پاکستانیوں کے لیے UAE کے وزٹ اور ورک ویزہ پر پابندی کیوں لگی؟


متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستانی شہریوں کے لیے وزٹ اور ورک ویزا کے اجرا پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے کو حکومت پاکستان کی تاریخی سفارتی ناکامی قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ یو اے ای کی حکومت نے ماضی میں کبھی بھی پاکستان کے حوالے سے اتنا سخت فیصلہ نہیں کیا۔ پاکستان کو بتایا گیا ہے کہ یہ پابندیاں کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے لگائی گئی ہیں۔ تاہم سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اصل معاملہ کچھ اور ہے اور پاکستان پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے دباؤ بڑھانے کے لیے ایسی پابندی عائد کی جا رہی ہیں۔
جن ممالک پر پابندی لگائی گئی ہے ان میں افغانستان، عراق، شام، لبنان، لیبیا، کینیا، ایران، ترکی، یمن، تنزانیہ، صومالیہ اور پاکستان شامل ہیں۔ رابطہ کرنے پر حکومت پاکستان کو بتایا گیا کہ یہ پابندیاں کرونا وائرس کی وبا کو روکنے کے لیے عائد کی گئی ہیں۔ تاہم افسوس کی بات یہ یے کہ یہ موقف سچ پر مبنی نہیں ہے کیونکہ جن ممالک پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں ان میں بھارت شامل نہیں ہے جو کہ 90 لاکھ مریضوں کے ساتھ کرونا سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں دوسرے نمبر پر ہے۔ اسی طرح شدید کرونا زدہ دنیا کے مغربی ممالک کی آن ارائیول ویزہ اجرا کی سہولت بھی برقرار ہے۔
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ پاکستان کی مسلم خلیجی ریاستوں سے تعلقات میں پہلے جیسی گرم جوشی نہیں رہی ہے جو کہ 2018 میں وزیرِ اعظم عمران خان کی حکومت کے قیام کے وقت دیکھنے میں آئی تھی۔ خیال رہے کہ یو اے ای کو سعودی عرب کے اہم اتحادی کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور امارات کے کسی سفارتی اقدام کو ریاض کی ناراضگی یا حمایت سے تشبیہ دی جاتی ہے۔
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب کی طرح عالمی سیاست یا خلیج میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان چوں کہ ان کی پالیسیوں میں مکمل طور پر ساتھ نہیں چل رہا اس وجہ سے ویزہ پابندیاں لگا کر اسے تنبیہ کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اگر پابندیوں کے ممالک کی فہرست کو دیکھا جائے تو زیادہ تر وہ ممالک شامل ہیں جو امارات کے خلیج میں سیاسی کردار میں اضافے کی راہ میں رکاوٹ ہیں یا اس کی پالیسی کے حامی نہیں ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان کے ساتھ سعودی عرب اور امارات کی ناراضگی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اسلام آباد نے قطر سے اپنے تعلقات کو بہتر کیا ہے۔اس سے پہلے متحدہ عرب امارات کا شمار پاکستان کے دیرینہ دوست ممالک میں ہوتا تھا جہاں پاکستانیوں کی بڑی تعداد روزگار سے وابستہ ہے جو ترسیلاتِ زر کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے حال ہی میں نائیجر میں او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس کے دوران اپنے اماراتی ہم منصب ریم الہاشمی سے ون ٹو ون ملاقات میں اِس معاملے کو اٹھایا تھا لیکن یو اے ای حکومت کی جانب سے اب تک کوئی اطمینان بخش جواب نہیں دیا گیا اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی ٹائم فریم دیا گیا کہ یہ پابندیاں کتنی مدت تک عائد رہیں گی؟ ایسے میں سوشل میڈیا پر افواہوں کا بازار گرم ہے اور یہ افواہ بھی گردش کررہی ہے کہ یو اے ای حکومت کی جانب سے پاکستان پر ورک ویزے کی پابندی کی ایک وجہ پاک یو اے ای تعلقات میں سردمہری ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ حالیہ دنوں میں سعودی عرب اور یو اے ای کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں سرد مہری دیکھنے میں آئی ہے۔ ان دونوں ممالک میں لاکھوں پاکستانی ورکرز روزگار سے وابستہ ہیں اور ہماری نصف سے زائد ترسیلاتِ زر اِن ممالک سے آتی ہیں۔
حالیہ پابندیوں کو یو اے ای اور اسرائیل کے مابین بڑھتے تعلقات سے بھی جوڑا جارہا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کئے جانے کے بعد یو اے ای میں اسرائیل کا اثر و رسوخ بڑھتا جارہا ہے اور دونوں ممالک کے سفارتی و تجارتی تعلقات کے ساتھ ساتھ دفاعی تعلقات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور مستقبل میں یو اے ای اسرائیل کے مابین دفاعی معاہدے متوقع ہیں جن سے یو اے ای اور سعودی عرب کا اسرائیل پر انحصار بڑھے گا جبکہ پاکستان پر کم ہوگا اور خطے میں تنازعات جنم لیں گے جس سے ایران سب سے زیادہ متاثر ہوگا۔
اِن حالات میں یہ قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ یو اے ای نے حالیہ پابندیاں اُن ممالک پر عائد کی ہیں جہاں اسرائیل اور یہودی مخالف جذبات پائے جاتے ہیں اور یہ پابندیاں یو اے ای میں مقیم یہودیوں کے تحفظ کیلئے عائد کی گئی ہیں تاکہ مستقبل میں یو اے ای میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آسکے۔ یہ درست ہے کہ پاکستانی عوام، اسرائیل اور یہودیوں کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے اور اسرائیل کو غاصب ملک تصور کرتے ہیں جس نے فلسطین پر قبضہ کر رکھا ہے اور جب تک فلسطینیوں کو ان کے حقوق نہیں مل جاتے، وہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں۔ کچھ روز قبل وزیراعظم عمران خان کا اسرائیل کے خلاف سخت بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ ’’پاکستان کے اسرائیل سے تعلقات اس وقت تک بحال نہیں ہوں گے جب تک مسئلہ فلسطین حل نہ ہوجائے۔‘‘ اُن کے اس بیان سے یہ تاثر ابھرا کہ پاکستان، اسرائیل کے بارے میں اپنی الگ پالیسی رکھتا ہے اور اس معاملے پر وزیراعظم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے اُن پر کافی دبائو ہے۔حال ہی میں یو اے ای حکومت نے مذہبی ہم آہنگی برقرار رکھنے کیلئے سوشل میڈیا کے بارے میں اپنے سخت قوانین مرتب کئے ہیں جن کی خلاف ورزی پر قید اور جرمانے کی سزائیں مقرر ہیں۔ یو اے ای میں سوشل میڈیا پر حکومتی پالیسیوں کے خلاف مباحثے یا تبصرے کرنا جرم تصور کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یو اے ای میں پاکستانی سفارتخانے نے اپنے شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر یو اے ای حکومت کی اندرونی سیاست یا نظریات پر مبنی مباحثے اور تبصرے سے گریز کریںجو ایک مثبت قدم ہے۔
حکومت پاکستان کو چاہئے کہ وہ اس معاملے کو یو اے ای حکومت کے سامنے سنجیدگی سے اٹھائے اور یو اے ای کے تحفظات دور کرتے ہوئے انہیں باور کرایا جائے کہ پاکستانی ورکرز روزگار کی غر ض سے یو اے ای جاتے ہیں اور اُنہیں یو اے ای حکومت کے اسرائیل سے تعلقات سے کوئی سروکار نہیں۔ اگر ایسا نہ ہوا تو وہ وقت دور نہیں جب اِن پابندیوں کا اطلاق یو اے ای میں کئی سالوں سے روزگار سے وابستہ پاکستانیوں پر بھی ہوسکتا ہے اور خدشہ ہے کہ اُن کا ورک ویزا بھی منسوخ نہ کردیا جائے۔ اگر آج ہم نے یو اے ای کی حالیہ پابندی کو سنجیدگی سے نہ لیا تو مستقبل میں امکان ہے کہ بھارتی شہری یو اے ای میں پاکستانیوں کی جگہ لے لیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button