کیا تحریک طالبان پاکستان کو معافی دی جانی چاہیے؟

پاکستان میں طالبان کی جانب سے بڑھتی ہوئی دہشت گردی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان نے سکیورٹی فورسز کے خلاف 2021 کے پہلے آٹھ ماہ میں 78 دہشت گرد حملوں میں 158 افراد افراد کی جانیں لی ہیں۔ تاہم طالبان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اس سے زیادہ حملے کئے اور زیادہ جانے لیں۔ دوسری جانب صدر عارف علوی اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے یہ حیرت انگیز بیان آیا ہے کہ اگر طالبان پاکستانی آئین کو تسلیم کر لیں تو انہیں معافی دینے کا سوچا جا سکتا ہے۔ لیکن بلاول بھٹو زرداری کا موقف ہے کہ ایسا کرنا ہزاروں شہیدوں کے خون کے ساتھ غداری کے مترادف ہو گا اور اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
تحقیقی ادارے پاکستان انسٹیٹوٹ فار پیس سٹڈیز (پپس) کی جانب سے جمع کیے گے اعداد و شمار کے مطابق 2021 کے پہلے آٹھ مہینوں میں تحریک طالبان پاکستان نے 78 حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان حملوں میں 158 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے واضح اکثریت قانون نافذ کرنے والے سیکیعرٹی اداروں سے تعلق رکھنے والوں کی ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان بیشتر اوقات اپنے حملوں کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں اور مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں۔ ان کے دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ لیکن اگر پپس کے اعداد و شمار دیکھیں تو جولائی اور اگست میں تحریک طالبان نے بالترتیب 15 اور 19 حملے کیے جس میں جولائی میں 30 اور اگست میں 28 افراد ہلاک ہوئے۔ان میں ایک بار پھر 60 فیصد سے زیادہ ہلاکتیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی تھی۔ البتہ اگر صرف تحریک طالبان کی جانب سے کیے گئے دعوؤں کو شمار کریں تو ان کے مطابق اگست میں 32 حملے کیے جن میں کل 52 ہلاکتیں ہوئیں ہیں جبکہ کالعدم تنظیم کے مطابق ستمبر کے مہینے کی 15 تاریخ تک کم از کم 19 حملوں میں انھوں نے کم از کم 53 سیکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کیا ہے۔
ادھر پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی ویب سائٹ کا جائزہ لیا جائے تو اس میں جولائی کے مہینے میں صرف 13 اور 15 ستمبر 2021 کو کیے گئے حملوں کی مختصر معلومات دی گئی ہیں۔ اس کے بعد اگست کے مہینے میں ایسے پانچ واقعات کے بارے میں مختصراً بتایا گیا ہے جبکہ ستمبر کی 15 تاریخ تک صرف ایک ایسی کارروائی کی تصدیق کی گئی ہے۔
جب ان حملوں میں شدت آنے کی وجہ پوچھی گئی تو دہشت گردی پر تنقید کرنے والے عامر رانا نے کہا کہ افغانستان میں اب شدت پسندوں کے لیے کوئی جگہ نہیں رہی چاہے وہ تحریک طالبان کے ارکان ہوں یا کوئی اور۔ ان کا کہنا تھا افغانستان میں جب سے طالبان آئے ہیں تب سے تحریک طالبان سمیت دیگر تنظیموں کے لیے وہ ایک ’رول ماڈل‘ بن چکے ہیں جس سے یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ اگر اپنی مذہبی تحریک میں قومیت کا عنصر شامل کیا جائے تو اس کی کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ مفتی نور ولی نے ایک حالیہ انٹرویو میں اپنے لائحہ عمل میں ایک بڑی تبدیلی کا عندیہ دیا جس میں عالمی سطح پر تحریک کی بجائے اپنے علاقے میں، یعنی قبائلی علاقوں پر توجہ دینے کا ذکر کیا ہے اور یہ ان کے سیاسی اور مذہبی نظریے میں بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ یہ بھی ایک وجہ ہے کہ ان علاقوں میں ہونے والے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔
البتہ دفاعی امور کے ماہر بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمود شاہ ایسا نہیں سمجھتے۔انھوں نے بتایا کہ یہ ایک ہی کارروائی ہوئی ہے اور ایسا نہیں ہے کہ تمام قبائلی علاقوں میں کارروائیاں ہو رہی ہیں اور اس میں ایک ہی قاری گروپ ملوث ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائیاں شمالی اور جنوبی وزیرستان کے قریبی علاقوں میں ہو رہی ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ عناصر اب افغانستان میں نہیں رہ سکتے، اس لیے اب وہ آخری کوششیں کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیموں کے لیے افغانستان میں یا تو حمایت ہے ہی نہیں یا جن کو ماضی میں انڈیا کی جانب سے سپورٹ حاصل تھی وہ بھی اب ختم ہو گئی ہے اور اب انھیں ایسا لگتا ہے کہ یہ باب ختم ہونے والا ہے۔بریگیڈیئر محمود شاہ کے خیال میں ان حملوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور تحریک طالبان پاکستان کا کھیل اب ختم ہو رہا ہے۔
دوسری جانب یاد رہے کہ صدر عارف علوی نے چند روز پہلے ڈان نیوز چینل پر کہا تھا کہ پاکستانی طالبان اگر اپنے نظریات چھوڑ کر آئین اور قانون کے ساتھ چلنا چاہیں تو حکومت ان کے لیے معافی کا اعلان کر سکتی ہے۔اسی طرح کا ایک اور بیان وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دیا جب انھوں نے ایک برطانوی اخبار سے کہا کہ اگر تحریک طالبان شدت پسندی کی کارروائیں چھوڑ دیں اور ہتھیار ڈال دیں تو حکومت ان کو معافی دے سکتی ہے۔ تاہم بلاول بھٹو نے اس تجویز کو سختی سے رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہزاروں معصوم پاکستانیوں کے قاتل طالبان دہشت گردوں کو معافی دینا شہیدوں کے خون کا سودا کرنے کے مترادف ہوگا جس کے کسی بھی صورت بھی اجازت نہیں دی جائے گی۔
