پاکستانی ججز عدالت میں سننے سے زیادہ بولتے کیوں ہیں؟

جسٹس ثاقب نثار کا آڈیو سکینڈل سامنے آنے کے بعد سے پاکستانی عدلیہ شدید عوامی تنقید کی زد میں ہے تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سخت عوامی ردعمل کی ذمہ دار بھی عدلیہ خود ہی ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ایک مسلمہ اصول طے ہے کہ جج خود نہیں بولتے بلکہ ان کے فیصلے بولتے ہیں، تاہم پاکستان میں الٹ ہی چکر چل رہا ہے، یہاں جج خبروں میں رہنے کے لئے ضرورت سے زیادہ بولتے ہیں لیکن جب ان کے فیصلے سامنے آتے ہیں تو انصاف کے ترازو میں تولنے کے قابل بھی نہیں ہوتے۔ اکثر کیسوں میں دیکھنے میں آیا ہے کہ جج صاحبان سماعت کے دوران ریمارکس کچھ اور دیتے ہیں لیکن ان کے فیصلے ان ریمارکس کے الٹ ہوتے ہیں۔ ناقدین کہتے ہیں کہ کیسوں کی سماعت کے دوران جج حضرات سننے سے زیادہ بولنے پر یقین رکھتے ہیں اور انکا بنیادی مقصد اگلے روز کے اخبارات میں اپنی ہیڈ لائینیں لگوانا ہوتا ہے۔ لہذا عوام کی جانب سے ججوں کے رویے اور ان کے فیصلوں پر تنقید میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئینی ترامیم کے بعد ججوں کی تقرری کے طریقہ کار میں آنے والی تبدیلیوں سے نظام میں کچھ بہتری آئی ہے لیکن عدلیہ کی بہتر کارکردگی کے لئے اس نظام کا تسلسل ضروری ہے۔
دوسری جانب قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ پاکستانی عدلیہ نے پچھلے ستر برسوں میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے کاسہ لیس کا کردار ادا کرتے ہوئے ہر آئین شکن فوجی ڈکٹیٹر کے اقدامات کو جائز قرار دیا جس سے عدلیہ کی ساکھ صفر ہو چکی ہے اور وہ مسلسل عوامی تنقید کی زد میں رہتی ہے۔ جب سپریم کورٹ کے سابق جج وجیہہ الدین احمد سے پوچھا گیا کہ اعلیٰ عدلیہ پر اتنی ذیادہ عوامی تنقید کا سبب کیا ہے، تو انکا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں سیاست ہر چیز پر سبقت حاصل کر چکی ہے جو کہ ایک کرپٹ نظام کا حصہ ہے لہذا اس نظام کو چلانے والے اپنے مقاصد کے حصول کے لئے عدلیہ اور اس کے فیصلوں کو ہدف تنقید بناتے ہیں۔ تاہم انکا کہنا تھا کہ دوسری جانب بعض ججوں کا بھی ایسا منفی کردار ہوتا ہے جو انہیں یا ان کے فیصلوں کو متنازعہ بناتا ہے اسلئے ان کے فیصلوں کو سیاست کی نظر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جسٹس وجہیہ الدین احمد کا کہنا تھا کہ بعض جج بد قسمتی سے عدالتوں کے اندر باتیں بہت کرتے ہیں حالانکہ ججوں کو بولنا کم اور سننا زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن شاید مقصد یہ ہوتا ہے کہ جب آپ عدالتوں میں زیادہ بولیں گے تو آپکی ہیڈ لائینز بھی ذیادہ بنیں گی۔ لہذا انہیں ایک یا دوسرا فریق اپنے مقصد کے لئے استعمال تو کرے گا۔
اس معاملے پر سپریم کورٹ کے سینئیر وکیل قاضی مبین کہتے ہیں کہ بدقسمتی سے پاکستانی عوام کی نظر میں عدلیہ کا تاثر اچھا نہیں ہے اور اسی لئے عدلیہ پر عام آدمی کا اعتماد باقی نہیں رہا ہے۔ لہٰذا لوگ قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لبرل اور کنزرویٹو جج تو ساری دنیا میں ہوتے ہیں لیکن وہ حکومت کے حامی یا اپوزیشن کے حامی نہیں ہوتے بلکہ وہ قانون کی آزاد خیال یا قدامت پسندانہ توضیح کرتے ہیں۔ جبکہ پاکستان میں بعض ججوں کے بارے میں حکومت کے یا اپوزیشن کے حامی ہونے کا تاثر پیدا ہوتا ہے اور وہیں سے خرابی آنا شروع ہو جاتی ہے اور لوگ ان کے فیصلوں کو قانون کی بنیاد پر کئے جانے والے فیصلوں کی بجائے ان کی ذاتی پسند اور ناپسند پر مبنی فیصلے قرار دے کر ان پر تنقید شروع کر دیتے ہیں۔ اس لئے ہمارے عدالتی نظام میں تبدیلیوں کی اشد ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں:خام تیل کی قیمت ڈیڑھ سال کی کم ترین سطح پر آگئی
عدلیہ کے ناقدین کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں عدالتی نظام کی خرابی کی ایک بڑی وجہ ججوں کے اپنے احتساب کا فقدان بھی ہے۔ دنیا بھر میں اگر کسی جج کی غلط کاری ثابت ہو جائے تو اسے یہ نہیں کہا جاتا کہ تم استعفیٰ دے کر اور ساری مراعات لے کر گھر چلے جاؤ، اسے نشان عبرت بنا دیا جاتا ہے۔ لیکن پاکستان میں گنگا الٹی بہتی ہے اس لیے ہمارا نظام انصاف اپنی ساکھ کھو چکا ہے اور ایک مذاق بن چکا ہے۔
