پاکستانیو! کیسا رہا کپتان کا نیا پاکستان؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار کار حامد میر نے کہا ہے کہ نیا پاکستان پرانے پاکستان سے کتنا مختلف ہے؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنا کوئی مشکل نہیں۔ آپ پاکستان کے کسی بھی شہر، دیہات یا قصبے میں کسی بھی عام آدمی سے یہ پوچھ لیں کہ سناؤ! کیسا رہا نیا پاکستان؟ اکثر پاکستانیوں کا جواب کسی اخبار میں قابل اشاعت ہو گا، نہ ہی کسی ٹی وی چینل پر نشر کیا جا سکتا ہے البتہ سوشل میڈیا پر یہ جواب دیکھا جا سکتا ہے اور اسی لیے آج کل پاکستان کے ارباب اختیار ’’فیک نیوز‘‘ کا سدباب کرنے میں مصروف ہیں۔
ایک غیر ملکی ویب سائٹ کے لیے اپنی تازہ تحریر میں حامد میر لکھتے ہیں کہ وہ میڈیا جس نے کبھی عمران کو اپنی آنکھ کا تارہ بنا رکھا تھا، آج کپتان حکومت سے اپنی بچی کُھچی آزادی کے تحفظ کی کوششوں میں مصروف ہے۔ وہ عمران، جو اپوزیشن میں آزادی صحافت کے بہت بڑے علمبردار تھے، وزیر اعظم بننے کے بعد انہیں صحافیوں کی عالمی تنظیم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز آزادی صحافت کا ایک دشمن قرار دے چکی ہے۔ وہ عمران جو اپوزیشن دور میں ہمیں اس لیے اچھے لگتے تھے کہ وہ ہمارے ٹی وی شوز میں لائیو انٹرویو کے لیے تیار رہتے تھے،
وزیراعظم بننے کے بعد اب ریکارڈڈ انٹرویو دیتے ہیں۔ حامد میر کہتے ہیں کہ حال ہی میں سی این این کا ایک ایسا ہی ریکارڈڈ انٹرویو نشر ہوا، جس میں بیکی اینڈرسن خاصے جارحانہ سوال کر رہی تھی اپنے خان کا انداز دفاعی تھا۔ جب بیکی اینڈرسن نے حقانی نیٹ ورک کے بارے میں ایک سوال کیا تو مجھے لگا کہ خان کو فل ٹاس مل گئی ہے اور اب وہ چھکا لگائے گا کیوںکہ امریکوں نے گزشتہ سال طاکبان کے ساتھ ہونے والے دوحہ معاہدے میں ایسی کوئی شق نہیں رکھی تھی کہ وہ سراج الدخن حقانی یا خلیل حقانی کو اپنی حکومت میں شامل نہیں کریں گے۔
لیکن خلاف توقع عمران خان نے بیکی اینڈرسن سے کہا کہ حقانی دراصل افغانستان کا ایک پشتون قبیلہ ہے۔ یہ سن کر میں حیران رہ گیا۔ کچھ دیر پہلے اسی انٹرویو میں عمران نے امریکی صدر اور وزیر خارجہ کو افغانستان کے بارے میں لاعلمی اور جہالت کا طعنہ دیا تھا اور اب وہی طعنہ ان پر صادق آ رہا تھا۔ ایسا کرنے پر کچھ لوگوں نے عمران خان پر ”فیک نیوز‘‘ پھیلانے کا الزام لگایا لیکن میں محتاط ترین الفاظ میں یہ کہوں گا کہ انہوں نے صرف لاعلمی کا مظاہرہ کیا۔ بیکی اینڈرسن ایک منجھی ہوئی صحافی ہیں لیکن انہوں نے بھی عمران خان کے اس دعوے پر خاموشی اختیار کی کہ حقانی کوئی پشتون قبیلہ ہے، ان کی بھی تیاری مکمل نہ تھی۔
بقول حامد میر حقانی نیٹ ورک دراصل جلال حقانی سے منسوب ہے جنکا تعلق افغانستان کے زدران قبیلے سے تھا اور انہوں نے 1979ء سے 1989ء کے دوران روسی فوج کو مشرقی افغانستان میں ناکوں چنے چبوائے۔ وہ اکوڑہ خٹک میں دارالعلوم حقانیہ کے فارغ التحصیل تھے۔ اس لیے اپنے نام کے ساتھ حقانی لکھتے تھے۔ جلال الدین حقانی ایک زمانے میں امریکی میڈیا کے ہیرو تھے۔ لیکن جب ان کے بیٹوں نے افغانستان میں امریکی فوج کے خلاف مزاحمت شروع کر دی تو حقانی نیٹ ورک کو دہشت گرد قرار دے دیا گیا۔ دراصل عمران خان حقانی والے سوال کے جواب میں یہ جواب بھی دے سکتے تھے کہ اگر سب حقانی دہشت گرد ہیں تو ہھر حسین حقانی امریکا میں کیا کر رہے ہیں؟
شاید وہ حسین حقانی کا نام اپنی زبان پر نہیں لانا چاہتے تھے۔ بقول حسین حقانی ان کے خاندان کا تعلق دہلی سے ہے اور وہ مولانا عبدالحق حقانی مفسر دہلوی کی اولاد ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے بانی اور مولانا سمیع الحق ان کے پردادا کے شاگرد تھے اور اسی لیے انہوں نے اپنے مدرسے کا نام حقانیہ رکھا تھا۔ بہرحال ایسے بہت سے حقانی ہیں، جو نہ پشتون ہیں، نہ افغان ہیں اور نہ ہی دارالعلوم حقانیہ سے فارغ التحصیل ہیں اور پھر بھی حقانی کہلاتے ہیں۔ بہر حال حقانیوں کو افغانستان کا پشتون قبیلہ قرار دینا ایک انسانی غلطی ہے لیکن موجودہ صورتحال میں وزیراعظم کی طرف سے ایسی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور اس سے بچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ سی این این جیسے ادارے کو انٹرویو دینے سے پہلے کچھ تیاری کر لی جائے یا پھر ضرورت سے زیادہ بولنے سے احتراز کیا جائے۔
حامد میر کہتے ہیں کہ سی این این پر عمران کے انٹرویو سے یہ تاثر ملا کہ وہ پاکستان میں اپوزیشن اور میڈیا کے علاوہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ساتھ لڑتے لڑتے اور اپنی طاقت کے کامیاب مظاہروں کے بعد ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی کا شکار ہیں۔ پاکستان کو خارجہ محاذ پر جن چیلنجز کا سامنا ہے، عمران خان انہیں بہت ہلکا لے رہے ہیں۔ قومی سلامتی کے معاملات پر انہیں پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے کر ایک متفقہ پالیسی بنانے کی ضرورت ہے لیکن وہ پارٹی کا ہنگامی اجلاس بلا کر یہ پوچھتے پھرتے ہیں کہ کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات میں تحریک انصاف لاہور اور راولپنڈی میں کیوں ہار گئی؟ ان کے وزراء الیکشن کمیشن پر حملہ آور ہیں اور الیکشن کمیشن وزراء کو نوٹس دے رہا ہے۔ حکومت کی ترجیحات دنیا کے سامنے ہیں۔ بقول حامد میر بہت سے پاکستانی کہتے ہیں کہ افغانستان میں امریکا کی شکست کے بعد امریکا کوئی سُپر پاور نہیں رہا۔ افغانستان سے امریکا نے، جس افراتفری میں انخلاء کیا، اس پر امریکا میں بھی بڑی بحث ہو رہی ہے اور بائیڈن انتظامیہ دباؤ میں نظر آتی ہے۔ اسی لیے امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان کے ساتھ تعلقات پر نظر ثانی کا عندیہ دیا ہے۔ ہمیں یہ خاطر جمع رکھنی چاہیےکہ افغانستان میں شکست کا داغ مٹانے کے لیے امریکا کو اب کوئی موقع چاہیے۔ امریکا یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے گا کہ وہ بدستور ایک سُپر پاور ہے۔ امریکا کو یہ موقع نہ دیا جائے کہ وہ پاکستان کو کسی ناکردہ گناہ کی سزا دے۔ لیکن حامد میر کہتے ہیں ہمیں نہ تو امریکا کے سامنے گڑگڑانے کی ضرورت ہے اور نہ ہی گھبرانے کی لیکن اندرونی اور بیرونی خطرات کے مقابلے کے لیے قومی سلامتی کے معاملات پر متفقہ پالیسی بنانی چاہیے جو تب ممکن ہے، جب یہ پالیسی پارلیمنٹ بنائے۔
حامد میر کے مطابق بیکی اینڈرسن نے عمران خان سے پوچھا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کا نان نیٹو اتحادی ہے لیکن امریکی صدر کے پاس آپ کو ایک فون کال کرنے کا وقت نہیں۔ اسکی کیا وجہ ہے۔ جواب میں خان صاحب نے کہا کہ امریکی صدر بہت مصروف ہیں۔ لیکن بقول حامد میر شاید ابھی تک کسی نے کپتان کو یہ نہیں بتایا کہ بائیڈن انتظامیہ ان کے اس دعوے پر حیران رہ گئی تھی کہ امریکا نے پاکستان سے فوجی اڈے مانگے تھے جن کی فراہمی سے انکار کر دیا گیا۔ دوسری جانب واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اس نے تو اڈے مانگے ہی نہیں تھے لہازا انکار کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ایسا لگتا ہے کسی نے خان صاحب کو ’’فیک نیوز‘‘ پہنچائی اور انہوں نے میڈیا پر ’’فیک نیوز‘‘ پھیلا دی۔ بہتر ہو گا کہ وہ اس معاملے کی وضاحت کر دیں تو شاید صدر بائیڈن شکریہ کا فون بھی کر دیں۔
