پاکستانی جرنیل بہادر اور امریکی جرنیل بزدل کیوں؟

https://youtu.be/7KCs4fvkTy8
معروف تجزیہ کار عمار مسعود نے پاکستانی جرنیلوں کو بہادر اور امریکی جرنیلوں کو بزدل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے قوی امید ہے کہ اب تک پیارے پاکستانیوں کو اس بات کا ادراک ہو گیا ہو گا کہ امریکہ سے زیادہ بزدل فوج کوئی نہیں اور اس سے زیادہ ڈرپوک جنرل کسی اور فوج میں شاید ہی دستیاب ہوں۔ اس قیاس کے پیچھے رموز یہ ہیں کہ گزشتہ کئی دنوں سے سوشل میڈیا پر ایک وڈیو گردش کر رہی ہے جس میں ایک امریکی جنرل سینے پر ڈھیروں تمغے سجائے ہوئے بھیگی بلی بنے چند امریکی سینیٹرز کے روبرو پیش ہے اور اپنی درگت بنوا رہا ہے۔ بد زبان سینیٹرز کی جرات تو دیکھیے کہ نہ صرف کہ ایک جنرل سے سوال کر رہے ہیں بلکہ چند ایک نے تو اپنے جنرل کی بات کاٹنے کی گستاخی بھی کی، ستم یہ کہ چند بدبخت سینٹرز جنرل صاحب سے اونچی آواز میں بولنے کے گناہ گار بھی ہوئے، لیکن اس گناہ کبیرہ کا مرتکب ہونے کے باوجود وہ بزدل جرنیل تحمل سے رندھے گلے کے ساتھ ان دو ٹکے کے سینیٹرز کے گستاخانہ سوالات کا جواب دیتا رہا۔ حد تو یہ ہے کہ جب ایک بدزبان سینٹر نے نعوذ باللہ جنرل صاحب سے استعفے کا مطالبہ کیا تو بھی انہیں طیش نہیں آیا۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عمار مسعود کہتے ہیں کہ امریکی تاریخ کے اس نازک موقع پر نہ کسی کا مورال ڈاؤن ہوا، اور نہ ہی اداروں کے احترام کی بحث کا آغاز ہوا۔ نہ ملکی سلامتی خطرے میں پڑی، نہ ہی کسی نے جواب میں امریکی سینیٹرز کی کرپشن کے قصے عوام الناس کو سنوائے۔ عمار کہتے ہیں کہ کیا فائدہ دنیا کی سب سے بڑی اعر طاقت ور فوج کے جنرل ہونے کا، کیا فائدہ تمغوں سے بھری چھاتی کا، کیا فائدہ اتنی طاقت، اسلحے اور انٹیلی جنس کا، جب ایک جرنیل ان سینیٹرز کو منہ توڑ جواب نہ دے سکے، ان کو جمہوریت کے سبق کا عبرت ناک انجام نہ بتا سکے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ نہ صرف امریکی فوجی بزدل ہیں بلکہ ان میں دور اندیشی، جنگی حکمت عملی اور منصوبہ بندی کا بھی فقدان پایا جاتا ہے۔ اس وڈیو کو آئے کئی دن بیت گئے لیکن ابھی تک کسی ایک سینیٹر کی بھی کوئی نازیبا وڈیو منظر عام پر نہیں آئی، ابھی تک ان شبینہ داستانوں کے قصے میڈیا پر زبان زد عام نہیں ہو سکے، ابھی تک کسی سینیٹر نے شمالی علاقہ جات کی سیر نہیں کی، ابھی تک کسی کی بیوی، بیٹی کا کوئی سیکنڈل سوشل میڈیا کو گرما نہیں رہا۔ یہ بزدلی نہیں تو اور کیا ہے؟ یہ تھڑ دلی نہیں تو اور کیا ہے؟ یہ فرائض سے غفلت نہیں تو اور کیا ہے؟ یہ کام چوری نہیں تو اور کیا ہے؟

عمار مسعود کہتے ہیں کہ ہم نے امریکہ کو ماضی میں بہت سبق سکھائے ہیں۔ انھیں اسباق کے آموختے کی باز گشت اب امریکی سینٹ میں سنائی دے رہی ہے، بائیس سینیٹرز اکٹھے ہو کر ہمارے ماضی کی جارحانہ اور حکیمانہ حکمت عملی پر بحث کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ سنا ہے ہمارے جذبہ ایمانی سے لبریز افغان جہاد پر خرچ ہونے والی رقم پر بھی ”رسیداں کڈو“ کا نعرہ لگانے کو تیار ہیں، اس طرح کی گفتگو بزدل قوموں کی نشانی ہے، ہمارے ہاں کسی کی ایسی جرات نہیں کہ کسی حاضر سروس جنرل سے تو کجا کسی ریٹائر جنرل سے بھی ایسا احمقانہ سوال کر سکے، ہمارے ہاں اپنے جرنیل اتنے دلیر اور شجیع ہیں کہ ان سے کسی کو نہ تو سینٹ میں سوال کرنے کی جرات ہوئی، نہ ہی اسمبلی اراکین کو کبھی اتنی ہمت ہوئی ہے، نہ عدالتیں اس کفر کی کبھی مرتکب ہوئی ہیں، نہ ہی میڈیا سے کبھی ایسی گستاخی سرزد ہوئی۔ حالاں کہ اس کے لیے کچھ زیادہ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی بس رعب داب، شو شا ہی کافی ہوتی ہے، اکثر تو ”دبکا“ لگانے سے ہی کام بن جاتا ہے۔

عمار کہتے ہیں کہ نواز شریف کے مطابق 1999 میں بغاوت کے وقت بارہ فوجی بندوقیں تانے ان کے بیڈروم میں داخل ہوئے۔ ان جوانوں کی دلیرانہ قیادت جنرل محمود احمد اور جنرل اورکزئی کے سپرد تھی، ان بہادر جوانوں نے اپنی قیادت کے ہمراہ منتخب وزیر اعظم سے فوری استعفی مانگا اور بس اسمبلیاں توڑنے کا معمولی سا مطالبہ کیا۔ نواز شریف کو دلیری کے اس شان دار مظاہرے کے بعد اسمبلیاں توڑ دینی چاہیں تھیں، وزارت عظمٰی سے فی الفور دستبردار ہو جانا چاہیے تھا مگر میاں صاحب ضد پر آ گئے اور ”میں نہ مانوں“ کی رٹ لگا دی۔ بہادر اور دلیر لوگ پہلے ہی اس مرحلے کی منصوبہ بندی کر چکے تھے۔ نواز شریف کو جیل میں ڈالا، ہائی جیکنگ کا مقدمہ بنایا، وطن بدر کیا اور جنرل مشرف جیسے سورما کو عنان حکومت سونپ دیا۔ بس پھر کیا تھا ایک معجزے سے عدالتیں بھی راہ راست پر آ گئیں، میڈیا بھی سر بسجود ہو گیا، اسمبلی بھی تحلیل ہو گئی، صدر نے بھی ایوان صدر سے رخصت چاہی، پی ٹی وی نے مٹھائیاں تقسیم کرنے کے وڈیو چلائی، آئین ردی کی ٹوکری میں گیا اور ”جاگ اٹھا ہے پاکستان“ کے ایمان افروز نغموں سے پی ٹی وی گونج اٹھا۔

عمار مسعود کے مطابق بس یہی معمولی سی بات امریکہ کے بزدل جرنیلوں کو بھی سیکھنی چاہیے کہ حکمت عملی، منصوبہ بندی اور جنگی چالوں سے لمحوں میں سویلین بالادستی جیسی فروعی چیزوں کا نقشہ بدلا جا سکتا ہے، بارہ مسلح لوگوں سے انقلاب لایا جا سکتا ہے، آئین کو ردی کی ٹوکری کی نذر کیا جا سکتا ہے، عدالتوں کو من مانے فیصلت دینے پر مجبور کیا جا سکتا ہے، میڈیا کو واٹس ایپ سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے، سیاست دانوں کو مصلوب کیا جا سکتا ہے، ذرا سی جرات سے انکی وطن بدری کے احکامات جاری کیے جا سکتے ہیں، سیاسی جماعتوں پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔ لیکن لگتا ہے امریکی جنرل بزدل ہونے کے ساتھ کام چور بھی ہیں، جو ہمارے ہاں ہوتا ہے اس میں کچھ محنت زیادہ کرنا پڑتی ہے، دور اندیشی درکار ہوتی ہے، برسوں ڈرائنگ رومز میں منصوبہ بندی کرنا پڑتی ہے، کہیں دور نہاں خانوں میں ریہرسل درکار ہوتی ہے، لیکن امریکی جنرل ابھی تک اس محنت شاقہ سے کترا رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ ٹکے ٹکے کے سینیٹرز ان کے منہ کو آتے ہیں، ان کو احتساب سے ڈراتے ہیں، ان سے حساب مانگتے ہیں۔

عمار کہتے ہیں کہ ہم سے تو آج تک یہ گناہ سرزد نہیں ہوا کہ کسی فوجی آپریشن کا حساب مانگیں اور پوچھیں کہ کتنے خرچ ہوئے، کتنے بچ گئے۔ سیلاب زدگان کی مدد کی مد میں کیا وصول پایا، کیا خرچ ہوا، ٹڈی دل کی روک تھام میں ”کھاتے“ کیا بتاتے ہیں۔ سیدھی سی بات ہے ہم بنیے تھوڑی ہیں جو حساب کتاب رکھیں، ہمارا کام جنگ کرنا ہے چاہے وہ آئین سے ہو، چاہے وہ عوامی نمائندوں سے ہو یا چاہے اس کا ”ٹارگٹ“ اپنے ہی عوام کیوں نہ ہوں۔ ہمارے جرنیلوں کو کیا لگے اس دنیاوی حساب کتاب سے، وہ تو جذبہ ایمانی سے لبریز، شوق شہادت میں مارشل لاء لگاتے ہیں، جان ہتھیلی پر رکھ کر سرینا ہوٹل سے شاپروں میں فیصلے لے کر آتے ہیں، میڈیا کے ایک ایک فریم پر نظر رکھنے کا دقیق فریضہ سر انجام دیتے ہیں، غدار صحافیوں کے ٹویٹس کی مانیٹرنگ کرتے ہیں، اپنے خرچوں پر بد زبانوں اور گستاخوں کو شمالی علاقہ جات کی سیر کرواتے ہیں۔

ہمارے لوگوں کو امریکی جرنیلوں کی اس قبیح مثال سے متاثر ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں۔ جناب والا۔ آپ اپنے فیصلوں میں خود مختار ہیں، یہ وطن آپ کا ہے، آپ کے لیے ہی بنا ہے، یہاں کسی کی جرات نہیں کہ آپ سے سوال کر سکے، یہاں حکومت بھی آپ کی منشا کے بغیر سانس نہیں لیتی، اپوزیشن بھی آپ کا دل لبھانے کے بہانے تلاش کرتی ہے، سینٹ بھی اپنے چیئرمین کے انتخاب کے لیے آپ کی مرہون منت ہے، عدالتیں بھی آپ کے آگے سرنگوں ہیں۔ ایسے میں عمار مسعود اس ملک کے اصل حکمرانوں کو یہ مفت مشورہ بھی دیتے ہیں کہ حضور آپ کا اقبال بلند ہو! آپ یہ آئین وغیرہ کی بحث میں نہ پڑا کریں، کیونکہ پاکستان کے 22 کروڑ خدام کو آپ کا ہر فیصلہ بغیر کسی چوں چراں کے منظور ہے۔

Back to top button