے گئے۔
معاون خصوصی برائے صحت کا مزید کہنا تھا کہ اس بات میں شبہ کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ وائرس کا پھیلاؤ کم ہوا ہے اور تمام اشاریے مثلاً اسپتالوں میں داخل مریضوں کی تعداد اور آکسیجن بیڈز اور وینٹی لیٹرز پر موجود بیماروں کی تعداد کم ہوئی ہے جبکہ اموات میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ اس بات کا جائزہ لینے کے لیے بات چیت جاری ہے کہ آیا یہ ’قبل از وقت امید‘ ہے یا کیسز کی تعداد میں ’مستقل کمی‘ ہے۔
معاون خصوصی نے کہا کہ گزشتہ ہفتے ہم نے غور کیا کہ ٹیسٹ کی تعداد کم کیوں ہوئی کیوں کہ ٹیسٹ کی صلاحیت میں کوئی مسئلہ نہیں ہے جس پر یہ جواب موصول ہوا کہ ہسپتالوں اور نجی لیبارٹریز میں مشتبہ مریضوں کی تعداد کم ہوگئی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حالانکہ ہمارا اتفاق رائے ہے کہ ٹیسٹس کی تعداد میں اضافہ ہونا چاہیے لیکن یہ بات بھی دیکھی گئی کہ 40 سے 50 فیصد ٹیسٹس ٹریسنگ، ٹیسٹنگ اور قرنطینہ کی پالیسی کی تحت کیے جارہے ہیں اور اگر ٹی ٹی کیو پالیسی نہ ہوتی تو ٹیسٹ کی تعداد مزید کم ہوتی۔
معاون خصوصی نے کہا کہ پاکستان میں صورت حال کے گرد 9 عناصر کا مجموعہ ہے، ’ہم نے بہت پہلے 13 مارچ کو لاک ڈاؤن کردیا تھا جو اب بھی جاری ہے جیسا کہ ریسٹورنٹس، شادی ہالز، تعلیمی ادارے اور دیگر مقامات بند ہیں۔
ڈاکٹر ظفر مرزا کے مطابق جو شعبے کھولے گئے ان کی نگرانی کی جارہی ہے اور ہدایات کی خلاف ورزی پر جرمانے کیے جاتے ہیں مزید یہ کہ 24 اپریل کو متعارف کروائی گئی ٹی ٹی کیو پالیسی(مریض کے رابطے میں رہنے والے افراد کی ٹیسٹنگ) بہتر ہوئی ہے اور چونکہ ہم حفظان صحت پر توجہ دے رہے ہیں اس لیے ماسکس پہننا لازم کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوت مدافعت کی سطح، وائرس کی نوعیت میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ درجہ حرارت بھی کیسز کی تعداد میں کمی کی وجوہات میں شامل ہے لیکن اس بات میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ مریضوں کا انتظام بہتر ہوا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button