ٹی ٹی پی کو معافی مل سکتی ہے تو پی ٹی ایم کو کیوں نہیں؟

ریاست پاکستان کے جانب سے ہزاروں پاکستانیوں کی قاتل تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ امن مذاکرات اور عبوری معاہدے کے بعد ناقدین کی جانب سے یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ اگر ایک دہشت گرد تنظیم کو معافی دی جا سکتی ہے تو پشتون تحفظ موومنٹ کے ساتھ مذاکرات کیوں نہیں کیے جا سکتے جو کبھی ایسی کسی کارروائی میں ملوث نہیں رہی اور جو ہمیشہ سے ٹی ٹی پی کی مخالف رہی ہے۔
ریاست پاکستان کی جانب سے ٹی ٹی پی کے ساتھ عبوری امن معاہدے اور تحریک لبیک پر عائد پابندی اٹھائے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر یہ سوال زیر بحث کے آخر پشتون تحفظ موومنٹ نے ایسا کونسا ریاست مخالف کام کیا ہے کہ ملک کی طاقتور اسٹیبلشمنٹ اسکے لئے نرم گوشہ پیدا کرنے کے لئے تیار نہیں۔ یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ تحریک طالبان کے ساتھ امن معاہدہ کرنے کی خاطر ماضی میں معصوم پاکستانیوں کو قتل کرنے والے گرفتار دہشت گردوں کو رہا کیا جا رہا ہے تو پھر عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے رکن قومی اسمبلی علی وزیر کو مسلسل زیر حراست رکھنے کا کیا جواز ہے۔ یاد رہے کہ علی وزیر پچھلے کئی مہینوں سے زیر حراست ہیں اور ان پر ریاستی اداروں کے خلاف ایک جلسے میں تقریر کرنے کے الزام پر غداری کا کیس چل رہا ہے۔ دوسری جانب افواج پاکستان کے خلاف جنگ کرنے اور ہزاروں جوانوں کو شہید کرنے والی تحریک طالبان کے ساتھ مفاہمانہ رویہ اپنایا جا رہا ہے جو کہ ایک کھلا تضاد یے۔
یاد ریے کہ تحریک انصاف حکومت نے پچھلے دنوں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ایماء پر دو شرپسند گروپوں سے مذکرات کیے اور ان کے لیے عام معافی کا اعلان کیا۔ ان میں سے ایک تحریک طالبان پاکستان اور دوسری تحریک لبیک ہے، ناقدین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ان دونوں عناصر کے ساتھ بات کرنا اور عام معافی کا اعلان کرنا مہذب دنیا اور مہذب معاشروں کے لیے قابل قبول نہیں ہے اور پاکستانی ریاست کو یہ معاہدے بھگتنا ہوں گے۔ تحریک طالبان وہ تنظیم ہے جو پاکستان میں پچھلے پندرہ سالوں سے متواتر خود کش حملے کر رہی ہے اور پشاور کے آرمی پبلک سکول کے 100 سے زائد معصوم بچوں کے قتل عام میں ملوث ہے۔ وزراعظم عمران خان پچھلے پندرہ سالوں سے متواتر ان کے ساتھ مذکرات کرنے کی ضرورت پر زور دیتے رہے ہیں، ان کی دلیل جدید دنیا کے لیے قابل قبول نہیں مگر پاکستان میں انکی حکومت ہے، ادھر وہ سیاہ وسفید کے مالک ہیں۔ دوسری جماعت تحریک لبیک ہے جو پچھلے 4 سال سے پر تشدد کاروائیوں میں ملوث ہے اور بنام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سیاسی دوکان درای چمکا رہی ہے۔ اس پر بھی الزام ہے کہ اسکے کارکنان نے اپنے مظاہروں میں بے شمار املاک کو نذر آتش کیا، کئی پولیس والوں کو جان سے مارا اور سینکٹروں کو زخمی کیا۔ اسے وجہ سے اپریل 2021 میں اسکو کالعدم قرار دیا گیا تھا۔ تاہم ریاست پاکستان نے تحریک لبیک کے مظاہروں کے بعد اس کی طاقت کے سامنے گھٹنے دیتے ہوئے نہ صرف اس پر عائد پابندی ختم کر دی بلکہ اس کے بانی سربراہ خادم حسین رضوی کے بیٹے سعد رضوی کو بھی بغیر کوئی مقدمہ چلائے رہا کر دیا۔ اور یہ سب کچھ ایک معاہدے کے نتیجے میں ہوا جسے یقینی بنانے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کے اعلی ترین افسران نے اپنا کردار ادا کیا۔
ناقدین اسے ریاست نے پاکستان کی دہری پالیسی اور انصاف کا دوہرا معیار قرار دیتے ہوئے مطالبہ کر رہے ہیں کہ اگر تحریک طالبان اور تحریک لبیک کو معافی دے کر ان کے ساتھ معاہدے کیے جا سکتے ہیں تو پشتون تحفظ موومنٹ کے ساتھ یہ برتاؤ کیوں نہیں کیا جاسکتا؟
