ٹی ٹی پی سے معاہدے کی منظوری پارلیمنٹ سے لی جائےگی


پاکستانی اپوزیشن جماعتوں کی قیادت کو یہ یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ جو بھی حتمی امن معاہدہ طے پائے گا اسے منظوری کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا اور اگر اسکی منظوری نہ ہو پائی تو فوج دوبارہ سے ٹی ٹی پی کے خلاف متحرک ہو جائے گی۔
باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ 8 نومبر کو پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے اجلاس کے دوران وزیر اعظم کی عدم موجودگی میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے اپوزیشن جماعتوں کی قیادت کو تحریک لبیک پاکستان سے معاہدے کی تفصیلات کے علاوہ تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے معاملے پر بھی بریفنگ دی۔ اجلاس کے دوران اپوزیشن رہنماؤں خصوصا بلاول بھٹو کا یہ موقف تھا کہ اس معاملے پر کوئی پیش رفت کرنے سے پہلے حکومت کو پارلیمنٹ میں موجود اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا کیونکہ ٹی ٹی پی کے خلاف 2014 میں فوجی آپریشن کرنے کا فیصلہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت متفقہ طور پر پاکستانی پارلیمنٹ نے کیا تھا۔
تاہم اس حوالے سے اب یہ اطلاعات ہیں کہ اپوزیشن قیادت کو یقین دہانی کروا دی گئی ہے کہ ابھی تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات بالکل ابتدائی مراحل میں ہیں اور ان کے ساتھ جیسے ہی کوئی امن معاہدہ ہوگا تو اسے منظوری کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔ اپوزیشن رہنماؤں کو یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ اگر پارلیمنٹ نے طالبان کے ساتھ ہونے والے امن معاہدے کو مسترد کردیا تو پاکستانی افواج دوبارہ سے طالبان کے خلاف متحرک ہو جائیں گی۔
ذرائع کے مطابق فوجی قیادت کی جانب سے ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات پر بریفنگ کے دوران اپوزیشن رہنماؤں کا مجموعی تاثر یہ رہا کہ شدت پسندوں کیخلاف مزاحمت کی بجائے مفاہمت کا راستہ اپنانے کا فیصلہ دراصل اسٹیبلشمنٹ کیا ہے۔ بریفنگ کے فوری بعد وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے میڈیا کو بتایا تھا کہ جب تک یہ مذاکرات ایک معاہدے تک پہنچنے کی کوشش میں آگے بڑھ رہے ہیں، حکومت اور ٹی ٹی پی نے ایک ماہ کے لیے جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔
تاہم ریاست پاکستان ان مذاکرات پر کس طرح اور کیوں آمادہ ہوئی اس کا سیاق و سباق بھی عیاں ہو رہا ہے۔ باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ عسکری قیادت کے خیال میں اس کے پاس بہتر پوزیشن کے ساتھ ٹی ٹی پی کے ساتھ معاہدہ طے کرنے کے لیے 6 سے 8 ماہ کا وقت موجود ہے۔
پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے اجلاس کے شرکا کو بتایا گیا کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں پاکستان کی ’ریڈ لائنز‘ واضح ہیں۔ ٹی ٹی پی کو ملک کے آئین اور قوانین کو تسلیم کرنا ہوگا اور اس پر کوئی بھی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
ذرائع نے تصدیق کی کہ جو افراد سنگین جرائم میں ملوث ہیں ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی اور صرف معمولی حیثیت کے جنگجوؤں کو رہا کیا جائے گا۔
تاہم دوسری جانب حقیقت یہ ہے کہ تحریک طالبان نے جن جنگجووں کی لسٹ رہائی کے لیے افغان طالبان کے حوالے کی وہ اہم ترین لوگوں میں شمار ہوتے ہیں اور اب یہ اطلاع ہے کہ تحریک طالبان اور پاکستانی حکام کے مابین فائر بندی کا اعلان ان گرفتار جنگجوؤں کو افغان طالبان کے حوالے کرنے کے بعد ہوا ہے۔
اس سے پہلے پاکستانی حکام اور طالبان کے مابین ان کی رہائی کے معاملے پر ڈیڈلاک تھا لیکن افغان حکومت کے وزیر داخلہ کمانڈر سراج الدین حقانی کی جانب سے معاہدے کی پاسداری کیے جانے کی ضمانت ملنے کے بعد ان جنگجوؤں کو رہا کر دیا گیا۔
با خبر ذرائع نے یہ بھی تصدیق کی ہے کہ یہ یقینی بنانے کے لیے کہ افغانستان میں امریکیوں کے چھوڑے گئے مہلک ہتھیار ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گردوں کے ہاتھ نہ لگیں، حکومت پاکستان، افغان طالبان کی حکومت سے ان ہتھیاروں کا ایک بڑا ذخیرہ خرید رہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق امریکی افواج نے اپنے پیچھے تقریباً 2 لاکھ مہلک ہتھیار چھوڑے ہیں۔ طالبان کو پیسے کی ضرورت ہے اور پاکستان اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ ٹی ٹی پی کے جنگجو ہتھیاروں تک رسائی حاصل نہ کر سکیں ہر ممکن کوشش کرنا چاہتا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان پہلے ہی ان ہتھیاروں کی بڑی تعداد خرید چکا ہے جو ایف سی جیسے نیم فوجی دستوں کو دیا جاسکتا ہے۔
ایسے میں کہ جب سینئر پاکستانی انٹیلی جنس افسران افغانستان میں ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں، پاکستانی فوجی قیادت نے پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کی بریفنگ کے شرکا کو بتایا کہ جب تحریک طالبان سے بنیادی معاہدہ طے پاجائے گا تو اسے حتمی منظوری کے لیے سیاسی قیادت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے بھی ہو سکتا ہے کہ حکومت پاکستان کے باضابطہ طور پر دستخط کرنے سے پہلے اس پر پارلیمنٹ میں بحث کی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر سیاسی قیادت نے معاہدے کو مسترد کیا تو فوج، ٹی ٹی پی کے خلاف متحرک کارروائیوں پر واپس آجائے گی۔ لیکن چند دوسرے ذرائع کا کہنا تھا کہ تنازعات عموماً میز پر حل ہوتے ہیں اور جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہوتی۔

Back to top button